کپواڑہ: ڈپٹی کمشنر کپواڑہ شری ابھیشیک شرما نے آج ضلع کی میڈیا برادری کے اراکین کے ساتھ ایک تعارفی و تبادلۂ خیال اجلاس کی صدارت کی۔ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سینٹر (DIC) کپواڑہ کے زیرِ اہتمام منعقدہ اس اجلاس کا مقصد عوامی مفاد پر مبنی حکمرانی کو فروغ دینے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور صحافت سے وابستہ افراد کے درمیان تال میل کو مزید مضبوط بنانا تھا۔
اس اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گلزار احمد، اسسٹنٹ کمشنر ریونیو پیرزادہ ممتاز احمد، ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر عادل منظور وانی کے علاوہ پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ سینئر صحافیوں اور نامہ نگاروں نے شرکت کی۔
کپواڑہ میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے پر میڈیا برادری نے ڈپٹی کمشنر کا خیرمقدم کیا اور صحافیوں کے ساتھ فوری طور پر تعارفی اجلاس منعقد کرنے کے اقدام کو سراہا۔ اس موقع پر صحافیوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی مدتِ کار کے دوران ضلع میں عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے انتظامیہ کو زمینی سطح پر اپنی صحافتی سرگرمیوں، درپیش مشکلات اور بہتر رپورٹنگ کے لیے درکار سہولیات سے بھی آگاہ کیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ابھیشیک شرما نے کہا کہ شمالی کشمیر، بالخصوص کپواڑہ، اپنی مضبوط علمی و فکری روایت کے لیے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملاقات کا مقصد زمینی سطح پر عوام کو درپیش مسائل کا براہِ راست جائزہ لینا ہے۔ انہوں نے مشکل حالات، خراب موسم اور قدرتی آفات کے دوران بھی صحافیوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ صحافی عوامی مشکلات اور حقیقی مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر نے میڈیا برادری پر زور دیا کہ وہ ضلع کی ترقی میں ایک اہم شراکت دار کا کردار ادا کرے۔ انہوں نے صحافیوں کو یقین دلایا کہ انتظامیہ ان کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کو محض انتظامی معاملات کے طور پر پیش کرنے کے بجائے، ان کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں اور باہمی تعاون کو فروغ دیا جانا چاہیے تاکہ معاشرے کو ترقی کی راہ پر آگے بڑھایا جا سکے۔
اس سے قبل ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گلزار احمد اور اسسٹنٹ کمشنر ریونیو پیرزادہ ممتاز احمد نے عوامی فلاح و بہبود میں میڈیا کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ تعمیری تنقید مؤثر حکمرانی کو یقینی بنانے اور انتظامی نظام میں بہتری لانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
اجلاس کے اختتام پر انتظامیہ اور میڈیا کے درمیان رابطے کے نظام کو مزید مؤثر بنانے اور پریس کے ذریعے اجاگر کیے جانے والے عوامی مسائل کے فوری ازالے کو یقینی بنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز اور خیالات کا تبادلہ کیا گیا۔

