• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Thursday, October 15, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (32)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
October 15, 2026
in اردو خبریں
A A
ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (32)
FacebookTwitterWhatsapp

کمرے میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ ہماری گفتگو برزہوم کے آثار سے شروع ہوئی تھی، مگر اب سوال یہ تھا کہ ان قدیم باشندوں کی زبان کیا تھی اور موجودہ کشمیری زبان تک پہنچنے کے لیے ہمیں کن شواہد سے مدد لینی ہوگی۔
مشتاق احمد مشتاق نے تکییے سے ٹیک لگاتے ہوئے پوچھا:
’’سالک صاحب! ہم نے یہ تو مان لیا کہ کشمیر میں انسان بہت قدیم زمانے سے آباد ہے اور مختلف ادوار میں یہاں لوگوں کی آمدورفت بھی ہوتی رہی، لیکن ان لوگوں کی زبان کیا تھی؟‘‘
شوکت شفیع نے فوراً کہا:
’’بس، اب اصل مسئلہ شروع ہوا!‘‘
سب ہنس پڑے۔
’’بالکل،‘‘ میں نے کہا، ’’کیونکہ آثارِ قدیمہ ہمیں گھر، اوزار، ہڈیاں اور برتن تو دے سکتے ہیں، لیکن برزہوم کی کھدائی سے ابھی تک ایسا کوئی کتبہ نہیں ملا جس پر درج ہو کہ یہاں کے لوگ کون سی زبان بولتے تھے۔‘‘
سنبھلی صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا:
’’اگر ایسا کتبہ مل جائے تو سالک، تمہاری آدھی تحقیق آسان ہو جائے گی۔‘‘
’’اور شاید ہماری آدھی محفل بھی ختم ہو جائے!‘‘ میں نے جواب دیا۔
محفل میں پھر ہنسی پھیل گئی۔
میں نے بات آگے بڑھائی:
’’زبان کی تاریخ جاننے کے لیے ہمیں اس کے آثار دوسری جگہوں پر تلاش کرنے پڑتے ہیں.۔قدیم متون، مقامی ناموں، قدیم الفاظ، قواعد اور دوسری زبانوں سے اس کی مماثلتوں میں۔ یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ مختلف زبانوں کے بولنے والوں کے رابطوں سے ان کی زبانوں میں کیا تبدیلیاں آئیں۔‘‘
شبیر بانہالی نے پوچھا:
’’تو کیا آج کی کشمیری زبان کا مطالعہ کرکے ہم اس کے قدیم ماضی تک پہنچ سکتے ہیں؟‘‘
میں نے جواباً عرض کیا ۔
شبیر صاحب ۔آپ کے سوال کے جواب دینے سے پہلے ایک اہم پڑاو کو سمجھنا لازمی ہے۔
اس پر شبیر بانہالی نے برجستہ کہا:
’’سالک صاحب! آپ ہر پانچ منٹ بعد ایک نئے پڑاؤ کی بات کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے، ہم زبان کی تلاش میں نکلے ہیں یا کسی پہاڑی راستے پر چڑھ رہے ہیں جہاں ہر موڑ پر ایک نئی منزل ہمارا انتظار کر رہی ہے!‘‘
یہ سنتے ہی سب مسکرانے لگے۔
’’آپ کی بات میں وزن ہے، شبیر صاحب!‘‘ میں نے مسکرتے ہوئے کہا،
’’لیکن تاریخ اور زبان کی تحقیق میں کبھی کبھی آگے بڑھنے کے لیے پیچھے بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ اگر ہم قدیم کشمیر کے سماجی اور ثقافتی ماحول کو سمجھے بغیر سیدھے زبان کی ابتدا پر پہنچ جائیں تو ممکن ہے بعض اہم کڑیاں نظرانداز کر دیں۔‘‘
مشتاق احمد مشتاق نے دلچسپی سے پوچھا:
’’تو پھر اس مرحلے پر ہمیں کیا دیکھنا ہوگا؟‘‘
’’قدیم کشمیر کے لوگوں، ان کے پڑوسی علاقوں اور باہمی روابط کو۔ اس سلسلے میں آثارِ قدیمہ کے ساتھ قدیم متون بھی ہماری مدد کرتے ہیں۔ ان میں نیلمت پران ایک اہم ماخذ ہے، جس میں کشمیر کی مذہبی روایات، رسوم، دریاؤں، مقدس مقامات اور مختلف قبائل کا ذکر ملتا ہے۔ البتہ اسے محض تاریخی واقعات کی کتاب سمجھنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں مذہبی اور اساطیری تصورات بھی شامل ہیں۔‘‘
میں نے ذرا توقف کے بعد کہا:
’’نیلمت پران میں ناگوں اور پشاچوں کے علاوہ درو، ابھسار، گندھار، جوہندر، شک، کھش یا کھاسی، تنگن، منڈو، مدر، انترگری اور بہرگری جیسے نام بھی ملتے ہیں۔ ان میں سے بعض کو وادیٔ کشمیر اور بعض کو اس کے گردوپیش کے علاقوں سے متعلق سمجھا گیا ہے۔ ان ناموں کی مدد سے ہم قدیم کشمیر کے وسیع تر علاقائی اور ثقافتی پس منظر کو سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔‘‘
شوکت شفیع نے فوراً سوال کیا:
’’سالک ذرا ٹھہرو! کیا یہ سب قبیلے کشمیر میں آباد تھے؟‘‘
’’نہیں، ایسا کہنا درست نہیں ہوگا۔ کسی متن میں کسی قبیلے کا ذکر ملنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ لازماً وادیٔ کشمیر میں آباد تھا۔ بعض ناموں کا تعلق پڑوسی علاقوں سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں ہر نام کے تاریخی اور جغرافیائی پس منظر کو الگ سے دیکھنا ہوگا۔‘‘
مشتاق احمد مشتاق نے کہا:
’’مثلاً گندھار تو ایک معروف قدیم خطے کا نام ہے، لیکن کھش یا کھاسی کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے؟‘‘
میں نے جواب دیا:
’’کھش یا کھاسی کا نام شمال مغربی اور ہمالیائی علاقوں کی تاریخی بحثوں میں سامنے آتا ہے۔ تاہم، کسی قدیم قبیلے کو آج کے کسی مخصوص نسلی گروہ سے جوڑنے کے لیے صرف نام کی مماثلت کافی نہیں۔ اس کے لیے تاریخی تسلسل، جغرافیائی شواہد اور دوسری متعلقہ شہادتوں کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔‘‘
شبیر بانہالی نے پوچھا:
’’لیکن سالک صاحب، نیلمت پران میں جن ناگوں کا ذکر ہے، کیا وہ کسی قدیم انسانی قبیلے کی طرف اشارہ کرتے ہیں؟‘‘
میں نے وضاحت کی:
’’اس کا جواب ہر مقام کے سیاق کو دیکھ کر ہی دیا جا سکتا ہے۔ نیلمت پران میں ناگوں کا ذکر مذہبی روایات اور اساطیری قصوں میں بھی ملتا ہے۔ اس لیے ہر جگہ ناگوں سے مراد کسی انسانی قبیلے کو سمجھ لینا درست نہیں ہوگا۔ ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ متن میں ان کا ذکر کس حوالے سے آیا ہے اور کیا دوسری تاریخی شہادتیں بھی اس تشریح کی تائید کرتی ہیں۔‘‘
شبیر بانہالی نے بات آگے بڑھائی:
’’یعنی کسی قدیم قبیلے کی شناخت ہوجانے سے اس کے بارے میں تمام معلومات حاصل نہیں ہو جاتیں؟‘‘
’’بالکل!‘‘ میں نے کہا، ’’کسی قبیلے کا نام معلوم ہونا اور اس کی مکمل تاریخی شناخت تک پہنچنا دو الگ باتیں ہیں۔ ہمیں اس کے جغرافیائی تعلق، تاریخی تسلسل اور دوسری آبادیوں کے ساتھ روابط کو بھی سمجھنا ہوگا۔‘‘
مشتاق احمد مشتاق نے پوچھا:
’’لیکن آپ نے قدیم کشمیر کے جغرافیائی دائرے کی بات بھی کی تھی۔ اس کا زبان کی تحقیق سے کیا تعلق ہے؟‘‘
’’گہرا تعلق ہے۔ زبانیں کسی بند خانے میں پروان نہیں چڑھتیں۔ ان کے بولنے والوں کی نقل مکانی، تجارت، ہمسایہ آبادیوں سے میل جول اور ثقافتی روابط زبانوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس لیے کشمیری زبان کے قدیم پس منظر کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس خطے کے تاریخی ماحول کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔‘‘
میں نے بات جاری رکھی:
’’آج کشمیر کا نام لیتے ہیں تو ہمارے ذہن میں ایک متعین جغرافیائی نقشہ آتا ہے، لیکن قدیم زمانے میں کسی خطے کی ثقافتی شناخت، سیاسی حدود اور لوگوں کے روابط لازماً ایک دوسرے کے مطابق نہیں ہوتے تھے۔ اس لیے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم کس زمان ومکان کی بات کر رہے ہیں اور اس زمانے کے بارے میں ہمارے پاس کس نوعیت کے شواہد موجود ہیں۔‘‘
شبیر بانہالی نے کہا:
’’یعنی جس کشمیر کا ذکر نیلمت پران میں ہے، ضروری نہیں کہ اس کی حدود وہی ہوں جو آج ہمارے نقشے میں ہیں؟‘‘
’’بالکل!‘‘ میں نے جواب دیا،
’’نیلمت پران میں وادیٔ کشمیر کے ساتھ اس کے گردوپیش کے علاقوں اور مختلف مقامات کا ذکر بھی ملتا ہے۔ گندھار، ابھسار اور مدر جیسے نام ہمیں اس وسیع علاقائی پس منظر کی طرف متوجہ کرتے ہیں جس میں قدیم کشمیر کے لوگوں کے روابط قائم تھے۔ تاہم، ان روابط کی نوعیت اور ان علاقوں کی حدود کا تعین کرنے کے لیے ہمیں ہر عہد کے شواہد الگ الگ دیکھنے ہوں گے۔‘‘
شبیر بانہالی نے بڑی معصومیت سے کہا:
’’سالک صاحب، آپ تو قدیم کشمیر کا جغرافیہ گندھار تک لے گئے! اب وہاں سے واپس آتے آتے کہیں رات ہی نہ ختم ہو جائے!‘‘
سب ہنس پڑے۔
’’شبیر صاحب، آپ فکر نہ کریں۔ ہم ہر قبیلے کے پیچھے نہیں جائیں گے، بس اتنا دیکھیں گے کہ ہمارے اصل سوال تک پہنچنے کے لیے کن باتوں کو سمجھنا ضروری ہے۔‘‘
میں نے قدرے سنجیدہ لہجے میں کہا:
’’اب اس پوری بحث کو زبان کے تناظر میں دیکھیے۔ اگر قدیم کشمیر میں ماقبلِ آریائی دور(Pre-Aryan Period) کے دوران مختلف قبائل آباد تھے اور ان کے پڑوسی خطوں کے ساتھ روابط بھی تھے تو یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ وہ کون سی زبانیں بولتے تھے اور آپس میں رابطے کے لیے کس زبان کا استعمال کرتے تھے۔ تاہم، فی الحال یہ سوالات ہیں، ثابت شدہ نتائج نہیں۔ محض کسی قبیلے کے نام یا کسی قدیم روایت کی بنیاد پر اس کی زبان کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ایسے لسانی شواہد درکار ہیں جو ان قبائل کی زبانوں کے بارے میں کسی مستند نتیجے تک پہنچنے میں ہماری مدد کر سکیں۔‘‘
ڈاکٹر شفیع سنبھلی نے میری بات کی تائید کرتے ہوئے کہا:
’’یعنی ہمیں انسانی آبادکاری کی تاریخ اور زبان کی تاریخ میں فرق ملحوظ رکھنا ہوگا؟‘‘
’’بالکل!‘‘ میں نے کہا، ’’کشمیر میں انسانی آبادکاری کے قدیم آثار ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ موجودہ کشمیری زبان بھی اسی زمانے سے اپنی موجودہ یا کسی قابلِ شناخت صورت میں بولی جا رہی تھی۔ کسی علاقے میں انسانوں کی موجودگی اور کسی مخصوص زبان کے وہاں بولے جانے کے ثبوت دو الگ چیزیں ہیں۔ ان کے درمیان تعلق قائم کرنے کے لیے متعلقہ شواہد درکار ہوتے ہیں۔‘‘
مشتاق احمد مشتاق نے تکییے سے ذرا آگے ہوتے ہوئے کہا:
’’اچھا، اب یہ بتائیے کہ موجودہ کشمیری زبان کی ساخت اور اس کے قدیم الفاظ سے ہم اس کے ابتدائی لسانی پس منظر کے بارے میں کچھ جان سکتے ہیں؟‘‘
میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:
’’اب آپ ہمارے اصل سوال کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ کسی زبان کی تاریخ جاننے کے لیے ہمیں اس کے الفاظ، آوازوں، قواعد اور دوسری زبانوں کے ساتھ اس کے تعلقات کا مطالعہ کرنا پڑتا ہے۔ بعض قدیم الفاظ زبان کے ماضی کے بارے میں اہم اشارے دے سکتے ہیں، لیکن ہر قدیم یا غیر مانوس لفظ کو کسی نامعلوم زبان کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے لیے باقاعدہ لسانی تجزیہ ضروری ہے۔‘‘
شبیر بانہالی نے فوراً کہا:
’’تو پھر اب ہمیں کشمیری زبان کی طرف لے ہی چلیں۔ مزید کسی پڑاؤ کا ذکر نہ کیجیے گا!‘‘
سب کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
میں نے کہا:
’’اس بار کوشش یہی ہوگی۔ سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کشمیری زبان کا تعلق کس بڑے لسانی خاندان سے ہے، اس کی ہم عصر زبانیں کون سی ہیں اور ماہرینِ لسانیات اس کے قدیم پس منظر کو سمجھنے کے لیے کن شواہد سے کام لیتے ہیں۔ ”
مشتاق احمد مشتاق نے کہا:
’’یعنی اب بحث قبائل اور جغرافیے سے نکل کر زبان کے اپنے شواہد تک پہنچے گی؟‘‘
’’جی ہاں،‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’آثارِ قدیمہ ہمیں انسانی زندگی کے مادی پہلوؤں سے روشناس کراتے ہیں، تاریخی متون ماضی کی روایات اور تصورات سے آگاہ کرتے ہیں، جب کہ لسانیات زبان کے اپنے شواہد کی مدد سے اس کے ارتقا اور دوسری زبانوں کے ساتھ تعلقات کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ جب ان مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی شہادتیں ایک دوسرے کی تائید کریں تو ہماری تحقیق زیادہ مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہو سکتی ہے۔‘‘
’’کمرے میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔ سب کی نظریں میری طرف تھیں، جیسے اب وہ اگلی بات سننے کے منتظر ہوں۔‘‘ (جاری)

Previous Post

Dr. Satish Poonia Holds Introductory Meeting with BJP Leadership in Jammu

Next Post

3 J&K Khelo India Soft Tennis players to represent India at World Championship in China

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Next Post
3 J&K Khelo India Soft Tennis players to represent India at World Championship in China

3 J&K Khelo India Soft Tennis players to represent India at World Championship in China

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.