• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Friday, October 16, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (33)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
October 16, 2026
in اردو خبریں
A A
ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (33)
FacebookTwitterWhatsapp

نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی اور ہماری گفتگو کشمیری زبان کے آغاز کی سمت بڑھتی جا رہی تھی۔ رات گہری ہو چکی تھی، مگر ذہن میں اٹھنے والے سوالات کی روشنی مدھم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ شاید اس احساس نے ہمیں بیدار رکھا تھا کہ ہم ایک ایسی منزل کے قریب پہنچ رہے ہیں جس کی تلاش میں اب تک تاریخ کے کئی راستوں سے گزر چکے تھے۔ برزہوم کی خاموش قبروں سے شروع ہونے والا سفر اب زبان کے ان قدیم رشتوں تک پہنچنے والا تھا جن کے سرے وقت کی دھند میں کہیں گم ہو گئے تھے۔
میں نے سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا:
’’آج کی کشمیری زبان کو ہزاروں سال پہلے کی زبان کی وہی صورت سمجھ لینا درست نہیں ہوگا۔ موجودہ کشمیری ایک طویل تاریخی عمل کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کی ابتدائی لسانی بنیادوں تک کیسے پہنچا جائے؟‘‘
شوکت شفیع نے فوراً کہا:
’’اور وہی تو ہم جاننا چاہتے ہیں۔‘‘
’’تو پھر ہمیں مختلف امکانات کا جائزہ لینا ہوگا،‘‘ میں نے کہا۔
شوکت شفیع نے بے ساختہ مداخلت کی:
’’This is not fair, سالک !تم بات کو پھر الجھا رہے ہو۔ اب نہ آثارِ قدیمہ کی طرف جاو، نہ قدیم قبائل کی طرف۔ ہم صرف کشمیری زبان کی بات کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
ان کی بات پر محفل میں ہلکی سی ہنسی پھیل گئی۔ میں نے ہاتھ اٹھا کر گویا ان کی شکایت تسلیم کی اور کہا:
’’اچھا جناب، آپ کی تنبیہ سر آنکھوں پر! اب ہم براہِ راست کشمیری زبان کے لسانی شواہد سے بات شروع کرتے ہیں۔‘‘
شوک شفیع کی دھمکی آمیز وارننگ کے بعد میں سیدھے موضوع کی طرف لوٹ آیا ۔
’’سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ موجودہ کشمیری زبان کا تعلق کس بڑے لسانی خاندان سے ہے۔ آج کے ماہرینِ لسانیات کشمیری کو عموماً ہند آریائی زبانوں کے ایک ایسے گروہ سے جوڑتے ہیں جسے دردی زبانوں کے تناظر میں بھی زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔
شبیر بانہالی نے کہا:
“اس کا مطلب ہے کہ ہمیں کشمیری زبان کے ڈانڈے داردستان میں ڈھونڈنے ہوں گے؟‘‘
’’جی ہاں،‘‘ میں نے جواب دیا، ’’لیکن داردستان کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس نام سے مراد کیا ہے۔‘‘
میں نے بات آگے بڑھائی:
’’انیسویں صدی میں جی۔ ڈبلیو۔ لیٹنر (G. W. Leitner) نے داردستان کے نام سے شمال مغربی برصغیر کے ایک وسیع پہاڑی خطے کا ذکر کیا۔ اس جغرافیائی تصور میں کشمیر کے شمال مغربی علاقے، گلگت، چترال، وادیٔ سندھ کے بالائی حصے اور کابل کی سمت کے بعض پہاڑی علاقے شامل تھے۔ اس خطے میں بولی جانے والی مختلف زبانوں کو عموماً دردی زبانیں (Dardic Languages) کہا جاتا ہے، جبکہ ان کے بولنے والے گروہوں کے لیے دردی اقوام یا دردی گروہ (Dardic peoples) کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ لیٹنر نے اپنی کتاب The Languages and Races of Dardistan میں اس خطے کی زبانوں اور ان کے بولنے والے گروہوں کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔‘‘
مشتاق احمد مشتاق نے پوچھا:
’’کیا اس خطے میں بولی جانے والی زبانوں کے درمیان کوئی لسانی رشتہ بھی ہے؟‘‘
میں نے جواب دیا:
’’جی ہاں، ان میں بعض لسانی مماثلتیں پائی جاتی ہیں، لیکن ان مماثلتوں کی نوعیت اور ان کی بنیاد پر زبانوں کی درجہ بندی ایک الگ علمی مسئلہ ہے۔ لیٹنر نے داردستان کے حوالے سے مختلف زبانوں اور ان کے بولنے والے گروہوں کا ذکر کیا، تاہم محض ایک جغرافیائی خطے میں ان زبانوں کے پائے جانے سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ سب ایک ہی لسانی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ اس کے لیے تقابلی لسانیات اور تاریخی شواہد کی مدد لینا ضروری ہے۔‘‘
شوکت شفیع نے کہا:
’’اچھا، پھر گریرسن کا اس معاملے میں کیا کردار ہے؟‘‘
میں نے جواب دیا:
’’ گریرسن نے اپنی Linguistic Survey of India میں برصغیر کی زبانوں کا تقابلی مطالعہ کیا۔ 1919ء میں شائع ہونے والی اس کی آٹھویں جلد کے دوسرے حصے میں دردی یا پیشاچی زبانوں کے عنوان کے تحت کشمیری سمیت متعدد زبانوں کے نمونے اور ان کی خصوصیات درج کی گئیں۔ اس کی درجہ بندی میں کشمیری کے ساتھ شینا، کھوار، پشائی، کلاشہ اور دوسری زبانوں کا ذکر بھی ملتا ہے۔‘‘
شبیر بانہالی نے فوراً کہا:
’’یعنی گریرسن نے کشمیری کو دردی زبانوں میں شامل کیا ہے؟‘‘
’’جی ہاں، لیکن یہاں ایک باریک فرق سمجھنا ضروری ہے۔ گریرسن کی درجہ بندی اپنے زمانے کی لسانی تحقیق کے تناظر میں مرتب کی گئی تھی۔ آج بھی کشمیری کو ہند آریائی زبان تسلیم کیا جاتا ہے اور اس کا مطالعہ دردی زبانوں کے تناظر میں بھی کیا جاتا ہے۔ تاہم، جدید لسانیات میں دردی زبانوں کی حیثیت اور دوسری ہند آریائی زبانوں کے ساتھ ان کے تاریخی و جینیاتی تعلقات کے بارے میں بحث جاری ہے۔ اس لیے گریرسن کی درجہ بندی کو ایک تاریخی لسانیاتی کوشش کے طور پر دیکھنا چاہیے، نہ کہ ایک ایسی حتمی درجہ بندی کے طور پر جس کے تمام پہلوؤں پر آج بھی اتفاقِ رائے پایا جاتا ہو۔‘‘
شفیع سنبھلی صاحب نے پوچھا:
’’اگر دردی زبانوں کی درجہ بندی میں اختلاف موجود ہے تو پھر کشمیری کا دوسری زبانوں کے ساتھ تعلق کیسے سمجھا جائے؟‘‘
’’اس کے لیے ہمیں تقابلی لسانیات (Comparative Linguistics) کا سہارا لینا ہوگا۔ محض یہ دیکھنا کافی نہیں کہ دو زبانوں کے الفاظ ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ ہمیں ان کی آوازوں، الفاظ کی ساخت، قواعد اور تاریخی صوتی تبدیلیوں کا باقاعدہ تقابل کرنا پڑتا ہے۔ اس مطالعے سے یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ دو زبانوں میں پائی جانے والی مماثلت محض اتفاقی ہے، ایک زبان سے دوسری زبان میں الفاظ کے انتقال کا نتیجہ ہے یا کسی مشترک قدیم زبان سے وراثت میں ملی ہے۔‘‘
مشتاق احمد مشتاق نے پوچھا:
’’یعنی ہم ریشہ زبانوں کا معاملہ؟‘‘
’’بالکل!‘‘ میں نے کہا، ’’لسانیات میں انہیں Cognate Languages کہتے ہیں جو مختلف زبانوں میں کسی مشترک قدیم ماخذ سے وراثت میں ملے ہوں۔ جب ہم دو زبانوں کے مشترک ورثے کو دیکھتے ہیں تو ان کے الفاظ کے درمیان باقاعدہ صوتی مماثلتیں تلاش کرتے ہیں۔ اس طرح ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی کوئی مشترک لسانی جڑ بھی تھی یا نہیں۔‘‘
شوکت شفیع نے کہا:
’’تو پھر کشمیری کی ہم ریشہ زبانیں(Cognate Languages) کون سی ہیں؟‘‘
’’اس سوال کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ ہم کس سطح پر تقابل کر رہے ہیں۔ کشمیری کا تعلق ہند آریائی زبانوں سے ہے۔ اس کا شینا، کھوار، کلاشہ اور دوسری دردی زبانوں کے ساتھ تقابل بھی اہم ہے، لیکن ان تمام زبانوں کو کشمیری کی ہم ریشہ زبانیں کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سب براہِ راست کشمیری سے نکلی ہیں یا سب ایک ہی درجے میں اس کے قریب ہیں۔ ہمیں ان کے مشترک ورثے، الگ الگ ارتقا اور باہمی اختلافات کو الگ الگ دیکھنا ہوگا۔‘‘
مشتاق احمد مشتاق نے پوچھا:
’’کیا اسی تقابل سے ہم اس زبان تک پہنچ سکتے ہیں جس سے یہ سب زبانیں نکلی ہوں؟‘‘
’’اصولی طور پر، ہاں۔ اگر مختلف زبانوں میں مشترک قدیم خصوصیات کے کافی شواہد موجود ہوں تو ماہرینِ لسانیات ان کی مدد سے ایک ایسی ابتدائی زبان کی صورت اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو آج براہِ راست بولی نہیں جاتی، لیکن جس کے کچھ آثار اس کی جانشین زبانوں میں محفوظ رہتے ہیں۔ اسی مفروضہ جاتی ابتدائی زبان کو Proto-language کہا جاتا ہے۔‘‘
شبیر بانہالی نے کہا:
’’یعنی ایک ایسی زبان جس کا کوئی مکمل تحریری ریکارڈ ہمارے پاس نہ ہو، لیکن اس کی کچھ خصوصیات ہم بعد کی زبانوں سے اخذ کر سکیں؟‘‘
’’بالکل!‘‘ میں نے کہا، ’’لیکن یہاں بھی احتیاط ضروری ہے۔ پروٹو زبان کی تعمیر محض اندازے سے نہیں ہوتی۔ اس کے لیے مختلف زبانوں کے مشترک الفاظ، آوازوں کی باقاعدہ تبدیلیوں، قواعد اور دوسری لسانی خصوصیات کا تقابلی مطالعہ کیا جاتا ہے۔ جب ان شواہد سے کسی قدیم صورت کی تشکیل ممکن ہو تو اسے ایک بازتعمیر شدہ صورت کہا جاتا ہے۔‘‘
شوکت شفیع نے پوچھا:
’’کیا کشمیری زبان کی پروٹو فارم کے بارے میں کچھ کہہ سکتے ہیں ۔
میں نے جواب دیا:
’’کشمیری زبان کی تاریخ میں اس کی قدیم لسانی صورتوں اور بازتعمیر شدہ الفاظ کا مطالعہ یقیناً کیا جا سکتا ہے، لیکن ایک مکمل اور متفق علیہ ’پروٹو کشمیری‘ زبان کی ایسی مستند تصویر ہمارے سامنے موجود نہیں جسے بلااحتیاط کشمیری زبان کا قطعی نقطۂ آغاز قرار دیا جا سکے۔‘‘
شبیر بانہالی نے مسکراتے ہوئے کہا:
’’یعنی یہاں بھی منزل تو موجود ہے، لیکن اس تک پہنچنے کا راستہ ابھی پوری طرح واضح نہیں!‘‘
’’کچھ ایسا ہی سمجھ لیجیے،‘‘ میں نے جواب دیا، ’’اور اب ہمیں اس سے بھی پیچھے جانا ہوگا۔ کیونکہ کشمیری زبان کے قدیم پس منظر پر گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا اس خطے میں آریائی زبانوں کے پھیلاؤ سے پہلے کوئی دوسری مقامی زبان یا زبانیں بولی جاتی تھیں؟‘‘
اس بار مشتاق احمد مشتاق نے فوراً سوال کیا:
’’اور اگر ایسی زبانیں موجود تھیں تو کیا ان کے آثار آج کی کشمیری زبان میں محفوظ ہو سکتے ہیں؟‘‘
میں نے تجسس بھرے انداز میں بات کو سمیٹنے کی کوشش کی ۔
’’ایک بات تو طے ہے کہ جب برزہوم کے آثارِ قدیمہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وادیٔ کشمیر میں تین ہزار قبل مسیح میں بھی لوگ آباد تھے تو یقیناً وہ بول چال کے لیے کسی نہ کسی زبان کا استعمال بھی کرتے ہوں گے۔ اب رہا سوال کشمیری زبان کو ہند آریائی خاندان سے جوڑنے کا، تو یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر وادیٔ کشمیر میں آریائی زبانوں کے رواج سے پہلے ہی انسانی آبادکاری موجود تھی اور یہاں کے باشندے ہزاروں برس سے مقیم تھے، تو ان کی زبان کا کیا ہوا؟ کیا موجودہ کشمیری زبان کی تشکیل میں اس قدیم زبان یا زبانوں کا بھی کوئی حصہ رہا ہے؟ اسی لیے کشمیری زبان کے قدیم تر لسانی پس منظر کو سمجھنے کے لیے اس کے ممکنہ پروٹو فارم (Proto-forms) کی تشکیلِ نو اور قدیم لسانی اثرات پر تحقیق کی اشد ضرورت ہے۔‘‘
اس بار ہمارے سامنے سوال صرف یہ نہیں تھا کہ موجودہ کشمیری زبان کہاں سے آئی، بلکہ اصل سوال یہ تھا کہ کشمیری زبان کے قدیم تر لسانی قالب، یعنی پروٹو فارم (Proto-form)، کو کن شواہد اور لسانیاتی طریقۂ کار کی مدد سے ازسرِنو تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ (جاری)

Previous Post

CM Omar Abdullah inaugurates projects, lays foundation stones worth ₹58.26 crore in Ganderbal

Next Post

کرناہ میں جے کے ٹی جے اے سی کی زونل باڈی تشکیل، محمد اسلم لون صدر ،فرید خان چیف پیٹرن مقرر

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Next Post
کرناہ میں جے کے ٹی جے اے سی کی زونل باڈی تشکیل، محمد اسلم لون صدر ،فرید خان چیف پیٹرن مقرر

کرناہ میں جے کے ٹی جے اے سی کی زونل باڈی تشکیل، محمد اسلم لون صدر ،فرید خان چیف پیٹرن مقرر

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.