کرناہ// جموں و کشمیر ٹیچرز جوائنٹ ایکشن کمیٹی (JKTJAC) زون ٹنگڈار نے تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے اور اساتذہ کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنے کے مقصد سے اپنی زونل باڈی کے عہدیداروں کو مختلف ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔ اس سلسلے میں 23 اگست 2026 کو باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق محمد اسلم لون کو زونل صدر جبکہ محمد فرید خان کو چیف پیٹرن مقرر کیا گیا ہے۔ شفقات رشید کو نائب صدر اور شعبۂ خواتین کی نائب صدر کی ذمہ داری شما ناز کو سونپی گئی ہے۔ اسی طرح منظور احمد بڈھانہ کو جنرل سیکریٹری اور عابدہ بشیر کو شعبۂ خواتین کی جنرل سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔
دیگر عہدیداروں میں شکیل حسین شاہ کو چیف آرگنائزر، عادل اسحاق کو سیکریٹری، روبینہ بانو کو جوائنٹ سیکریٹری، راجہ جمیل احمد خان کو چیف ترجمان اور طاہر بشیر وانی کو نائب ترجمان مقرر کیا گیا ہے۔ شازیہ فاروق کو شعبۂ خواتین کی ترجمان کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ تنظیمی امور کے لیے پرویز احمد خان کو چیف اکاؤنٹنٹ، خواجہ عبد القیوم کو اسسٹنٹ اکاؤنٹنٹ اور عروسہ فرید کو اکاؤنٹنٹ مقرر کیا گیا ہے۔ ظفر اقبال کو پبلسٹی سیکریٹری جبکہ سید افتخار حسین شاہ کو میڈیا و پبلسٹی سیکریٹری کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔اس کے علاوہ محمد ادریس بجاڑ کو چیف کنوینر، عظمت رزاق کو کنوینر، پروین اختر کو ڈپٹی کنوینر، محمد جاوید قریشی کو چیف ایڈوائزر اور محمد الیاس میر کو قانونی مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ تنظیمی امور میں معاونت کے لیے متعدد ایڈوائزرز اور ایگزیکٹو ممبران کو بھی شامل کیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن میں مختلف علاقوں، جن میں نواں گبرا/ہجترہ کنڈی، ٹنگڈار/کھواڑپارہ اور باغ بیلہ/ناچیاں شامل ہیں، کے لیے کلسٹر نمائندگان بھی نامزد کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ شعبۂ خواتین کے لیے ایگزیکٹو سربراہان اور دیگر ذمہ داران مقرر کیے گئے ہیں۔ ضلعی اور ریاستی سطح پر پہلے سے ذمہ داریاں انجام دینے والے ارکان کا ذکر بھی نوٹیفکیشن میں کیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق تمام عہدیداران سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اساتذہ برادری کے وسیع تر مفاد میں اپنی ذمہ داریاں دیانت داری، لگن اور نظم و ضبط کے ساتھ انجام دیں۔ نئی ذمہ داریاں نوٹیفکیشن کے اجرا کے ساتھ نافذ العمل ہوں گی اور تنظیم کے آئین و فیصلوں کے مطابق جاری رہیں گی۔تنظیم کے زونل صدر محمد اسلم لون کی جانب سے جاری کردہ اس نوٹیفکیشن کا مقصد زون ٹنگڈار میں تنظیمی سرگرمیوں کو منظم بنانا اور اساتذہ کے مسائل و مطالبات کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے باہمی رابطے کو مضبوط کرنا ہے

