• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Saturday, October 17, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (34)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
October 17, 2026
in اردو خبریں
A A
ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (34)
FacebookTwitterWhatsapp

رات کے دو بج رہے تھے۔ گفتگو کا سلسلہ ابھی تک جاری تھا، مگر اب شوکت شفیع پر کافی کی طلب غالب آنے لگی تھی۔ انہوں نے ایک گہری سانس لی اور قدرے بے بسی سے کہا:
’’کاش! اس وقت کافی کا ایک مگ میرے ہاتھ میں ہوتا۔ شاید اس کی چند چسکیاں کشمیری زبان کے پروٹو فارم پر ہونے والی اس گفتگو کو سمجھنے میں کچھ مدد دیتیں۔‘‘
ان کی بات پر محفل میں ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ میں نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ رات خاصی بیت چکی تھی، لیکن گفتگو کا نشہ ایسا تھا کہ نیند ہم سے کوسوں دور تھی۔ مسئلہ صرف کافی کی عدم دستیابی کا نہیں تھابلکہ ہمارے سامنے ایک ایسا لسانیاتی سوال تھا جس کا جواب تلاش کرنے کے لیے محض قیاس آرائی کافی نہیں تھی۔
ہم یہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ ماقبل آریا دور میں قدیم کشمیر میں کون سی قدیم لسانی صورتیں رہی ہوں گی اور کیا ان تک پہنچنے کے لیے ہمارے پاس کوئی قابلِ اعتماد راستہ موجود ہے۔
میں نے شوکت شفیع کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
’’کافی تو شاید آپ کو بیدار رکھے، لیکن کشمیر کے ماقبل آریا دور تک پہنچنے کے لیے ہمیں شواہد کو بھی بیدار کرنا ہوگا!‘‘
تبھی مشتاق احمد مشتاق میری طرف متوجہ ہوءے۔
’’اگر آریائی زبانوں کی آمد سے پہلے یہاں کوئی قدیم زبان رائج تھی، تو کیا موجودہ کشمیری زبان میں اس کے باقی ماندہ لسانی اثرات کا مطالعہ کرکے اس زبان کی قدیم ساخت کا سراغ لگایا جا سکتا ہے؟‘‘
میں نے کہا:
’’یہ ایک اہم امکان ہے، لیکن اس پر بات کرنے سے پہلے ہمیں دو الگ چیزوں میں فرق کرنا ہوگا۔ ایک طرف وہ زبانیں ہیں جن کے باہمی رشتے کا مطالعہ تقابلی لسانیات کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف ایسی قدیم زبانیں بھی ہو سکتی ہیں جن کا کوئی براہِ راست تحریری ریکارڈ یا معلوم ہم ریشہ زبانیں(congnate languages ) ہمارے پاس موجود نہ ہوں۔ اگر ان زبانوں کے کچھ اثرات بعد میں آنے والی زبانوں میں باقی رہ گئے ہوں تو انہیں سابقہ زبان کے باقی ماندہ اثرات، یعنی substrate کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔‘‘
شبیر بانہالی نے نیند کے غلبے کے باوجود قدرے حیرت سے پوچھا:
’’یہ substrate کون سی بلا ہے؟‘‘
میں نے مسکراتے ہوئے کہا:
’’شبیر صاحب! یہ کوئی بلا نہیں، لسانیات کی ایک ایسی خاموش مخلوق ہے جو خود تو دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے، مگر اپنی زبان کے کچھ نشانات دوسروں کی زبانوں میں چھوڑ جاتی ہے۔ جب کوئی زبان دوسری زبان کے زیرِ اثر آتی ہے تو کبھی کبھی اس کے الفاظ، آوازوں یا قواعد میں پہلی زبان کے کچھ اثرات باقی رہ جاتے ہیں۔ لسانیات میں ایسے باقی ماندہ اثرات کو substrate کہا جاتا ہے۔”
شوکت شفیع نے فوراً کہا:
’’تو کیا کشمیری میں بھی ایسا کوئی substrate ہوسکتا ہے؟‘‘
’’ممکن ہے، لیکن اسے ثابت کرنا آسان نہیں۔‘‘
میں نے جواب دیا۔
’’اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری بحث دلچسپ بھی ہو جاتی ہے اور مشکل بھی۔ کیونکہ اگر ہم ماقبل آریا دور کی قدیم تہوں کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں بعد کی زبان میں قدیم لسانی آثار تلاش کرنا پڑتے ہیں۔ مثلاً رشتوں کے نام، اعضائے جسم سے متعلق الفاظ، دریاؤں اور پہاڑوں کے نام، ایسے الفاظ جن کی نسبت کسی معروف زبان سے آسانی کے ساتھ متعین نہ کی جا سکے، اور زبان کی وہ خصوصیات جو اسے اپنی قریبی رشتہ دار زبانوں سے ممتاز کرتی ہیں۔‘‘
پروفیسر شفیع سنبھلی نے فوراً سوال کیا:
’’یعنی آج کے کشمیری ناموں میں بھی کوئی ایسی چیز محفوظ ہوسکتی ہے؟‘‘
’’صرف ناموں میں نہیں، بعض اوقات نام ہی سب سے پرانا سراغ ثابت ہوتے ہیں۔‘‘
میں نے کہا:
’’دریا کا نام خاص طور پر اہم ہوتا ہے، کیونکہ آبادی بدل سکتی ہے، حکمران بدل سکتے ہیں، زبانیں بدل سکتی ہیں، لیکن دریا کا نام نسلوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔ اسی لیے لسانیات میں قدیم دریا اور مقامات کے ناموں کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔‘‘
شوکت شفیع نے کہا:
’’تو کشمیر کے دریا بھی کچھ بتاتے ہیں؟‘‘
’’ممکن ہے۔‘‘ میں نے جواب دیا۔ ’’اور یہی ایک دلچسپ بحث ہے۔ اس سلسلے میں ہارورڈ یونیورسٹی کے معروف ماہرِ لسانیات اور سنسکرت کے محقق مائیکل وٹزل (Michael Witzel) کا حوالہ اہم ہے۔ انہوں نے اپنے مضمون Early Sources for South Asian Substrate Languages میں جنوبی ایشیا کی قدیم زبانوں کے زیرین اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے کشمیر کے بعض دریائی اور مقامی ناموں پر بھی گفتگو کی ہے۔
مثلاً لدر دریا (Ledarī) اور کھن موہ (Khonmoh) کا قدیم نام کھوناموشا (Khonamuṣa / Khonamuśa) ان کی بحث کے تناظر میں اہم ہے۔ ایسے نام اس امکان کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ کشمیر کے مقامی ناموں میں آریائی زبانوں سے پہلے کی کسی قدیم لسانی تہہ کے آثار محفوظ ہوں۔
میں نےبات جاری رکھتے ہوءے گفتگو کو آگے بڑھایا:
’’تاہم، کسی مقامی نام کی آریائی زبانوں کے ذریعے قابلِ اطمینان توجیہ نہ ہو پانا، بذاتِ خود اسے ماقبلِ آریائی قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔ البتہ، اگر اس نام کی صوتی ساخت، تاریخی صورتوں اور دیگر لسانی شواہد کا تجزیہ بھی اس امکان کی تائید کرے تو اسے کسی قدیم، غیر آریائی لسانی تہہ سے تعلق رکھنے والے نام کے طور پر زیرِ تحقیق لایا جا سکتا ہے۔‘‘
شبیر بانہالی نے ایک اہم نکتےکی طرف اشارہ کرتے ہوءےکہا :
’’سالک صاحب، اگر ان مقامی ناموں میں واقعی کسی ماقبل آریا ءی دور کے آثار محفوظ ہیں تو ہم ان کی مدد سے اس قدیم زبان کے بارے میں آخر کتنا جان سکتے ہیں؟ کیا صرف چند ناموں کی بنیاد پر کسی گم شدہ زبان کی لسانی ساخت کا اندازہ لگانا ممکن ہے؟‘‘
میں نے سیدھے طورپر وٹزل کا موقف پیش کیا :
“وٹزل کی بحث کی اہمیت یہی ہے کہ وہ ان ناموں کو قدیم لسانی تہوں کی تحقیق کے لیے ممکنہ شواہد کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کی بنیاد پر کسی قدیم زبان کی قطعی شناخت ممکن نہیں، لیکن یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ کشمیر کے مقامی ناموں میں محفوظ ماقبل آریاءی دور کے قدیم لسانی آثار کی تحقیق ابھی ایک اہم علمی کام ہے۔‘‘
شوکت صاحب نے بڑی اہم بات کی طرف اشارہ کیا:
’’اگرکشمیر میں کوئی ماقبل آریائی زبان یا زبانیں موجود تھیں تو کیا ان کے آثار صرف مقامی ناموں میں ہوں گے؟
میرے منہ سے بے ساختہ جواب نکلا۔
“ضروری نہیں۔ وہ مذہبی تصورات، مقامی دیومالا اور بعض قدیم الفاظ میں بھی محفوظ ہوسکتے ہیں۔‘‘
مشتاق احمد مشتاق نےفوراً کہا:
’’آپ شاید ناگ روایت کی طرف اشارہ کررہے ہیں؟‘‘
’’بالکل۔‘‘
میں نے کہا:
’’کشمیر کی قدیم روایات میں ناگوں کا کردار بہت نمایاں ہے۔ نیلمت پران اور دوسری سینہ بہ سینہ روایتوں میں کشمیر کے متعدد ناگوں کے نام آتے ہیں۔ ان ناموں میں سے بعض ایسے ہیں جنہیں آسانی سےہند آریاءی الفاظ کے طور پر explain کرنا مشکل ہے۔ مائیکل وٹزل نے بھی کشمیر کی قدیم آبادی اور لسانی substrate پر گفتگو کرتے ہوئے ناگ ناموں کو ایک ممکنہ سراغ کے طور پر زیرِ بحث لایا ہے۔‘‘
شوکت شفیع نے ذرا سنجیدہ ہوکر کہا:
’’تو کیا ناگ صرف مذہبی تصور نہیں بلکہ کسی قدیم انسانی آبادی کی یاد بھی ہوسکتے ہیں؟‘‘
میں نے فوراً کہا:
’’یہاں بھی ہمیں ’ہوسکتے ہیں‘ پر زور دینا ہوگا۔ اسے تاریخی حقیقت کے طور پر نہیں بلکہ ایک ممکنہ interpretation کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ قدیم متون میں ’ناگ‘ مذہبی اور اساطیری کردار بھی ہیں، لیکن یہ امکان زیرِ بحث رہا ہے کہ ان روایات کے پیچھے کسی قدیم مقامی آبادی یا تہذیبی گروہ کی تاریخی یاد بھی محفوظ ہو۔‘‘
مشتاق احمد مشتاق نے کہا:
’’تو اگر ایسا ہے تو کشمیر کی تہذیبی تاریخ شاید ہماری موجودہ تقسیم سے کہیں زیادہ پرانی اور پیچیدہ ہے؟‘‘
’’یقیناً۔‘‘
میں نے کہا:
’’اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہمیں کشمیری زبان کو محض ایک زبان کے طور پر نہیں، بلکہ ایک طویل تاریخی عمل کے نتیجے میں تشکیل پانے والی زبان کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اس کی تاریخ میں ممکنہ ماقبلِ آریائی مقامی لسانی تہہ، ہند آریائی زبانوں سے تاریخی تعلق، شمال مغربی برصغیر کی پراکرتوں اور اپ بھرنش سے ممکنہ روابط، سنسکرت کی علمی و ادبی روایت، اور بعد کے ادوار میں فارسی، عربی، اردو اور دوسری زبانوں کے اثرات کو الگ الگ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان میں سے بعض پہلوؤں کے شواہد واضح ہیں، جب کہ بعض کی نوعیت اور حدود پر مزید تحقیق درکار ہے۔ ان تمام تاریخی روابط اور اثرات کے مطالعے سے ہی ہم کشمیری زبان کی تشکیل اور ارتقا کی زیادہ مستند تصویر پیش کر سکتے ہیں۔‘‘
شوکت شفیع نے فوراً میری بات کاٹ دی:
’’سالک، ایک بات بتاؤ۔ تم بار بار ’ماقبلِ آریائی زبان‘ کا ذکر کر رہے ہو۔ آخر اس زبان کا لسانی رشتہ کن علاقوں یا زبانوں سے جوڑا جا سکتا ہے؟‘‘
’’یہی تو اصل سوال ہے،‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’فی الحال ہمارے پاس ایسے شواہد نہیں ہیں جن کی بنیاد پر ہم اس ممکنہ قدیم زبان کا لسانی رشتہ کسی مخصوص علاقے یا زبان سے یقینی طور پر جوڑ سکیں۔ البتہ تحقیق کے لیے چند سمتوں پر غور کیا جا سکتا ہے۔ کیا اس زبان کے آثار شمال مغربی برصغیر کے قدیم مقامی لسانی ماحول میں تلاش کیے جا سکتے ہیں؟ کیا کشمیر اور اس کے آس پاس کے پہاڑی علاقوں میں محفوظ قدیم مقامی ناموں کا مطالعہ ہمیں اس سلسلے میں کوئی سراغ دے سکتا ہے؟ کیا وسطی ایشیا اور شمال مغربی برصغیر کے درمیان قدیم روابط نے کشمیر کے لسانی ماحول کو کسی طور متاثر کیا؟ اور کیا اس خطے میں کوئی ایسی مقامی زبان بھی رائج تھی جس کے بارے میں ہمارے پاس براہِ راست لسانی شواہد موجود نہیں؟
میری بات سنتے ہی شبیر بانہالی گویاہوءے ۔
سالک صاحب! آپ کے سوالات قیاس پر قائم ہیں۔‘‘
میں نے ذرا توقف کیا۔ چند لمحوں کے لیے محفل پر خاموشی چھا گئی۔ پھر میں نے شبیر بانہالی کی طرف دیکھتے ہوئے قدرے سنجیدگی سے کہا:
’’میرے محترم دوست! آپ کا فرمانا درست ہے کہ میری باتیں ابھی قیاس کی منزل میں ہیں، لیکن کیا حقیقت تک پہنچنے کا سفر کسی سوال کے بغیر شروع ہو سکتا ہے؟ قیاس منزل نہیں، البتہ کبھی کبھی منزل کی طرف اٹھنے والا پہلا قدم ضرور ہوتا ہے۔ جب تک ہم یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ برزہوم میں تین ہزار قبل مسیح کے آس پاس آباد لوگ زندگی گزارتے تھے، ان کی اپنی معاشرت تھی اور وہ کوئی نہ کوئی زبان بھی بولتے تھے، تب تک ہم ان کی لسانی دنیا کے بارے میں سوال کیسے اٹھائیں گے؟ آثارِ قدیمہ ہمیں ان کی زندگی کے مادی شواہد فراہم کرتے ہیں، لیکن ان کی زبان کے بارے میں ابھی ہمارے پاس کوئی براہِ راست ثبوت نہیں۔ دوسری طرف، برصغیر میں ہند آریائی زبانوں کی آمد اور پھیلاؤ کا تعلق عموماً دوہزارقبل مسیح کے وسط سے جوڑا جاتا ہے۔ تو پھر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ان سے پہلے یہاں کے لوگ کون سی زبانیں بولتے تھے اور کیا ان زبانوں کا کوئی اثر آج کی کشمیری میں محفوظ ہے؟ میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ ہمیں اس کا جواب مل گیا ہے، لیکن میں یہ ضرور سمجھتا ہوں کہ اس سوال کو نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔
میں جذباتی ہو گیا تھا۔ گفتگو کے دوران شاید میری آواز کا آہنگ بھی بلند ہو گیا تھا۔ رات کے ڈھائی بج چکے تھے۔ اب آرام کرنا ضروری تھا تاکہ اگلے روز کانفرنس کے دوسرے دن تازہ دم ہو کر ادبی مباحث کے ایک نئے سلسلے میں شریک ہو سکیں۔ شاید آنے والے دن کی گفتگو ہماری اس طویل تلاش کو کسی نئے موڑ تک لے جائے۔ (جاری)

Previous Post

Paddle for Peace Event Scheduled on Oct 18 Postponed, Traffic Advisory Withdrawn: SSP Traffic

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.