زیادہ دیر تک بیٹھنے اور مسلسل گفتگو کرنے سے تھکاوٹ کے آثار سب کے چہروں پر نمایاں ہونے لگے تھے۔ رات کے تین بجنے والے تھے۔ دن بھر کی مصروفیات کے بعد اتنی دیر تک جاگنا، وہ بھی ایسے موضوعات پر جن کے جواب ابھی ہمارے پاس نہیں تھے اور جن کی ہر نئی گرہ کھولنے سے کئی نئے سوالات سامنے آ جاتے تھے، جسم و ذہن دونوں کے لیے کسی آزمائش سے کم نہ تھا۔ پلکیں بوجھل ہو رہی تھیں، گردنیں ڈھلکنے لگی تھیں اور گفتگو کے دوران لہجوں میں جو گرمی اور توانائی تھی، وہ اب رفتہ رفتہ خاموشی میں تحلیل ہو رہی تھی۔ اس کے باوجود مجھے محسوس ہوتا تھا کہ ہماری بحث ابھی اپنے اختتام کو نہیں پہنچی۔ ہم نے باتیں تو بہت کیں، مگر اصل سوالات اب بھی جواب کے منتظر تھے۔
پروفیسر شفیع سنبھلی صاحب نہ جانے کب نیند کی آغوش میں جا چکے تھے۔ ان کے چہرے پر گہرا سکون تھا، جیسے دن بھر کے ادبی مباحث اور رات کی فکری کشمکش سے ان کا اب کوئی واسطہ نہ رہا ہو۔ شوکت شفیع اور مشتاق احمد مشتاق نے بھی بستر پر لیٹتے ہی ہتھیار ڈال دیے تھے۔ چند لمحے پہلے تک کشمیری زبان کے آغاز، پروٹو فارم اور قدیم لسانی تہوں کے بارے میں سوالات اٹھانے والے دونوں حضرات اب گہری نیند سو رہے تھے۔ شوکت صاحب کو کافی پینے کی جو طلب تھی، وہ بھی بالآخر نیند کے سامنے دم توڑ چکی تھی۔
شبیر بانہالی نے کچھ دیر تک میرا ساتھ دیا، مگر ان کی آواز میں بھی تھکن اترنے لگی تھی۔ وہ دو تین مرتبہ کروٹ بدل کر بیٹھے، میری طرف دیکھا، جیسے کوئی آخری بات کہنا چاہتے ہوں، لیکن پھر دھیمی آواز میں شب بخیر کہا اور لیٹ گئے۔
کمرے کی روشنی بجھ گئی۔
میں نے دیوار سے ٹیک لگائی اور اپنے پاؤں سمیٹ لیے۔ کمرے میں رات بھر کی بندش اور کئی گھنٹوں کی نشست کے باعث گھٹن سی محسوس ہو رہی تھی۔ ساتھیوں کے جسموں سے اٹھتی حرارت اور قریب ہی سنائی دینے والی سانسوں کی آوازیں خاموشی کو ایک عجیب سی انسانی قربت عطا کر رہی تھیں۔ سب میرے آس پاس موجود تھے، مگر میرا ذہن کہیں اور جا پہنچا تھا۔ ساتھیوں کی سانسیں نیند کی گہرائی کے ساتھ ہموار ہوتی جا رہی تھیں، لیکن میرے اندر سوالوں کا شور بڑھتا محسوس ہو رہا تھا۔
میں نے آنکھیں بند کر لیں، مگر ذہن کے پردے پر ابھی تک وہی گفتگو جاری تھی۔
کیا واقعی ہم اپنی زبان کے آغاز کے بارے میں اتنا کم جانتے ہیں؟ کیا کشمیری زبان کی تاریخ کو اس کے معلوم ادبی سرمایے اور تحریری شواہد سے آگے بڑھ کر دیکھنے کی ضرورت نہیں؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ ہماری زبان کی موجودہ ساخت میں کچھ ایسے قدیم لسانی آثار محفوظ ہوں جن کی اصل تک ہم ابھی نہیں پہنچ سکے؟ اور اگر ایسا ہے تو ان آثار کی تلاش کا طریقہ کیا ہوگا؟
یہ سوالات اب میرے لیے محض ایک علمی مشق نہیں رہے تھے۔ ان کے ساتھ ایک ایسا احساس جڑ گیا تھا جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں تھا۔ اپنی زبان سے محبت کرنا ایک بات ہے، لیکن اس محبت کو تحقیق، محنت اور علمی دیانت میں تبدیل کرنا بالکل دوسری بات۔
ہم اکثر شادی بیاہ کی تقریبات یا کسی پیر صاحب کی صوفیانہ محفل میں پوری پوری رات کشمیری موسیقی اور گیت سنتے ہیں۔ ان محفلوں میں زبان کی مٹھاس، موسیقی کی لے اور اپنے تہذیبی ورثے سے وابستگی کا ایک الگ ہی لطف ہوتا ہے۔ مگر یہ پہلا موقع تھا جب میں نے اپنی مادری زبان کی تاریخ اور اس کے آغاز سے جڑے سوالات پر غور کرتے ہوئے شب بیداری کی تھی۔ اس رات مجھے پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ اپنی زبان سے محبت صرف اس کے گیت سننے، اس کی شاعری سے لطف اندوز ہونے یا اس پر فخر کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس کی تاریخ کو جاننے، اس کے ماضی کی گرہیں کھولنے اور اس کے بارے میں علمی دیانت کے ساتھ سوال اٹھانے کا نام بھی ہے۔
شاید اس رات میری مادری زبان میرے لیے محض اظہار کا وسیلہ نہیں رہی تھی، بلکہ ایک ایسی تہذیبی میراث بن گئی تھی جسے سمجھنا بھی میری ذمہ داری تھی۔
اسی اثنا میں نہ جانے کیوں مجھے اپنے استاد کا ایک جملہ یاد آ گیا:
’’سالک! آخر ہم کب تک اپنی زبان کے آغاز کو سمجھنے کے لیے نوآبادیاتی محققین کی تحقیقات کے منتظر رہیں گے؟ کیوں نہ ہم خود اس سفر کا آغاز کریں؟‘‘
یہ جملہ میں نے کئی سال پہلے سنا تھا، لیکن اس رات اندھیرے میں بیٹھے ہوئے اس کے معنی کہیں زیادہ گہرائی سے محسوس کر رہا تھا۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ بیرونی محققین کا کام غیر معتبر ہے یا ان کی تحقیقات کو نظرانداز کر دیا جائے۔ ان کے علمی کام سے استفادہ کرنا ضروری تھا، لیکن کیا اپنی زبان کے بنیادی سوالات کو سمجھنے کے لیے ہمیں خود بھی تحقیق کا کوئی مستقل راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے؟ کیا یہ مناسب ہوگا کہ ہم اپنی زبان کی قدامت کے بارے میں سوالات اٹھاتے رہیں، مگر ان کے جواب تلاش کرنے کے لیے ضروری مواد جمع کرنے کی ذمہ داری دوسروں پر چھوڑ دیں؟
میں نے محسوس کیا کہ اس سوال کا تعلق صرف کشمیری زبان سے نہیں، ہماری علمی ترجیحات سے بھی تھا۔ ہم اپنی زبان کے بارے میں کیا جانتے ہیں، کیا نہیں جانتے اور ان دونوں کے درمیان موجود خلا کو پُر کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ شاید کسی بھی سنجیدہ تحقیق کا آغاز انہی سوالات سے ہوتا ہے۔
میں یہ بھی جانتا تھا کہ میرے اپنے خیالات ابھی ابتدائی مرحلے میں تھے۔ کسی قدیم مقامی زبان کی موجودگی کا امکان، اس کے کشمیری زبان پر اثرات اور اس کے ممکنہ لسانی رشتے، یہ سب ایسے سوالات تھے جنہیں قطعی نتائج کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا تھا۔ آریائی زبانوں کے پھیلاؤ سے پہلے کشمیر میں بولی جانے والی کسی مخصوص زبان کی شناخت ہمارے پاس موجود شواہد کی بنیاد پر ثابت نہیں ہوتی تھی۔ اسی طرح کسی لفظ یا مقامی نام کی غیر واضح اصل بھی اسے خودبخود غیر آریائی زبان سے منسوب کرنے کے لیے کافی نہیں تھی۔لیکن احتیاط کا مطلب یہ بھی تو نہیں تھا کہ ان سوالات پر تحقیق کا دروازہ بند کر دیا جائے۔
ہمیں شاید سب سے پہلے اپنے علم اور اپنی لاعلمی، دونوں کا درست حساب کرنا تھا۔ ہمیں یہ دیکھنا تھا کہ کن الفاظ کی اصل معلوم ہے، کن کے بارے میں ہمارے پاس مختلف امکانات موجود ہیں اور کن الفاظ کے متعلق ابھی اتنا مواد بھی جمع نہیں کیا گیا کہ کوئی معقول رائے قائم کی جا سکے۔
اسی خیال کے تحت میرے ذہن میں کشمیری زبان کے قدیم اور غیر واضح الاصل الفاظ کی ایک باقاعدہ تحقیقی لغت کا تصور ابھرنے لگا۔ میں سوچنے لگا کہ اگر ایسی لغت تیار کی جائے تو اس کی صورت کیا ہوگی؟
اس میں ایسے الفاظ جمع کیے جائیں جن کی اصل ابھی غیر واضح ہے، لیکن محض نامعلوم الاصل ہونے کی وجہ سے کسی لفظ کو کسی گم شدہ زبان سے منسوب نہ کیا جائے۔ ہر لفظ کی مقامی ادائیگی، معنی، مختلف علاقوں میں رائج متبادل صورتیں، روزمرہ استعمال اور دستیاب قدیم متون میں ملنے والی مثالیں درج کی جائیں۔ بزرگوں سے حاصل ہونے والی زبانی معلومات اور لفظ سے وابستہ مقامی روایات کو بھی محفوظ کیا جائے، تاکہ زبان کے ساتھ ساتھ اس سے جڑی تہذیبی یادداشت بھی ضائع نہ ہو۔
اگر کسی لفظ کا تعلق کسی معروف ہند آریائی زبان سے بنتا ہو تو اس امکان کو بھی پوری سنجیدگی سے جانچا جائے۔ اگر اس کی ساخت یا معنی کسی دوسری زبان سے مماثلت رکھتے ہوں تو اس مماثلت کا جائزہ بھی لیا جائے، مگر محض مشابہت کو مشترک اصل کا ثبوت نہ سمجھ لیا جائے۔ ہر لفظ کے بارے میں فیصلہ اس کی صوتی ساخت، تاریخی صورتوں، معنوی ارتقا اور دستیاب تقابلی شواہد کی روشنی میں کیا جائے۔
میں نے سوچا کہ شاید یہی وہ بنیادی کام ہے جس سے ہمیں آغاز کرنا چاہیے۔ اگر ہم آج ماقبل آریاءی دور کی گم شدہ زبان کی شناخت نہیں کر سکتے تو کم از کم اس زبان کے ممکنہ آثار سے متعلق مواد کو منظم تو کر سکتے ہیں۔ اگر کسی لفظ کی اصل متعین نہیں کر سکتے تو اس کے بارے میں موجود شواہد جمع کر سکتے ہیں۔ اگر کسی مقامی نام کا اشتقاق واضح نہیں تو اس کی تاریخی صورتوں اور مقامی تلفظ کا ریکارڈ محفوظ کر سکتے ہیں۔
اس طرح آنے والے محققین کو ہر بار ابتدا سے کام شروع نہیں کرنا پڑے گا۔ وہ ہمارے جمع کردہ مواد کی بنیاد پر مزید سوالات اٹھا سکیں گے، پہلے سے قائم مفروضوں کو جانچ سکیں گے اور ممکن ہے کہ ان میں سے بعض سوالات کے جواب بھی تلاش کر سکیں۔
پھر میرے ذہن میں ادبی مرکز کمراز کا خیال آیا۔
یہ تنظیم نصف صدی سے کشمیری زبان و ادب کے فروغ کے لیے کانفرنسوں اور ادبی اجتماعات کا اہتمام کرتی آ رہی ہے، اہلِ قلم کو ایک جگہ جمع کرتی ہے اور زبان و ادب سے متعلق مباحث کو آگے بڑھاتی ہے۔ ادبی مرکز کمراز کی تاریخ محض ادبی سرگرمیوں کی تاریخ نہیں، بلکہ ان اہلِ علم و ادب کی مشترکہ کاوشوں کی داستان بھی ہے جنہوں نے اپنی علمی و ادبی خدمات سے اس تنطیم کو وقار بخشا۔ پروفیسر محی الدین حاجنی، پروفیسر رشید نازکی، محمد احسن احسن، پروفیسر امر مالموہی، پروفیسر مشعل سلطان پوری اور دیگر نامور شخصیات کی وابستگی اس کے علمی و ادبی سفر کا ایک اہم حوالہ ہے۔ مزید یہ کہ تقریباً تیس تنظیموں کے ادغام سے تشکیل پانے والا یہ ادارہ اپنی ساخت میں بھی ایک اجتماعی ادبی قوت کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایسے ادارے سے یہ توقع رکھنا بے جا نہیں کہ وہ ادبی سرگرمیوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ کشمیری زبان کی تاریخ، اس کے ارتقائی سفر اور اس میں محفوظ قدیم لسانی آثار کی تحقیق جیسے بنیادی علمی منصوبوں کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کرے۔ آخر ادبی مرکز کمراز کی ذمہ داری صرف موجودہ ادبی سرگرمیوں تک محدود کیوں ہو؟ کیا وہ ایسے سوالات کی تحقیق کا آغاز نہیں کر سکتے جن کے جوابات تلاش کرنے کے لیے کئی برسوں کی محنت، مختلف شعبوں کے ماہرین اور مسلسل علمی تعاون درکار ہو؟
میں یہ نہیں سمجھتا تھا کہ ایک کانفرنس میں اٹھایا گیا سوال فوراً کسی بڑے تحقیقی منصوبے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ نہ ہی کسی ادبی تنظیم کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ تنہا تاریخی لسانیات کے تمام پیچیدہ مسائل حل کر دے۔ لیکن اگر ایسے موضوعات کو سنجیدہ بحث کا حصہ بنایا جائے، متعلقہ ماہرین کو مدعو کیا جائے، دستیاب تحقیق کا جائزہ لیا جائے اور ایک واضح تحقیقی منصوبہ مرتب کیا جائے تو کیا یہ ایک قابلِ عمل آغاز نہیں ہوگا؟
کاش ’’پرو‘‘ کا تازہ شمارہ ماقبلِ آریائی دور میں کشمیر کی قدیم زبانوں کے ممکنہ آثار کی کھوج کے لیے وقف کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے پہلے قدم کے طور پر کمراز کے یمین و یسار کے علاقوں میں ایک منظم لسانی سروے کیا جائے۔ اس سروے میں مقامی مقامات کے ناموں اور روزمرہ زندگی میں مستعمل الفاظ کو مختلف موضوعاتی زمروں میں جمع کیا جائے۔ ان زمروں میں پہاڑوں، دریاؤں، درختوں، پودوں، پھولوں، پرندوں، جانوروں، مچھلیوں، جسمانی اعضا، رشتوں، رقص و موسیقی، لباس، زراعت و باغبانی، زیورات، شادی بیاہ، کھیلوں، موسمیات اور دیگر شعبوں سے متعلق الفاظ شامل ہوں۔
ہر لفظ کی مقامی ادائیگی، معنی، مختلف علاقوں میں اس کی متبادل صورتیں اور اس سے وابستہ مقامی روایات باقاعدہ درج کی جائیں۔ جہاں ممکن ہو، بزرگوں اور مقامی زبان کے قدیم استعمال سے واقف افراد سے معلومات حاصل کی جائیں۔ مقامی ناموں کی موجودہ صورتوں کے ساتھ ان کی دستیاب تاریخی شکلیں بھی جمع کی جائیں، تاکہ وقت کے ساتھ آنے والی صوتی اور معنوی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
اس کے بعد ان الفاظ اور ناموں کا تاریخی و تقابلی لسانیات کی روشنی میں مطالعہ کیا جائے۔ یہ دیکھا جائے کہ کن الفاظ کا تعلق معروف ہند آریائی زبانوں سے بنتا ہے، کون سے الفاظ دوسری زبانوں سے مستعار لیے گئے ہیں اور کن کی اصل ابھی غیر واضح ہے۔ ایسے الفاظ میں کسی قدیم مقامی لسانی تہہ کے ممکنہ آثار تلاش کیے جا سکتے ہیں، لیکن اس امکان کو ثابت کرنے کے لیے محض لفظی مشابہت کافی نہیں ہوگی۔ اس کے لیے صوتی ساخت، معنوی تاریخ، جغرافیائی پھیلاؤ اور دوسرے متعلقہ لسانی شواہد کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔
اس تحقیق کا مقصد پہلے سے یہ فرض کر لینا نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی لفظ ماقبلِ آریائی ہے، بلکہ یہ معلوم کرنے کی کوشش ہونی چاہیے کہ دستیاب شواہد اس کی اصل کے بارے میں کیا بتاتے ہیں اور کن سوالات کے جواب ابھی باقی ہیں۔ شاید اسی طرح ’’پرو‘‘ کا یہ شمارہ کشمیر کی لسانی تاریخ کے ایک اہم مگر کم تحقیق شدہ پہلو پر سنجیدہ علمی مکالمے اور مزید تحقیق کی بنیاد فراہم کر سکے۔
یہ سب سوچتے ہوئے مجھے محسوس ہوا کہ میرے سامنے اب صرف ایک سوال نہیں رہا تھا، بلکہ ایک ممکنہ تحقیقی منصوبے کا ابتدائی خاکہ بھی بننے لگا تھا۔ خیال ابھی کچا تھا، اس میں کئی خامیاں اور تشنگیاں بھی ہو سکتی تھیں، لیکن کم از کم اب یہ واضح ہونے لگا تھا کہ اس سمت میں پہلا قدم کیا ہو سکتا ہے۔
میں نے دل ہی دل میں طے کیا کہ اگلی صبح اس موضوع کو دوبارہ اٹھاؤں گا۔ ادبی مرکز کمراز کے صدر امین بٹ صاحب سے پوچھوں گا کہ کیا ہم اس خیال کو ایک باقاعدہ تحقیقی تجویز کی صورت دے سکتے ہیں؟ کیا ادبی مرکز کمراز کے سامنے یہ تجویز رکھی جا سکتی ہے کہ کشمیری زبان کے قدیم اور غیر واضح الاصل الفاظ کا ایک مستند تحقیقی ذخیرہ تیار کیا جائے؟ کیا اس کام کے لیے ایک چھوٹی سی کمیٹی تشکیل دی جا سکتی ہے جو پہلے سے موجود لغات، قدیم متون اور متعلقہ تحقیقات کا جائزہ لے کر کام کا دائرہ متعین کرے اور آئندہ کے لیے ایک واضح لائحۂ عمل تجویز کرے؟
مجھے معلوم تھا کہ یہ کام آسان نہیں ہوگا۔ اس میں اختلافات بھی سامنے آئیں گے، بعض مفروضے رد ہوں گے اور کچھ سوالات ایسے ہوں گے جن کے جواب فوری طور پر دستیاب نہیں ہوں گے۔ لیکن شاید تحقیق کی اصل روح بھی یہی ہے کہ ہم اپنے پسندیدہ خیال کو ہر قیمت پر درست ثابت کرنے کے بجائے شواہد کو یہ حق دیں کہ وہ ہمارے نتائج کی اصلاح کریں۔
انھی خیالوں میں گم، میں دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ کمرے میں گہری نیند کا سکوت پھیلا ہوا تھا، مگر میرے ذہن میں ایک نئی صبح کی تیاری جاری تھی۔ بالآخر تھکن نے مجھے بھی اپنی گرفت میں لے لیا۔ میں کب نیند کی آغوش میں چلا گیا، مجھے پتا ہی نہ چلا۔ (جاری )

