میں نے گاڑی اسٹارٹ کی تو حسبِ معمول پروفیسر شفیع سنبھلی اگلی نشست پر آ بیٹھے، جب کہ پچھلی سیٹ پر شوکت شفیع، مشتاق احمد مشتاق اور شبیر بانہالی نے جگہ سنبھال لی۔ معراج صاحب نے آگے بڑھ کر گیٹ کھولا اور ہم گاڑی سمیت باہر نکل آئے۔ ابھی چند قدم ہی آگے بڑھے تھے کہ میں نے گاڑی روک دی۔ دل میں ایک خیال ابھرا، جسے نظرانداز کرنا ممکن نہ تھا۔
’’معراج صاحب! ایک تصویر تو بنتی ہے،‘‘ میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’آپ نے جس محبت اور خلوص سے ہماری میزبانی کی ہے، اس کی ایک یاد تو اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہوں۔ نہ جانے پھر کبھی ایسی قربت اور بے تکلفی نصیب ہو یا نہ ہو۔‘‘
میری بات سنتے ہی سبھی گاڑی سے اتر آئے۔ معراج صاحب مسکراتے ہوئے ہمارے درمیان آ کھڑے ہوئے اور چند ہی لمحوں میں ہم ایک تصویر کے لیے یکجا ہوگئے۔ کیمرے میں محفوظ ہونے والا وہ منظر بظاہر چند چہروں کا مجموعہ تھا، لیکن میرے لیے اس میں ایک پوری رات آباد تھی۔بے تکلف گفتگو، قہقہوں کی گونج، علمی بحثیں، دسترخوان کی رونق اور ایک ایسے میزبان کی محبت، جس نے ہمیں مہمان نہیں، اپنے گھر کے افراد سمجھ کر رکھا تھا۔
تصویر بنوانے کے بعد ہم باری باری معراج صاحب سے گلے ملے۔ رخصت کے اس لمحے میں کہنے کو بہت کچھ تھا، مگر زبان جیسے ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ شاید بعض جذبات الفاظ کے محتاج نہیں ہوتے۔ گلے ملنے کی تپش، ہاتھوں کی گرفت اور آنکھوں میں ٹھہرے احساسات ہی ان کی ترجمانی کے لیے کافی ہوتے ہیں۔
گزشتہ رات جب ہم وہاں پہنچے تھے تو کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ چند گھنٹوں کی رفاقت دلوں میں اس قدر جگہ بنا لے گی۔ ہم نے تو ایک رات گزارنی تھی، دوستوں سے ملنا تھا، گفتگو کرنی تھی اور صبح اپنے اپنے راستے پر روانہ ہو جانا تھا۔ مگر معراج صاحب کے خلوص نے اس مختصر قیام کو ایک ایسی یاد میں بدل دیا تھا جس کی خوشبو دیر تک ہمارے ساتھ رہنے والی تھی۔
میں گاڑی میں بیٹھا تو ایک بار پھر گیٹ کی طرف دیکھا۔ معراج صاحب وہیں کھڑے تھے۔ ان کے چہرے پر رخصت کرنے والے میزبان کی وہی مانوس مسکراہٹ تھی، لیکن میرے لیے اس منظر میں ایک عجیب سی اپنائیت پوشیدہ تھی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی اجنبی مقام سے نہیں، اپنے ہی گھر کے آنگن سے رخصت ہو رہے ہوں۔ اس لمحے مجھے شدت سے احساس ہوا کہ تعلقات کی مضبوطی ہمیشہ برسوں کی شناسائی کی محتاج نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی چند گھنٹوں کی رفاقت بھی دل پر ایسا نقش چھوڑ جاتی ہے جسے وقت آسانی سے مٹا نہیں سکتا۔
گاڑی آگے بڑھ گئی، مگر میری نگاہ کچھ دیر تک سائیڈ مرر پر ٹھہری رہی۔ معراج صاحب اب بھی گیٹ کے قریب دکھائی دے رہے تھے۔ فاصلہ بڑھ رہا تھا، لیکن ان کی محبت جیسے ہمارے ساتھ سفر کر رہی تھی۔ میں سوچنے لگا کہ زندگی کے اصل اثاثے شاید یہی لمحے ہوتے ہیں۔ کتابوں، کانفرنسوں اور علمی بحثوں سے ہمیں بہت کچھ حاصل ہوتا ہے، مگر انسانوں کے خلوص سے ملنے والی دولت کا کوئی بدل نہیں۔ کچھ لوگ اپنے علم سے یاد رہ جاتے ہیں، کچھ اپنی گفتگو سے، اور کچھ اپنی محبت سے دل میں ایسی جگہ بنا لیتے ہیں کہ ان سے رخصت ہونے کے بعد بھی ان کی اپنائیت دیر تک محسوس ہوتی رہتی ہے۔
تقریباً دس منٹ کی مسافت کے بعد ہم ہائر سیکنڈری اسکول کے احاطے میں پہنچ گئے۔ میں نے گاڑی پارکنگ میں کھڑی کی تو پروفیسر شفیع سنبھلی صاحب اور مشتاق احمد مشتاق اتر کر سیدھے پنڈال کی طرف چل دیے۔ اسی اثنا میں میری نظر احاطے کے ایک گوشے میں کھڑے مجید مجازی پر پڑی۔ ان کے چہرے پر تھکن کے آثار نمایاں تھے۔ رات دیر تک جاگنے اور مسلسل مصروف رہنے کا اثر ان کی آنکھوں اور چہرے سے صاف ظاہر ہو رہا تھا، لیکن گزشتہ شب کے مشاعرے کا ذکر آتے ہی ان کے لہجے میں ایک تازگی سی در آئی۔
مجھے دیکھتے ہی مسکرائے اور قدرے شکوہ آمیز انداز میں بولے:
’’سالک صاحب! آپ نے تو ایک زبردست مشاعرہ مس کر دیا!‘‘
ان کے لہجے میں محفل کی کامیابی کا فخر بھی تھا اور میری غیرحاضری کا گلہ بھی۔ میں ابھی جواب سوچ ہی رہا تھا کہ شبیر بانہالی نے موقع غنیمت جانتے ہوئے گفتگو میں مداخلت کی۔
’’مجازی صاحب! انہیں مشاعرے سے زیادہ تحقیق میں دلچسپی ہے۔ شاید مشاعرے کی واہ واہ ان کے مزاج سے میل نہیں کھاتی!‘‘
شوکت شفیع کے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی۔ شبیر بانہالی کی بات میں شوخی تھی، لیکن اس میں میرے مزاج کا ایک پہلو بھی چھپا ہوا تھا۔ میں نے ان کی طرف دیکھا اور ہلکے سے احتجاج کے ساتھ کہا:
’’بھائی، آپ تو مجھے شاعری سے بالکل ہی بے دخل کر رہے ہیں! شاعر حضرات میرے نزدیک قابلِ احترام ہیں۔ شاعری ہماری تہذیبی اور ادبی زندگی کا اہم حصہ ہے۔ ایک اچھا شعر انسان کے دل و دماغ میں دیر تک زندہ رہتا ہے۔ البتہ میرا اعتراض وہاں شروع ہوتا ہے جہاں شعر کی معنویت سے زیادہ اس پر ہونے والی واہ واہ اہم ہو جاتی ہے۔ ہمارے بعض مشاعروں میں شعر کے فکری پہلو، زبان کی تازگی اور خیال کی گہرائی پر گفتگو کم، جب کہ داد دینے کا شور زیادہ سنائی دیتا ہے۔‘‘
میری بات ابھی پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ نوجوان شاعر ریاض ربانی، جو ہماری گفتگو بڑی دلچسپی سے سن رہے تھے، فوراً بول اٹھے:
’’سالک سر! کاش آپ کل کا مشاعرہ سن لیتے، پھر شاید آپ کی رائے کچھ مختلف ہوتی۔ منشور بانہالی کی صدارت میں ایسی محفل سجی کہ رات گئے تک سامعین کا جوش برقرار رہا۔ ہر شاعر نے اپنے انداز میں رنگ جمایا اور کئی اشعار پر تو دیر تک داد ملتی رہی۔‘‘
ریاض ربانی کے لہجے میں گزشتہ شب کی سرشاری ابھی تک تازہ تھی۔ ان کی گفتگو میں وہی جوش تھا جو کسی کامیاب محفل سے لوٹنے والے شخص کے چہرے اور آواز میں در آتا ہے۔
یہاں ریاض ربانی کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے۔ وہ کشمیری اور اردو، دونوں زبانوں میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔ تخلیقی اپچ ان کے مزاج کا حصہ ہے اور گفتگو ہو یا شاعری، اپنی موجودگی کا احساس دلانا خوب جانتے ہیں۔ چہرے مہرے سے مولانا معلوم ہوتے ہیں، لیکن شاعری میں مولانا حضرات کی ایسی خبر لیتے ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ صورت میں سنجیدگی اور شعر میں شرارت کا یہ امتزاج ان کی شخصیت کو دلچسپ بنا دیتا ہے۔ انہیں دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ ابھی کسی علمی نکتے پر وعظ فرمائیں گے، مگر شعر سناتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت کے پاس وعظ سے زیادہ طنز کے تیر موجود ہیں۔
میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا:
’’اچھا ریاض صاحب! ذرا یہ تو بتائیے کہ آخر ایسی کیا بات تھی جس نے محفل کو اتنا یادگار بنا دیا؟‘‘
ریاض ربانی جیسے اسی سوال کے منتظر تھے۔ فوراً بولے:
’’سالک سر! کئی شعرا نے اچھا کلام پیش کیا، لیکن امین اشرف کی مزاحیہ شاعری نے تو واقعی مشاعرہ لوٹ لیا۔ ان کے اشعار پر جس طرح قہقہے بلند ہوئے، وہ دیکھنے کے لائق تھا۔ ان کی بات میں روزمرہ زندگی کی ایسی جھلک ہوتی ہے کہ آدمی پہلے ہنستا ہے اور پھر سوچنے لگتا ہے کہ شاعر نے ہنسی ہنسی میں کس حقیقت کی طرف اشارہ کر دیا!‘‘
مجید مجازی نے ان کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا:
’’امین اشرف کا کمال یہی ہے کہ وہ عام زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات کو مزاح کا موضوع بنا لیتے ہیں۔ ان کی برجستگی اور اندازِ ادائیگی بھی شعر کے لطف کو دوبالا کر دیتے ہیں۔ اچھا مزاح وہی ہے جس میں ہنسی کے ساتھ کوئی بات بھی نکل آئے۔‘‘
ریاض ربانی کچھ دیر ذہن پر زور دیتے رہے، جیسے گزشتہ شب کے شعرا اور ان کے کلام کو ترتیب سے یاد کر رہے ہوں۔ پھر اچانک بولے:
’’ہاں، منظور احمد منظور بھی تھے۔ ان کے اشعار کو بھی خوب پسند کیا گیا۔‘‘
مجید مجازی نے فوراً تائید کی۔
’’بالکل! منظور احمد منظور بھی اچھے مزاحیہ شاعر ہیں۔ ان کے ہاں بھی ایسی برجستگی ہے جو سامعین کو اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے۔‘‘
شوکت شفیع، جو اب تک خاموشی سے گفتگو سن رہے تھے، اس موقع پر بولے:
’’مزاحیہ شاعری کی اصل کامیابی بھی یہی ہے کہ شاعر بات کو بوجھل بنائے بغیر اپنے عہد اور معاشرے کی کمزوریوں کی طرف اشارہ کر دے۔ اگر شعر میں برجستگی ہو اور بات دل میں اتر جائے تو سامعین کا ردعمل بھی فطری ہوتا ہے۔‘‘
میں نے ان کی بات سے اتفاق کیا۔
’’بالکل! میں نے کب کہا کہ مشاعرے میں داد نہیں ہونی چاہیے؟ شعر سنانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ بات سامعین تک پہنچے اور ان کے دلوں پر اثر کرے۔ میری گزارش صرف اتنی ہے کہ شعر کی قدر و قیمت کا پیمانہ محض اس پر ملنے والی واہ واہ نہ بن جائے۔ کبھی ایک سنجیدہ اور فکر انگیز شعر خاموشی سے دل میں اتر جاتا ہے، جب کہ ایک سطحی شعر بھی خوش آہنگی یا برجستہ ادائیگی کی وجہ سے خوب داد سمیٹ لیتا ہے۔ دونوں صورتوں میں فرق کرنا ضروری ہے۔‘‘
مجید مجازی نے میری طرف دیکھا اور قدرے سنجیدہ لہجے میں بولے:
’’سالک صاحب! آپ کی بات درست ہے، لیکن ہر مشاعرے کو ایک ہی نظر سے دیکھنا بھی مناسب نہیں۔ بعض محفلیں واقعی داد و تحسین تک محدود رہ جاتی ہیں، مگر بعض میں ایسا کلام بھی پیش ہوتا ہے جس میں فکر اور فن دونوں موجود ہوتے ہیں۔ کل کی محفل میں سید رشید جوہر کی نظم ’حاجن‘ بھی ایسی ہی تخلیق تھی۔‘‘
شبیر بانہالی نے فوراً سوال کیا:
’’اچھا! اس نظم میں ایسی کیا بات تھی؟‘‘
اس بار ریاض ربانی نے جواب دینے میں دیر نہیں لگائی۔
’’سید رشید جوہر نے ’حاجن‘ کے عنوان سے ایک عمدہ نظم پیش کی، جس میں علاقے کی تہذیب و تمدن، زبان و ثقافت اور تابناک ماضی کی خوب صورت عکاسی کی گئی تھی۔ خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے صرف ماضی کے قصیدے نہیں پڑھے، بلکہ موجودہ منظرنامے کو بھی نظم میں جگہ دی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ شاعر حاجن سے محض جذباتی وابستگی کا اظہار نہیں کر رہا، بلکہ اس کی تہذیبی شناخت اور بدلتے ہوئے حالات کو بھی سامنے لا رہا ہے۔‘‘
میں نے بے اختیار پوچھا:
’’تو کیا نظم میں ماضی اور حال کے درمیان کوئی ربط بھی قائم کیا گیا تھا؟‘‘
مجید مجازی نے میری طرف دیکھ کر کہا:
’’جی ہاں، اور شاید یہی بات اسے محض ایک مقامی نظم سے آگے لے جاتی ہے۔ جب شاعر اپنے علاقے کی زبان، ثقافت اور اجتماعی یادداشت کو شعر میں سمیٹتا ہے تو وہ صرف ایک جگہ کا ذکر نہیں کرتا، بلکہ اس کے ساتھ وابستہ لوگوں کی زندگی کو بھی محفوظ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔‘‘
ان کی بات سن کر مجھے محسوس ہوا کہ گفتگو اب محض مشاعرے کی تعریف یا تنقید تک محدود نہیں رہی تھی۔ ہم آہستہ آہستہ اس سوال کی طرف بڑھ رہے تھے کہ شاعری اپنے ماحول اور تہذیبی حافظے کو کس طرح محفوظ کرتی ہے۔
اسی دوران ریاض ربانی کو جانان الطاف کی نظم ’’موت‘‘ بھی یاد آ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس نظم کو بھی سامعین نے بے حد سراہا تھا۔ پھر نثار اعظم کی شاعری کا ذکر کرتے ہوئے بولے:
’’نثار اعظم نے بھی اچھا کلام پیش کیا۔ انہیں کشمیری زبان میں پہلا یووا ساہتیہ اکادمی ایوارڈ حاصل کرنے کا اعزاز بھی ہے۔‘‘
شبیر بانہالی نے مسکراتے ہوئے کہا:
’’ریاض صاحب! ہم تو نثار اعظم کے مداح ہیں۔ اب آپ کے بیان سے اندازہ ہو رہا ہے کہ کل کی محفل میں ہمارے کئی پسندیدہ شعرا نے رنگ جمایا ہوگا۔‘‘
مجید مجازی نے کچھ یاد کرتے ہوئے کہا:
’’پکھرپورہ سے فاروق فدا بھی آئے تھے۔ ان کی صوفیانہ شاعری کو خاصی پذیرائی ملی۔ حال ہی میں پرنسپل کے عہدے سے سبکدوش ہوئے ہیں، لیکن ان کے کلام سے اندازہ ہوتا ہے کہ مطالعہ وسیع اور ادبی ذوق پختہ ہے۔‘‘
ریاض ربانی نے فوراً ایک اور نام کا اضافہ کیا:
’’ٹنگمرگ کے غلام حسن درویش نے بھی صوفیانہ رنگ میں شاعری پیش کی تھی۔‘‘
مجید مجازی نے ان کی طرف دیکھ کر شرارت سے کہا:
’’بھائی، تخلص تو صوفیانہ رکھا ہے، لیکن شاعری رومانوی ہی کرتے ہیں!‘‘
یہ سنتے ہی سب ہنس پڑے۔ چند لمحوں کے لیے گفتگو میں قہقہوں کی لہر دوڑ گئی۔ مشاعرے کے شعرا کا ذکر تھا، مگر انداز ایسا بے تکلف کہ فن کی تعریف کے ساتھ دوستانہ چوٹوں کی گنجائش بھی برابر موجود تھی۔
قہقہوں کے درمیان ریاض ربانی نے ایک اور نام لیا:
’’کاوچکی صاحب کی شاعری میں بھی خاصا دم تھا۔ ان کا کلام سن کر ہی اندازہ ہو جاتا تھا کہ کہنہ مشق شاعر ہیں۔‘‘
شبیر بانہالی نے حیرت سے پوچھا:
’’کاوچکی؟ میں نے پہلی بار اس طرح کا تخلص سنا ہے۔‘‘
مجید مجازی نے وضاحت کی:
’’شبیر صاحب! کاوچک ٹنگمرگ سے ملحق ایک معروف علاقہ ہے۔ رفیق طاہر کاوچکی صاحب کا تعلق اسی علاقے سے ہے۔ وہ جے کے یتیم فاؤنڈیشن کے سابق چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ سماجی خدمات کے علاوہ شاعری سے بھی ان کی وابستگی ہے اور ایک شاعر کی حیثیت سے بھی اپنی شناخت رکھتے ہیں۔‘‘
گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھا تو ریاض ربانی ایک کے بعد ایک شعرا کے نام گنواتے رہے۔ گل تنویر، غلام حسن ونگامی، غلام نبی خان شاہد، محمد عبداللہ مسکین، غلام قادر ناز، ارشاد ابن مختار اور عاشق فیاض سمیت کئی شعرا نے اپنے کلام سے محفل کو رونق بخشی تھی۔ ان ناموں کے ساتھ ریاض ربانی کبھی کسی شعر کا حوالہ دیتے، کبھی کسی شاعر کے اندازِ بیان کی تعریف کرتے اور کبھی کسی دلچسپ واقعے کا ذکر چھیڑ دیتے۔ ان کی باتوں سے یوں لگ رہا تھا جیسے گزشتہ شب کا مشاعرہ ابھی ختم نہیں ہوا، بلکہ اس کے مختلف مناظر ہماری آنکھوں کے سامنے ایک ایک کرکے روشن ہو رہے ہوں۔
اسی دوران مجید مجازی نے ریاض ربانی کی طرف رخ کیا اور مسکراتے ہوئے کہا:
’’ریاض صاحب! آپ نے بھی کمال کے شعر پڑھے تھے۔‘‘
شبیر بانہالی نے فوراً بات پکڑ لی:
’’اچھا! تو اب اصل راز سمجھ میں آیا۔ ریاض صاحب کل کے مشاعرے کی اتنی تعریف کیوں کر رہے ہیں!‘‘
ایک بار پھر سب کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ ریاض ربانی نے بھی ہنستے ہوئے اس چوٹ کو برداشت کیا۔ ان کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اپنی تعریف سن کر خوش تو ہیں، لیکن محفل کی بے تکلفی میں خود کو دوسروں سے الگ نہیں سمجھتے۔
اچانک مجید مجازی میری طرف متوجہ ہوئے۔
’’سالک صاحب! آپ کے دوست حسن اظہر نے بھی سامعین کو اپنے کلام سے متاثر کیا۔‘‘
حسن اظہر کا نام سنتے ہی مجھے خوشی ہوئی۔ دل میں ایک ہلکی سی کسک بھی ابھری کہ گزشتہ شب میرے کئی شناسا شعرا نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا تھا اور میں اپنی عدم موجودگی کے باعث اس تجربے سے محروم رہ گیا تھا۔ میں نے مجید مجازی سے کہا:
’’یہ سن کر خوشی ہوئی۔ حسن اظہر سے میری شناسائی ہے، اس لیے ان کی اچھی کارکردگی کا ذکر میرے لیے دوہری مسرت کا باعث ہے۔ افسوس صرف اس بات کا ہے کہ یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکا۔‘‘
ریاض ربانی نے گفتگو سمیٹتے ہوئے بتایا کہ مشاعرے کی نظامت نوجوان شاعر اور ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ فاروق شاہین انجام دے رہے تھے۔ رات تقریباً ڈیڑھ بجے منشور بانہالی صاحب نے اپنا کلام پیش کیا اور صدارتی کلمات ادا کیے۔ ان کے خطاب کے ساتھ مشاعرے کا اختتام ہوا۔
مجید مجازی اور ریاض ربانی کی گفتگو سے گزشتہ شب کی محفل کا نقشہ میرے ذہن میں ابھر چکا تھا۔ امین اشرف کی مزاحیہ شاعری پر بلند ہوتے قہقہے، سید رشید جوہر کی نظم ’’حاجن‘‘ میں مقامی تہذیب و ثقافت کی جھلک، جانان الطاف کی نظم ’’موت‘‘ کا سنجیدہ تاثر، نثار اعظم اور دوسرے شعرا کے مختلف تخلیقی رنگ۔۔۔یہ سب مل کر ایک ایسی محفل کی تصویر بنا رہے تھے جس میں ہنسی بھی تھی، فکر بھی، مقامی تہذیب سے وابستگی بھی اور شاعری کے مختلف مزاجوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع بھی۔
میں نے محسوس کیا کہ کسی ادبی محفل کا پورا تاثر صرف اس کے شرکا کی فہرست یا پڑھے گئے کلام کے ناموں سے قائم نہیں ہوتا۔ اس کی فضا، سامعین کا ردعمل، شعر پڑھنے والے کا انداز اور کسی مصرعے پر اچانک چھا جانے والی خاموشی یا گونج اٹھنے والے قہقہے بھی اس تجربے کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان سب کو میں دوسروں کی زبانی سن رہا تھا، مگر ذہن میں ان کا ایک منظر بنتا جا رہا تھا۔
شبیر بانہالی نے میری طرف دیکھا۔ ان کے چہرے پر وہی شوخ مسکراہٹ تھی۔
’’سالک صاحب! اب تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ تحقیق کے ساتھ کبھی کبھی مشاعرے کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ آخر ادب صرف کتابوں، قدیم متون اور تاریخی حوالوں کا نام تو نہیں۔ اس میں زندہ آوازیں بھی شامل ہیں۔‘‘
میں ان کی بات سن کر مسکرایا۔ اس بار ان کی شوخی کے پیچھے چھپا نکتہ مجھے پہلے سے زیادہ واضح محسوس ہوا۔
’’بالکل درست فرمایا آپ نے۔ ادب صرف تحقیق کا نام نہیں۔ شاعری، افسانہ، تنقید، روایت اور ادبی محفلیں، سب اس کا حصہ ہیں۔ میری دلچسپی تحقیق میں زیادہ ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں شاعری سے دور ہوں۔ میں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ مشاعروں میں واہ واہ کے ساتھ اچھے شعر کی معنویت اور اس کی فکری جہات پر بھی گفتگو ہو۔ اگر داد و تحسین کے ساتھ شعر کو سمجھنے اور پرکھنے کا ذوق بھی پیدا ہو جائے تو ادبی محفلوں کی افادیت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔‘‘
مجید مجازی نے میری بات سنتے ہی مسکراتے ہوئے کہا:
’’پھر تو آپ کو بعد میں شروع ہونے والے مشاعرے میں ضرور آنا چاہیے۔ ہم بھی دیکھیں گے کہ آپ داد دیتے ہیں یا ہر شعر کا تجزیہ شروع کر دیتے ہیں!‘‘
شوکت شفیع کے چہرے پر پھر مسکراہٹ نمودار ہوئی اور شبیر بانہالی نے بھی ہنستے ہوئے میری طرف دیکھا۔ میں اپنی ہنسی نہ روک سکا۔
’’آپ اطمینان رکھیے، میں شعر سننے جاؤں گا تو شعر ہی سنوں گا۔ البتہ کسی شعر میں کوئی دلچسپ فکری پہلو نظر آ گیا تو اس پر بات کرنے سے خود کو روکنا شاید میرے لیے مشکل ہو۔‘‘
شبیر بانہالی نے فوراً کہا:
’’تو پھر طے رہا، اگلی محفل میں آپ کی شرکت ضروری ہے۔ اس بار آپ خود فیصلہ کیجیے گا کہ مشاعرے میں صرف واہ واہ ہوتی ہے یا اس کے اندر کوئی اور دنیا بھی آباد ہے۔‘‘
ان کی بات پر سب مسکرا دیے۔ میں نے کوئی حتمی وعدہ نہیں کیا، لیکن دل ہی دل میں یہ ضرور سوچا کہ شاید کسی ادبی محفل کو سمجھنے کے لیے اس کا حصہ بننا بھی ضروری ہے۔ دوسروں کے بیان سے ہم اس کے خدوخال تو بنا سکتے ہیں، مگر اس کی اصل کیفیت، اس کا اثر اور اس کی روح اسی وقت محسوس ہوتی ہے جب ہم خود اس فضا میں موجود ہوں۔
میں کچھ دیر پہلے تک اس بات پر افسوس کر رہا تھا کہ ایک مشاعرے میں شرکت نہ کر سکا، مگر اب اس محرومی نے میرے اندر ایک نیا سوال جگا دیا تھا۔ کیا تحقیق اور تخلیق، روایت اور تجربہ، مطالعہ اور سماعت کو ایک دوسرے سے الگ خانوں میں رکھ کر ادب کو پوری طرح سمجھا جا سکتا ہے؟ شاید نہیں۔ کتابوں میں محفوظ ادب اپنی جگہ اہم ہے، مگر جب یہی ادب کسی شاعر کی آواز میں ڈھل کر سامعین کے دلوں تک پہنچتا ہے تو اس کی ایک نئی زندگی سامنے آتی ہے۔
اس خیال کے ساتھ میں نے پنڈال کی طرف نگاہ ڈالی۔ کانفرنس کی سرگرمیاں جاری تھیں اور دن کا ایک نیا مرحلہ ہمارا منتظر تھا۔ گزشتہ شب کے مشاعرے سے محرومی کا احساس اب بھی کہیں موجود تھا، لیکن اس کے ساتھ یہ خواہش بھی پیدا ہو چکی تھی کہ اگلی بار کسی محفل کو دوسروں کی زبانی سننے کے بجائے خود اس کا حصہ بنوں۔ آخر بعض تجربات کا علم صرف سننے سے نہیں، انہیں جینے سے حاصل ہوتا ہے۔ (جاری)

