• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Thursday, October 22, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (40)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
October 22, 2026
in اردو خبریں
A A
ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (40)
FacebookTwitterWhatsapp

ڈاکٹر یونس ٹھوکر کا مقالہ مکمل ہوتے ہی پنڈال میں موجود بعض شخصیات نے اس پر اظہارِ خیال کی خواہش ظاہر کی، لیکن صدرِ نشست پروفیسر شاد رمضان نے طے کیا کہ پہلے تینوں مقالے سنے جائیں گے، اس کے بعد تبصرے اور تبادلۂ خیال ہوگا۔ چنانچہ یہ مرحلہ مؤخر ہوا اور ریاض الحسن نے دوسرے مقالہ نگار، جناب سید اختر حسین منصور، کو کشمیری مرثیے پر اپنا مقالہ پیش کرنے کے لیے مدعو کیا۔
نعتیہ شاعری کی عقیدت بھری فضا سے نکل کر اب محفل ایک ایسی صنفِ سخن کی طرف بڑھ رہی تھی جس کا رشتہ کربلا کے المیے، شہادت اور انسانی تاریخ کے ایک دردناک باب سے جڑا ہے۔ میرے لیے یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہ تھا کہ فاضل مقالہ نگار کشمیری مرثیے کی تاریخ اور ادبی خصوصیات کو کس زاویے سے پیش کرتے ہیں۔
سید اختر حسین منصور کو میں کئی برسوں سے جانتا ہوں۔ وہ بنیادی طور پر شاعر ہیں، تاہم تحقیق و تنقید سے بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ آج کل افسانے بھی لکھ رہے ہیں، جن میں حقیقت نگاری نمایاں ہے۔ وہ کہانی اور افسانے کو دو الگ اصناف تصور کرتے اور ان کے مابین فرق قائم رکھنے کے قائل ہیں۔ یہ ایک الگ نظریاتی بحث ہے، جس کے لیے پھر کبھی وقت نکالیں گے۔
فی الحال میری توجہ ان کے موضوع پر مرکوز تھی۔ دورانِ تعلیم، ایم اے کے زمانے میں، اردو مرثیے کا مطالعہ کرتے ہوئے میر انیس کے کلام نے میرے ذہن پر گہرے نقوش چھوڑے تھے۔ کشمیری مرثیے کا ذکر سنتے ہی ان کا یہ شعر یاد آگیا:
عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں
پانچویں پشت ہے شبیرؓ کی مداحی میں
یہ شعر محض شاعر کی اپنی ادبی وابستگی کا اظہار نہیں، بلکہ اس روایت کی نشان دہی بھی کرتا ہے جس میں کربلا کا المیہ نسل در نسل شعری اظہار کا حصہ بنتا رہا ہے۔ مرثیہ کسی سانحے کی روداد بیان کرنے تک محدود نہیں رہتا۔ اس میں وفا، ایثار، حق پرستی اور انسانی احساس کی ایسی جہتیں بھی سامنے آتی ہیں جو اسے محض تاریخی بیان سے بلند کردیتی ہیں۔ اب دیکھنا یہ تھا کہ کشمیری مرثیہ نگاری نے ان جذبات کو اپنی زبان اور تہذیب میں کس طرح جذب کیا ہے۔
سید اختر حسین منصور نے رثائی ادب کی اہمیت، افادیت اور وسعت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری مرثیے نے فارسی اور اردو کی روایت سے الگ اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی ہے۔ ان کے مطابق، روایتی کشمیری مرثیے میں عموماً پہلے حمد، پھر نعت، اس کے بعد منقبت اور آخر میں واقعۂ کربلا کا بیان ملتا ہے۔ اس صنف کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں کربلا کے دردناک واقعات کے ساتھ علم و عرفان، فلسفے اور نفسیات جیسے موضوعات بھی زیرِ بحث آتے ہیں۔ یوں مرثیہ ایک تاریخی سانحے کی منظوم روداد ہونے کے ساتھ فکری اور روحانی تجربے کے اظہار کا وسیلہ بھی بن جاتا ہے۔
فاضل مقالہ نگار نے کشمیری مرثیے کے مقامی رنگ کی وضاحت کرتے ہوئے ایک اہم نکتہ پیش کیا:
’’اس میں کوئی دورائے نہیں کہ واقعۂ کربلا کے بنیادی کردار عرب سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ہمارے کشمیری مرثیہ نگاروں کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے ان کرداروں کو کشمیری تہذیب و تمدن کے رنگ میں پیش کیا۔ ان کے رہن سہن، جذبات، طرزِ احساس اور اظہار کے انداز میں مقامی زندگی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ اس تخلیقی عمل کے ذریعے کربلا کا واقعہ کشمیری سامعین اور قارئین کے لیے محض ایک دور افتادہ تاریخی سانحہ نہیں رہتا، بلکہ ان کے اپنے تہذیبی اور جذباتی تجربے کا حصہ بن جاتا ہے۔ شاید یہی مقامی رنگ کشمیری مرثیے کی انفرادیت کا ایک اہم پہلو ہے۔‘‘
شبیر بانہالی نے میری طرف متوجہ ہوکر کہا:
’’یقیناً کشمیری مرثیے کا یہ پہلو قابلِ ذکر ہے۔‘‘
میں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اثبات میں سر ہلا دیا۔
’’بے شک!‘‘
اس کے بعد مقالہ نگار نے کشمیری مرثیے کی ابتدا کو امیر کبیر حضرت میر سید علی ہمدانی کے زمانے سے وابستہ کیا اور سلطان سکندر کے عہد سے اس کے باقاعدہ نمونے ملنے کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق، اس کے بعد تقریباً پانچ سو برس تک یہ روایت بتدریج آگے بڑھتی رہی۔
یہاں میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا۔ اتنے طویل تاریخی عرصے کا ذکر تو ہوا، لیکن اس دوران مرثیہ کہنے والے شعرا کے نام اور ان کے کلام کے نمونے سامنے نہیں آئے۔ میں سوچنے لگا کہ اگر مختلف ادوار کے اہم مرثیہ نگاروں کا مختصر تعارف بھی شامل ہوتا تو اس صنف کے ارتقا کی تصویر زیادہ واضح ہوجاتی۔ محض صدیوں کا تعین کافی نہیں۔ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ان ادوار میں تخلیقی سطح پر کیا تبدیلیاں رونما ہوئیں۔
پھر 1819ء کا حوالہ آیا۔ مقالہ نگار نے سکھ دور کے بعد کشمیری مرثیے کے عروج کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس مرحلے پر اس صنف نے فارسی اور اردو کی شعری روایت سے الگ اپنا عروضی نظام تشکیل دیا اور حمد، نعت، منقبت، مدح اور مرثیے کے مختلف اجزائے ترکیبی بھی باقاعدہ صورت اختیار کرنے لگے۔ اس سلسلے میں مرزا ابوالقاسم، منشی صفدر، حکیم عظیم، منشی یوسف اور دیگر شعرا کے نام سامنے آئے۔
ان ناموں کو سنتے ہوئے میرے ذہن میں سوال اٹھا کہ اس فنی تشکیل میں ہر شاعر کا انفرادی حصہ کیا تھا؟ کس نے زبان کو وسعت دی، کس نے عروضی نظام کو استحکام بخشا اور کس کے ہاں مقامی تہذیب و معاشرت کے نقوش زیادہ نمایاں ہوئے؟ میرے خیال میں ایسے سوالات کے جواب ہی ادبی تاریخ کو محض ناموں اور واقعات کے بیان سے آگے لے جاکر ایک مربوط مطالعے میں تبدیل کرتے ہیں۔
گفتگو جب موجودہ دور کی مرثیہ نگاری تک پہنچی تو ایک اصطلاحی نکتہ میرے ذہن میں آیا۔ ادب میں ’’جدید‘‘ اور ’’معاصر‘‘ مترادف نہیں ہیں۔ جدیدیت ایک مخصوص فکری اور فنی رجحان کی طرف اشارہ کرتی ہے، جب کہ معاصر کا تعلق اپنے عہد میں تخلیق کرنے والے ادیبوں اور شعرا سے ہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ مقالہ نگار دراصل موجودہ دور کے مرثیہ نگاروں کا ذکر کر رہے ہیں، اس لیے یہاں ’’معاصر مرثیہ نگاری‘‘ کی اصطلاح زیادہ موزوں ہوتی۔ یہ خیال میں نے اپنے تک محدود رکھا اور گفتگو سنتا رہا۔
مقالہ نگار کے مطابق، معاصر مرثیہ نگاری میں روایتی طرز کے نمونے نسبتاً کم ملتے ہیں اور وقت کے ساتھ اس صنف کے موضوعات اور اسلوب میں تبدیلی آئی ہے۔ اسی ضمن میں انہوں نے ایک اور دلچسپ نکتے کی طرف توجہ دلائی۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری مرثیے کے عروج کے زمانے میں نوحہ الگ مستقل صنف کی حیثیت سے معروف نہیں تھا، بلکہ مرثیے ہی کی روایت میں شامل سمجھا جاتا تھا۔ بعد میں، جب مرثیے کی ساخت میں ’’وان‘‘ کے عنوان سے ایک جز شامل ہوا تو نوحے نے رفتہ رفتہ اپنی الگ شناخت قائم کرلی۔
یہ نکتہ قابلِ غور تھا، کیونکہ ادبی اصناف کی حدود ہمیشہ ابتدا ہی سے متعین نہیں ہوتیں۔ وقت کے ساتھ ہیئت، موضوع اور طرزِ ادائیگی میں تبدیلیاں کسی صنف کو نئی شناخت عطا کرسکتی ہیں۔
مقالہ ابھی جاری تھا کہ شوکت شفیع نے چائے پینے کی خواہش ظاہر کی۔ میں نے بھی فوراً ہامی بھر لی۔ ہم دونوں پنڈال سے باہر نکلے تو سامنے نظیر قریشی المعروف ابن شہباز نظر آئے۔ شوکت شفیع کو دیکھتے ہی وہ آگے بڑھے اور دونوں گرم جوشی سے گلے ملے۔ میں نے بھی ان سے مصافحہ کیا۔ رسمی سلام دعا کے بعد طے پایا کہ تینوں مل کر چائے پیتے ہیں۔
گزشتہ روز ہم اسی مقام پر چائے پی چکے تھے، اس لیے کسی سے راستہ پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ شوکت شفیع نے کولڈ ڈرنک منگوائی، جب کہ نظیر قریشی اور میں چائے پر اکتفا کرنے لگے۔ باتوں باتوں میں شوکت شفیع نے نظیر قریشی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
’’یار۔۔۔ اب اباجی کی کلیات کو منظرِ عام پر آنا چاہیے۔‘‘
’’اباجی‘‘ کا نام سن کر میں ایک لمحے کے لیے چونکا۔ چند ہی لمحوں میں معلوم ہوا کہ وہ علی محمد شہبازؔ کا ذکر کر رہے ہیں، جنہیں اباجی کہہ کر یاد کیا جاتا ہے۔ کشمیری شاعری کی تاریخ میں شہبازؔ کی اہمیت ایسی ہے کہ ان کے کلام کے مکمل مجموعے کی اشاعت یقیناً ادبی حلقوں کی ایک اہم ضرورت ہے۔
شوکت شفیع کی اس مختصر سی بات میں ایک دیرینہ خواہش اور ادبی سرمائے کو محفوظ کرنے کی فکر پوشیدہ تھی۔ نظیر قریشی نے انہیں یقین دلایا کہ کلیات پر کام جاری ہے اور امید ہے کہ اگلے سال تک مکمل ہوجائے گا۔
شوکت صاحب نے مسکراتے ہوئے فوراً جواب دیا:
’’تم ہر سال یہی کہتے ہو!‘‘
ان کے لہجے میں ناراضی سے زیادہ اپنائیت تھی، مگر شکوے کے پیچھے موجود سنجیدگی بھی واضح تھی۔ نظیر قریشی کلیات کی تیاری اور اشاعت میں حائل مشکلات بیان کرنے لگے۔ مواد کی ترتیب، کتاب کی تیاری اور اخراجات اپنی جگہ اہم مسائل تھے، لیکن شوکت شفیع کا اصرار تھا کہ اس کام کو اب مزید مؤخر نہیں ہونا چاہیے۔
میں دونوں کی گفتگو سنتا رہا۔ ایک طرف مشکلات کی تفصیل تھی، دوسری طرف ایک اہم شاعر کے ادبی سرمائے کو محفوظ کرنے کی بے چینی۔ مناسب موقع دیکھ کر میں نے بھی اپنی رائے پیش کی:
’’آپ دونوں اس معاملے میں ایک باقاعدہ میٹنگ رکھیں۔ البتہ میٹنگ میں وازوان کا اہتمام بھی ہونا چاہیے، تاکہ میں بھی شرکت کرسکوں اور کتاب کی اشاعت کے حوالے سے کچھ مفید مشورے دے سکوں!‘‘
میری بات سنتے ہی شوکت شفیع ہنس پڑے۔
’’سالک! تم ہر بات کو مزاح میں اڑا دیتے ہو۔‘‘
ان کے اس جملے پر میں بھی مسکرا دیا۔ ادبی معاملات کی سنجیدگی اپنی جگہ، مگر دوستوں کی محفل میں مزاح کی گنجائش نکل ہی آتی ہے۔
اسی دوران میری نظر شبیر ماٹجی پر پڑی۔ سلام دعا کے بعد معلوم ہوا کہ انہوں نے میزان پبلکیشنز کا ایک اسٹال لگایا ہے، جہاں مقامی ادیبوں کی کتابیں رعایتی قیمتوں پر دستیاب ہیں۔
یہ منظر ہماری ابھی کی گفتگو سے ایک دلچسپ ربط رکھتا تھا۔ چائے کی میز پر ہم ایک شاعر کی کلیات کی اشاعت میں تاخیر پر بات کر رہے تھے، جب کہ یہاں مقامی ادیبوں کی کتابیں قارئین تک پہنچانے کی کوشش جاری تھی۔ ایک طرف ادبی سرمایہ اشاعت کا منتظر تھا، دوسری طرف شائع شدہ کتابیں اپنے قارئین کی تلاش میں تھیں۔ مجھے محسوس ہوا کہ کتاب کی دنیا میں تخلیق، اشاعت اور ترسیل، تینوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ کسی ایک مرحلے میں رکاوٹ ہو تو ادب کا سفر بھی متاثر ہوتا ہے۔
نظیر قریشی نے چائے کے پیسے ادا کیے اور ہم واپس پنڈال کی طرف روانہ ہوئے۔ ہائر سیکنڈری اسکول کے گیٹ پر پہنچے تو ڈاکٹر رفیق مسعودی صاحب مل گئے۔ ہمیں دیکھتے ہی انہوں نے بے تکلفی سے کہا:
’’سالک! میرے رشتہ دار کو کہاں لے گئے تھے؟‘‘
ان کے اس شگفتہ شکوے میں محبت بھی تھی اور اپنائیت بھی۔ میں جواب دیتا، اس سے پہلے ہی نظیر قریشی نے پوچھ لیا:
’’سنا ہے، آپ کی ٹانگ میں چوٹ لگی تھی؟‘‘
مسعودی صاحب نے پتلون کا ایک پائنچہ ذرا اوپر کرکے زخم دکھایا۔ زخم ابھی پوری طرح مندمل نہیں ہوا تھا، لیکن ان کے چہرے پر تکلیف کا کوئی نمایاں تاثر نہ تھا۔ ہنستے ہوئے بولے:
’’بھائی! یہ تو چلتا رہتا ہے۔‘‘
ان کی بے ساختہ زندہ دلی نے مجھے متاثر کیا۔ اپنی تکلیف کو اس خندہ پیشانی سے معمولی بنا کر پیش کرنا اور دوسروں سے ملتے وقت اسی خوش مزاجی کو برقرار رکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ وہ گیٹ سے باہر نکل گئے، مگر ان کا انداز میرے ذہن میں رہ گیا۔
میں نے شوکت شفیع کی طرف دیکھ کر کہا:
’’ایک بات تو ماننی پڑے گی کہ مسعودی صاحب واقعی زندہ دل انسان ہیں۔‘‘
شوکت شفیع اور نظیر قریشی نے میری تائید کی تو میں نے ایک اور بات چھیڑ دی:
’’اکادمی کے لوگ تو مسعودی صاحب کو ادب کا بخشی غلام محمد کہتے ہیں۔‘‘
نظیر قریشی یہ سن کر ہنس پڑے، پھر پوچھنے لگے کہ انہیں یہ لقب کیوں دیا گیا ہے ۔
میں نے بتایا:
’’جب رفیق مسعودی صاحب کلچرل اکادمی کے سیکریٹری بن کر آئے تو ملازمین کی ترقیاں بیس بیس سال سے رکی ہوئی تھیں۔ انہوں نے آکر تقریباً تمام ملازمین کی پروموشن کا راستہ صاف کیا۔ آج آپ جموں وکشمیر بورڈ کی جن عمارتوں کو اکادمی کی تحویل میں دیکھ رہے ہیں، ان کے پیچھے بھی ان کی کوششوں کا بڑا دخل ہے۔ان کے دور ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کا یہ عالم تھا کہ بعض اوقات دن میں دو دو پروگرام ہوا کرتے تھے۔‘‘
شوکت شفیع نے بھی میری بات کی تصدیق کی۔ گفتگو سے یہ احساس مزید پختہ ہوا کہ کسی ادارے میں کسی شخص کی اہمیت صرف اس کے عہدے سے متعین نہیں ہوتی۔ اس کے کام اور فیصلے اس کی اصل پہچان بنتے ہیں، اور ان کے اثرات عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی باقی رہتے ہیں۔
نظیر قریشی نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا:
’’مسعودی صاحب اچھے ایڈمنسٹریٹر ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر بھی ہیں۔ حال ہی میں ان کا کشمیری شعری مجموعہ بھی شائع ہوا ہے۔‘‘
ہم انہی باتوں میں محو تھے کہ پنڈال سے ریاض الحسن کی آواز سنائی دی۔ اعلان ہوا کہ سید اختر حسین منصور کا مقالہ اختتام پذیر ہوچکا ہے اور اب تیسرے مقالہ نگار، ڈاکٹر سوہن لال کول، کو مقالہ پیش کرنے کے لیے مدعو کیا جا رہا ہے۔ (جاری)

Previous Post

Spring Buds Educational Institute Ompora Ranked No. 1 in Budgam in EducationWorld India School Rankings 2026–27

Next Post

EMPOWERING J&K YOUTH: INDIAN ARMY CONDUCTS MASSIVE CAREER OUTREACH PROGRAMME IN BHADERWAH TO INSPIRE FUTURE WARRIORS

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Next Post
EMPOWERING J&K YOUTH: INDIAN ARMY CONDUCTS MASSIVE CAREER OUTREACH PROGRAMME IN BHADERWAH TO INSPIRE FUTURE WARRIORS

EMPOWERING J&K YOUTH: INDIAN ARMY CONDUCTS MASSIVE CAREER OUTREACH PROGRAMME IN BHADERWAH TO INSPIRE FUTURE WARRIORS

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.