• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Saturday, October 24, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (42)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
October 24, 2026
in اردو خبریں
A A
ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (42)
FacebookTwitterWhatsapp

ڈاکٹر یونس ٹھاکر، سید اختر حسین منصور اور ڈاکٹر سوہن لعل کول کے مقالات سننے کے بعد سامعین کے ذہنوں میں کئی سوالات گردش کر رہے تھے۔ بعض حضرات اپنی نشستوں سے اٹھ کر مقالہ نگاروں سے کچھ پوچھنا چاہتے تھے، لیکن وقت کی کمی آڑے آ رہی تھی۔ صاحبِ صدر نے سوال و جواب کی گنجائش پیدا کرنے کے بجائے کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
ریاض الحسن نے بھی اس فیصلے کی پابندی کرتے ہوئے مائیک ڈاکٹر شفیع سنبھلی کے حوالے کر دیا۔
ڈاکٹر شفیع سنبھلی نے گفتگو شروع کرتے ہی ادبی مرکز کمراز کے ذمہ داروں کو مبارک باد دیتے ہوءے کہا:
’’کشمیری عقیدتی ادب جیسے اہم موضوع پر اتنی شاندار کانفرنس کا انعقاد یقیناً قابلِ ستائش ہے۔ میں گزشتہ روز سے یہاں موجود ہوں اور تقریباً تمام نشستوں میں شریک رہا ہوں۔ اس دوران بہت کچھ سننے اور سیکھنے کا موقع ملا۔ تاہم، ایک بات ہے جس کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔‘‘
وہ ایک لمحے کے لیے رکے، گویا اپنی بات کو مناسب انداز میں پیش کرنے کے لیے الفاظ کا انتخاب کر رہے ہوں۔
’’کشمیری نعت پر جو مقالہ پڑھا گیا، اس میں پروفیسر رحمان راہی کی نعت نگاری کا کوئی ذکر نہیں آیا۔ مجھے اس بات کا افسوس ہوا۔ راہی صاحب کی نعت کو نظرانداز کرکے کشمیری نعت گوئی کی تاریخ کا جائزہ کیسے مکمل ہو سکتا ہے؟ میرے نزدیک ان کی نعت اس شعری روایت کا ایک اہم پڑاؤ ہے، جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘
انہوں نے اپنی بات کو صرف نعت تک محدود نہیں رکھا۔
’’کشمیری مرثیے اور بھگتی شاعری پر پڑھے گئے مقالات میں بھی کئی پہلو ایسے تھے جن پر مزید گفتگو ہو سکتی تھی۔ لیکن اس کے باوجود میں تمام مقالہ نگاروں کو مبارک باد دینا چاہوں گا کہ انہوں نے محنت اور لگن سے اپنے موضوعات پر کام کیا۔ علمی مباحث میں اختلاف اور سوال کی گنجائش ہمیشہ رہنی چاہیے۔ یہی چیز تحقیق کو آگے بڑھاتی ہے۔‘‘
ان کی گفتگو ختم ہوئی تو ریاض الحسن نے نشست کے صدر پروفیسر شاد رمضان کو صدارتی تقریر کے لیے دعوت دی۔
پروفیسر شاد رمضان نے سیدھے کانفرنس کے عنوان پر بات شروع کی ۔
’’کشمیری عقیدتی ادب ایک ایسا موضوع ہے جس پر ابھی بہت کچھ کہنے اور سننے کی ضرورت ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس کانفرنس میں ہونے والی گفتگو محض آج کی نشستوں تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ اس کے نتیجے میں تحقیق کے نئے راستے بھی کھلیں گے۔‘‘
اس کے بعد انہوں نے ایک اعلان کیا :
’’میں آپ کو یہ خوش خبری بھی دینا چاہتا ہوں کہ عنقریب ساہتیہ اکادمی کی جانب سے بھی کشمیری عقیدتی ادب پر ایک سیمینار منعقد کیا جائے گا، تاکہ اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر مزید سنجیدگی سے گفتگو ہو سکے۔‘‘
ڈاکٹر شفیع سنبھلی کی بات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا:
’’سنبھلی صاحب نے پروفیسر رحمان راہی کی نعت نگاری کا ذکر کیا۔ میں ان کی بات سے اتفاق کرتا ہوں۔ بلاشبہ راہی صاحب کی نعت کشمیری نعت گوئی کے سفر کا ایک اہم پڑاؤ ہے۔ ان کی شاعری کو نظرانداز کرکے اس روایت کی تاریخ مرتب کرنا ممکن نہیں۔ ان کے کلام میں اپنے عہد کا ادبی شعور بھی ہے، فکری گہرائی بھی اور اظہار کی ایک منفرد شان بھی۔ اس لیے ضروری ہے کہ کشمیری نعت کی تاریخ لکھتے وقت راہی صاحب کی نعت نگاری کو اس کے صحیح تناظر میں دیکھا جائے۔‘‘
یہاں تک گفتگو ایک مانوس ادبی بحث کے دائرے میں تھی، لیکن پروفیسر شاد رمضان نے جلد ہی ایک ایسے مسئلے کی طرف توجہ دلائی جو کلاسیکی ادب کی تفہیم میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کی گفتگو کا رخ اب متون کی تدوین اور تشریح کی طرف مڑ گیا تھا۔
’’کلاسیکی متن کی تدوین کرتے ہوئے ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے۔ مصنف نے حقیقتاً کیا کہا ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کیا کہنا چاہتا تھا، یہ دونوں الگ الگ باتیں ہیں۔ مرتب کا کام یہ نہیں کہ وہ مصنف کے الفاظ کو اپنی فہم کے مطابق درست کرنے لگے۔ اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ اصل متن تک پہنچنے کی کوشش کرے۔‘‘
انہوں نے اس فرق کو واضح کرتے ہوئے مزید کہا:
’’بعض اوقات ہمیں کوئی لفظ عجیب محسوس ہوتا ہے، کوئی ترکیب مانوس نہیں لگتی یا شعر کا مفہوم ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ ایسے موقعے پر ہم فوراً اسے بدلنے یا اپنی مرضی کا مطلب نکالنے لگتے ہیں۔ لیکن کیا یہ درست طریقہ ہے؟ اگر ہم کسی شاعر کے الفاظ کو اپنی سہولت کے مطابق ڈھال دیں تو پھر اس کی اصل تخلیق کہاں باقی رہے گی؟‘‘
ان کے اس سوال میں محض ایک اصول کی وضاحت نہیں تھی، بلکہ کلاسیکی ادب کی تدوین میں برتی جانے والی بے احتیاطیوں کے بارے میں ایک سنجیدہ تنبیہ بھی پوشیدہ تھی۔
پروفیسر شاد صاحب نے اپنے خاص انداز میں گفتگو آگے بڑھاءی :
’’جہاں کسی لفظ یا مصرعے کے بارے میں اختلاف ہو، وہاں قیاس آرائی سے فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ مختلف نسخوں کو دیکھنا چاہیے، زبان کے قواعد اور تاریخی شواہد سے مدد لینی چاہیے اور پھر دستیاب قرائن کی روشنی میں کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اور اگر کسی مقام پر قطعی فیصلہ ممکن نہ ہو تو اپنے شک کو چھپانے کے بجائے اسے واضح طور پر سامنے رکھنا چاہیے۔‘‘
اپنی بات سمجھانے کے لیے انہوں نے لل دید کے ایک مشہور واکھ کا حوالہ دیا:
’’اومہ پنہ صدرس ناو چھس لمان
کتہ بوزی دے میون میہ دی تار‘‘
پروفیسر شاد رمضان نے اس واکھ میں مستعمل ترکیب ’’اومہ پنہ‘‘ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا:
’’اومہ پنہ‘‘ ترکیب پر غور کیجیے۔ لل دید نے یہاں ایک غیرمعمولی اور گہرا استعارہ برتا ہے۔ لیکن بعد میں بعض لوگوں نے اسے ’اوم کے پنہ‘ کے مفہوم میں سمجھنے کی کوشش کی، گویا وہ خدا کے دھاگے سے اپنی کشتی کھینچ رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی متن ہمیں یہی معنی اخذ کرنے کی اجازت دیتا ہے؟ یا ہم اپنی طرف سے ایک مانوس مفہوم اس پر مسلط کر رہے ہیں؟‘‘
انہوں نے ذرا توقف کیا اور پھر اپنی بات آگے بڑھائی۔
’’کسی ترکیب کا بظاہر مانوس مطلب سامنے آ جانے سے یہ ضروری نہیں کہ وہی اس کا اصل مفہوم بھی ہو۔ بالخصوص لل دید جیسی شاعرہ کے ہاں، جہاں ایک مختصر سا لفظ بھی کئی معنوی پرتیں رکھ سکتا ہے، ہمیں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ لفظ کی صوتی ساخت، اس کے لسانی امکانات، شعر کا سیاق اور اس عہد کا فکری ماحول، سب کو سامنے رکھنا ہوگا۔‘‘
مجھے محسوس ہوا کہ پروفیسر شاد رمضان کی گفتگو اب ایک ایسے سوال کو چھو رہی تھی جو صرف لل دید کے ایک واکھ تک محدود نہیں، بلکہ پوری کلاسیکی کشمیری شاعری کی تدوین سے تعلق رکھتا ہے۔ اگر مختلف مرتبین ایک ہی لفظ کو الگ الگ انداز میں پڑھیں تو قاری کے لیے یہ طے کرنا آسان نہیں رہتا کہ اصل شاعر کے الفاظ آخر تھے کیا۔
پروفیسر شاد رمضان نے بھی اسی مسئلے کی طرف اشارہ کیا۔
’’کشمیری صوفی شاعری کی تدوین میں ہمیں اس نوعیت کے اختلافات بار بار نظر آتے ہیں۔ امین کامل نے ’صوفی شاعر‘کے عنوان سے تین ضخیم جلدیں مرتب کیں، موقی لال ساقی نے دو جلدوں میں ’صوفی شاعری‘ کو مرتب کیا اور پروفیسر شفیع شوق نے بھی اسی موضوع پرمواد شاءع کیا ۔لیکن جب ہم ان مجموعوں کا تقابل کرتے ہیں تو کئی مقامات پر الفاظ، مصرعوں کی ترتیب اور اشعار کی قرأت میں فرق دکھائی دیتا ہے۔‘‘
انہوں نے سامعین کے سامنے گویا ایک بنیادی سوال رکھ دیا:
’’اب سوال یہ ہے کہ اگر ایک ہی شاعر کا کلام مختلف مجموعوں میں مختلف صورتوں میں ملے تو ہم اصل متن تک کیسے پہنچیں؟ کیا کسی ایک مرتب کی قرأت کو بلا تحقیق درست مان لیا جائے؟ یا تمام دستیاب قرأتوں کو سامنے رکھ کر ان کا تقابلی مطالعہ کیا جائے؟ میرے خیال میں دوسری صورت ہی علمی دیانت کا تقاضا ہے۔‘‘
ان کا اشارہ ایک اہم حقیقت کی طرف تھا۔ کشمیری صوفی شاعری کا بڑا حصہ زبانی روایت کے ذریعے ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچا ہے۔ اس سفر میں لفظوں کی صوتی صورتیں بدل سکتی ہیں، مقامی لہجوں کا اثر پڑ سکتا ہے اور بعض اوقات کوئی غیرمانوس لفظ نقل کرنے والے یا مرتب کرنے والے کے لیے ایک مانوس لفظ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
لیکن پروفیسر شاد رمضان کے نزدیک زبانی روایت کا حوالہ اختلافی قرأتوں کو بلا تحقیق قبول کرنے کا جواز نہیں بن سکتا تھا۔
’’یہ درست ہے کہ زبانی روایت میں تبدیلی کے امکانات موجود رہتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر اختلاف کو روایت کے کھاتے میں ڈال کر آگے بڑھ جائیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کون سی قرأت کس نسخے میں ملتی ہے، اس کی لسانی بنیاد کیا ہے اور شعر کے سیاق میں وہ کس حد تک موزوں بیٹھتی ہے۔ جہاں فیصلہ ممکن نہ ہو، وہاں اختلاف کو باقی رہنے دینا بھی تحقیق کا ایک معتبر طریقہ ہے۔‘‘
اس کے بعد انہوں نے لل دید کے ایک اور واکھ میں استعمال ہونے والے لفظ ’’ننگہ نژن‘‘ اور اس کی متبادل قرأت ’’نہنگہ نژن‘‘ کا ذکر کیا۔
’’گزشتہ روز ایک فاضل دوست نے اس لفظ کی قرأت پر گفتگو کرتے ہوئے ’نہنگہ نژن‘ کو درست قرار دیا تھا۔جبکہ ’نہنگہ‘ پنجابی سے متعلق لفظ ہے، اس لیے چودھویں صدی کی لل دید کے کلام میں اس کی موجودگی کو محض قیاس کی بنیاد پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے نزدیک ’ننگہ نژن‘ کی قرأت شعر کے مفہوم کو زیادہ واضح کرتی ہے۔‘‘
پھر انہوں نے اس مسئلے کو محض دو لفظی صورتوں کے اختلاف تک محدود رکھنے کے بجائے ایک وسیع تر لسانی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
’’کسی لفظ کو کسی زبان سے منسوب کرنا ہو یا اس کی قدامت کا تعین کرنا ہو تو اس کے لیے شواہد درکار ہوتے ہیں۔ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ یہ لفظ فلاں زبان سے ملتا جلتا ہے، اس لیے شاعر نے اسے ضرور اسی زبان سے لیا ہوگا۔ اسی طرح کسی لفظ کو صرف اس وجہ سے مسترد بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ہمیں غیرمانوس محسوس ہوتا ہے۔ ہمیں صوتی تبدیلیوں، کشمیری زبان کے داخلی قواعد، تاریخی شہادتوں اور شعر کے سیاق کو ایک ساتھ دیکھنا ہوگا۔‘‘
ان کی بات میں ایک ایسا تحقیقی اصول پوشیدہ تھا جسے نظرانداز کرنا آسان نہیں۔ کلاسیکی متن میں کسی لفظ کی قرأت محض لسانی ذوق کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک باقاعدہ علمی تحقیق کا تقاضا کرتی ہے۔ خصوصاً ایسے متون میں جو صدیوں تک زبانی روایت کے سہارے زندہ رہے ہوں، کسی لفظ کی اصل صورت تک پہنچنے کے لیے متعدد شواہد کو یکجا کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔
پروفیسر شاد رمضان نے اب گفتگو کا دائرہ کچھ اور وسیع کیا۔
’’ہماری ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ جب کشمیری عقیدتی ادب کی بات کرتے ہیں تو زیادہ تر شاعری پر گفتگو ہوتی ہے۔ حالاں کہ عقیدتی نثر بھی ہماری ادبی روایت کا ایک اہم حصہ ہے۔ اگر ہم اس موضوع کا جامع مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو نثر کو اس سے باہر نہیں رکھ سکتے۔‘‘
انہوں نے مذہبی، صوفیانہ اور اخلاقی موضوعات پر لکھی گئی نثری تحریروں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا:
’’کشمیری نثر میں ایسے متون کی تلاش ہونی چاہیے جن میں مذہبی تعلیمات کی وضاحت، روحانی تجربات کی ترجمانی اور اخلاقی تصورات کی تشریح ملتی ہے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان تحریروں کی زبان کس طرح تشکیل پائی، ان پر فارسی اور عربی کے اثرات کس نوعیت کے تھے اور وقت کے ساتھ ان کے اسلوب میں کیا تبدیلیاں آئیں۔‘‘
ان کے نزدیک یہ کام محض چند تحریروں کو جمع کرکے شائع کر دینے سے مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔
پروفیسر شاد صاحب نے اپنے موقف کو دہراتےہوءےکہا :
’’پہلے ہمیں ایسے متون کی تلاش کرنا ہوگی، پھر ان کی تاریخِ تصنیف اور دستیاب نسخوں کا تعین کرنا ہوگا۔ اس کے بعد ان کے متن، زبان اور اسلوب کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر اس کام کو منظم انداز میں کیا جائے تو کشمیری عقیدتی نثر پر ایک مستقل تحقیقی منصوبہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف عقیدتی ادب کی تاریخ مرتب ہوگی، بلکہ کشمیری نثر کے ارتقا کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔‘‘
مجھے ان کی یہ بات خاصی اہم محسوس ہوئی۔ ہم اپنی ادبی تاریخ میں کئی اصناف اور موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں، لیکن بعض اوقات کسی موضوع کا ایک نمایاں حصہ ہماری توجہ سے باہر رہ جاتا ہے۔ کشمیری عقیدتی ادب کے سلسلے میں بھی یہی صورتِ حال سامنے آتی ہے کہ شاعری پر گفتگو نسبتاً زیادہ ہوتی ہے، جب کہ نثری روایت کی بازیافت اور تحقیق کے لیے ابھی خاصی گنجائش موجود ہے۔
پروفیسر شاد رمضان نے اس کے بعد کلاسیکی کشمیری مرثیے کا ذکر چھیڑا۔ ان کے مطابق بعض مورخین نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ ہمارے کلاسیکی مرثیوں میں وزن برقرار نہیں رہتا، لیکن ان کا اپنا مطالعہ اس رائے سے مختلف تھا۔
’’میں نے کلاسیکی مرثیوں کو پڑھتے ہوئے ان میں ایک خاص وزنی آہنگ محسوس کیا ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ آہنگ ہر جگہ عربی یا فارسی عروض کی معروف بحروں کے مطابق ہو، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم ان مرثیوں کو بے وزن قرار دے دیں۔‘‘
انہوں نے بات کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا:
’’ذرا لوک ادب کو دیکھیے۔ اس میں بھی ایک داخلی وزن، ایک ردھم اور صوتی ترتیب ہوتی ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر لوک گیت یا ہر روایتی نظم کو مروجہ عروضی پیمانوں پر پورا اترنا چاہیے۔ بعض اوقات زبان کا فطری تلفظ، لفظوں کی طوالت، مصرعوں کی ساخت اور گائیکی کا انداز مل کر ایک ایسا آہنگ پیدا کرتے ہیں جو اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔‘‘
ان کی گفتگو سےمیرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا:
” کیا کسی شعری صنف کو پرکھنے کے لیے صرف وہی پیمانے کافی ہیں جو دوسری زبانوں یا شعری روایتوں میں رائج رہے ہیں؟ یا ہر زبان کے اپنے صوتی مزاج اور شعری روایت کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے؟
پروفیسر شاد رمضان کا اصرار تھا کہ کلاسیکی کشمیری مرثیے کو اس کے اپنے لسانی اور تہذیبی پس منظر میں بھی پڑھا جانا چاہیے۔
’’اگر ہم کسی مرثیے کو صرف مروجہ عروضی بحروں پر پرکھیں گے تو ممکن ہے کہ اس کے داخلی آہنگ کی خصوصیات ہماری نگاہ سے اوجھل رہ جائیں۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مرثیہ خواں روایتی طور پر کہاں وقفہ کرتے ہیں، کس لفظ کو طول دیتے ہیں اور کس طرح مصرعے کا صوتی توازن برقرار رکھتے ہیں۔ یہ سب چیزیں اس کے وزنی نظام کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔‘‘
انہوں نے اس ضمن میں متن کی صحت کا مسئلہ بھی اٹھایا۔
’’اگر کسی مرثیے کے کسی مصرعے میں وزن کا خلل محسوس ہو تو فوراً یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہیے کہ شاعر سے غلطی ہوئی ہے۔ پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ کہیں نقل یا تدوین کے دوران متن میں تبدیلی تو نہیں آئی۔ مختلف نسخوں اور زبانی قرأتوں کا تقابل کیے بغیر ہم اصل صورت تک نہیں پہنچ سکتے۔‘‘
یہ نکتہ ان کی پوری گفتگو سے جڑا ہوا تھا۔ چاہے لل دید کے کسی واکھ میں ایک لفظ کی قرأت کا مسئلہ ہو، صوفی شاعری کے مختلف مجموعوں میں اختلاف ہو، عقیدتی نثر کی بازیافت کا سوال ہو یا کلاسیکی مرثیے کے وزن کا معاملہ، ہر جگہ ان کی توجہ ایک ہی بنیادی اصول کی طرف تھی۔ متن کو سمجھنے کے لیے اسے اس کے اصل لسانی، تاریخی اور ادبی تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔
پروفیسر شاد رمضان کی صدارتی تقریر کا آخری حصہ اسی اصول کی بازگشت تھا۔ انہوں نے کشمیری عقیدتی ادب کے مطالعے کو محض موضوعات اور اصناف کی درجہ بندی تک محدود رکھنے کے بجائے تحقیق کے کئی بنیادی تقاضوں کی طرف توجہ دلائی۔
’’ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا کہ کس شاعر نے کس موضوع پر لکھا۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس کا متن ہمارے پاس کس صورت میں پہنچا، اس کے الفاظ کی قرأت کتنی مستند ہے، اس کی زبان کس تاریخی مرحلے کی نمائندگی کرتی ہے اور اس کے اندر موجود آہنگ کو کس طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ کلاسیکی متون ہماری ادبی اور تہذیبی یادداشت کا حصہ ہیں۔ اگر ہم ان کی تدوین میں بے احتیاطی کریں گے تو ممکن ہے کہ غلط قرأتیں بھی آنے والی نسلوں تک پہنچ جائیں۔‘‘
انہوں نے اپنی بات سمیٹتے ہوئے کہا:
’’کشمیری عقیدتی ادب پر یہ کانفرنس ایک اچھی ابتدا ہے، لیکن اس میدان میں ابھی بہت سا کام باقی ہے۔ کلاسیکی شاعری کی مستند تدوین، عقیدتی نثر کی بازیافت اور مرثیے کے داخلی آہنگ کی تحقیق، یہ سب ایسے موضوعات ہیں جن پر سنجیدگی سے کام ہونا چاہیے۔ اگر ہم نے ان پہلوؤں پر توجہ دی تو کشمیری ادب کی کئی ایسی جہات سامنے آئیں گی جنہیں ہم اب تک پوری طرح سمجھ نہیں سکے ہیں۔‘‘
ان کی گفتگو ختم ہوئی تو میرے ذہن میں یہی خیال گردش کر رہا تھا کہ کسی ادبی کانفرنس کی کامیابی صرف اس بات میں نہیں ہوتی کہ اس میں کتنے مقالے پڑھے گئے یا کتنے اہلِ علم نے شرکت کی۔ اس کی اصل معنویت شاید اس وقت سامنے آتی ہے جب کوئی مقرر گفتگو کے دوران ایسے سوالات اٹھا دے جو نشست ختم ہونے کے بعد بھی ذہن کا پیچھا نہ چھوڑیں۔(جاری)

Previous Post

JKCDA Kashmir Holds Key Meeting in Srinagar, Discusses Trade Issues and AIOCD Elections

Next Post

Media Fraternity Karnah Holds Condolence Meeting, Expresses Grief Over the Demise of CNS Editor-in-Chief Rashid Rahi’s Elder Brother Prayers Offered for the Eternal Peace of Late Mohammad Anwar Rather; Solidarity Expressed with the Bereaved Family:

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Next Post
Media Fraternity Karnah Holds Condolence Meeting, Expresses Grief Over the Demise of CNS Editor-in-Chief Rashid Rahi’s Elder Brother Prayers Offered for the Eternal Peace of Late Mohammad Anwar Rather; Solidarity Expressed with the Bereaved Family:

Media Fraternity Karnah Holds Condolence Meeting, Expresses Grief Over the Demise of CNS Editor-in-Chief Rashid Rahi’s Elder Brother Prayers Offered for the Eternal Peace of Late Mohammad Anwar Rather; Solidarity Expressed with the Bereaved Family:

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.