• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Thursday, October 29, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

اادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (آخری قسط)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
October 29, 2026
in اردو خبریں
A A
اادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (آخری قسط)
FacebookTwitterWhatsapp

اعزازات اور انعامات کی تقسیم کا مرحلہ مکمل ہوا تو شبنم تلگامی نے ایوانِ صدارت میں تشریف فرما شخصیات سے اظہارِ خیال کی گزارش کی۔ کانفرنس اپنے اختتامی لمحات کی طرف بڑھ رہی تھی، لیکن محفل میں موجود اہلِ علم و ادب کے دلوں میں ابھی کئی باتیں تھیں، کئی سوال تھے اور کچھ ایسے احساسات بھی، جنہیں زبان دینا ضروری تھا۔ چنانچہ اختتامی نشست محض رسمی کلمات تک محدود نہ رہی، بلکہ کشمیری زبان و ادب کے حال، مستقبل اور اس سے وابستہ اجتماعی ذمہ داریوں پر غوروفکر کا ایک اہم موقع بن گئی۔
سب سے پہلے شبنم تلگامی نے پروفیسر نسیم شفائی کو اظہارِ خیال کی دعوت دی۔
پروفیسر نسیم شفائی نے ادبی مرکز کمراز کو دو روزہ کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر مبارک باد پیش کی، تاہم ساتھ ہی ایک اہم سوال بھی اٹھایا۔
’’مجھے معلوم نہیں کہ کانفرنس میں خواتین کو مدعو کیا گیا تھا یا نہیں، لیکن میرا ماننا ہے کہ ادبی سرگرمیوں میں خواتین کی شرکت اور نمائندگی کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ادب کی محفلیں اسی وقت مکمل ہوتی ہیں جب خواتین کی آواز بھی ان میں سنائی دے اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی بھرپور اظہار کا موقع ملے۔‘‘
پروفیسر نسیم شفائی نے اپنی گفتگو کا رخ کشمیری زبان کی موجودہ صورتِ حال کی طرف موڑتے ہوئے کہا:
’’گھروں میں کشمیری زبان بولنے کا رواج کم ہوتا جا رہا ہے اور مطالعے کی عادت بھی کمزور پڑ رہی ہے۔ میرے اپنے گھر میں ہزاروں کتابیں موجود ہیں، لیکن افسوس کہ انہیں پڑھنے والا کوئی نہیں۔ کتابیں موجود ہوں، علم کا سرمایہ آنکھوں کے سامنے ہو، مگر اسے پڑھنے اور اس سے رشتہ قائم کرنے والے نہ ہوں تو یہ ہمارے عہد کا ایک بڑا المیہ ہے۔‘‘
اپنی گفتگو کے اختتام پر پروفیسر نسیم شفائی نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا:
’’ادبی مرکز کمراز میرے نزدیک محض ایک تنظیم نہیں، بلکہ میرے خاندان کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی وابستگی کے تحت میں اپنی ذاتی لائبریری کی تمام کتابیں مرکز کی لائبریری کو عطیہ کرنا چاہتی ہوں، تاکہ یہ علمی سرمایہ دوسروں کے لیے بھی مفید ثابت ہو اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے استفادہ کر سکیں۔‘‘
اعلان سنتے ہی پنڈال تالیوں سے گونج اٹھا۔ یہ تالیاں محض ایک اعلان کی پذیرائی نہیں، بلکہ اس جذبۂ ایثار کی تحسین بھی تھیں جس نے ذاتی علمی سرمائے کو اجتماعی ورثے میں بدلنے کا فیصلہ کیا۔
اس کے بعد شبنم تلگامی نے جناب حسرت گڈھا کو اظہارِ خیال کی دعوت دی۔ انہوں نے اپنی گفتگو کو مختصر رکھتے ہوئے کہا:
’’میں صرف دو باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ پہلی گزارش یہ ہے کہ مردم شماری کے سلسلے میں مختلف معلومات درج کرنے کے لیے فارم وغیرہ تیار کیے جا رہے ہیں۔ میری اپیل ہے کہ مادری زبان کے خانے میں کشمیری زبان ہی درج کی جائے، تاکہ ہماری مادری زبان کی شناخت برقرار رہے۔‘‘
گڈھا صاحب کی بات سنتے ہی شوکت شفیع نے میری طرف دیکھ کر کہا:
’’سالک! گڈھا صاحب کی بات بظاہر معمولی سی گزارش لگتی ہے، لیکن اس کے پیچھے ہماری لسانی شناخت کا ایک اہم سوال پوشیدہ ہے۔ مادری زبان محض فارم میں درج ہونے والا ایک نام نہیں، بلکہ ہماری تہذیبی پہچان اور اپنی جڑوں سے وابستگی کی علامت بھی ہے۔ اس وابستگی کا اظہار بڑے ادبی اجتماعات ہی میں نہیں، بلکہ روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے فیصلوں میں بھی ہونا چاہیے۔‘‘
گڈھا صاحب نے اپنی دوسری بات میں کشمیری زبان کی قدامت اور اس کے تاریخی و لسانی پس منظر کے حوالے سے ایک بحث طلب دعویٰ پیش کیا:
’’میرا ماننا ہے کہ کشمیری زبان دراوڑی زبانوں کی ماں ہے۔‘‘
شبیر بانہالی نے گڈھا صاحب کا بیان سنتے ہی میری طرف دیکھا۔ ان کی نگاہ میں ایک خاموش سوال تھا، گویا پوچھ رہے ہوں کہ سالک صاحب، اس دعوے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
میں ان کی نگاہ کا مفہوم سمجھ گیا، مگر جواب دینے کے بجائے اندر ہی اندر سوچنے لگا کہ کشمیری زبان کو دراوڑی زبانوں کی ماں قرار دینے جیسے دعوے کو محض جذبات کی بنیاد پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے مستند لسانی شواہد، تقابلی مطالعے اور تاریخی تحقیق کی ضرورت ہے۔ زبانوں کے رشتے محض قیاس سے نہیں، علمی تحقیق سے ثابت ہوتے ہیں۔
حسرت گڈھا کے بعد شبنم تلگامی نے پروفیسر محمد زماں آزردہ کو صدارتی کلمات ادا کرنے کی دعوت دی۔ پروفیسر موصوف نے ادبی مرکز کمراز کے منتظمین کو دو روزہ کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا:
’’یہ میرے لیے بڑی خوشی کا موقع ہے کہ اس کانفرنس کا انعقاد اسی مقام پر کیا گیا جہاں سے ادبی مرکز کمراز کی بنیاد پڑی تھی۔ آج اس کانفرنس کو دیکھ کر بے اختیار پروفیسر محی الدین حاجنی اور محمد احسن احسن کی یاد آرہی ہے، جنہوں نے اس ادارے کی بنیاد رکھی اور اس کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ کاش! وہ آج ہمارے درمیان موجود ہوتے اور اپنی آنکھوں سے دیکھتے کہ ان کے ہاتھوں بویا گیا بیج ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ یقیناً، یہ منظر ان کے لیے باعثِ مسرت و افتخار ہوتا۔‘‘
زماں صاحب کے ان الفاظ میں محض ماضی کی یاد نہیں، بلکہ ایک پوری ادبی روایت کی داستان سمٹ آئی تھی۔ انہوں نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ خلوص، محنت اور زبان سے محبت کے ساتھ اٹھایا گیا ایک چھوٹا سا قدم وقت کے ساتھ ایک ایسی روایت بن جاتا ہے جس سے آنے والی نسلیں بھی رہنمائی حاصل کرتی ہیں۔
صدارتی کلمات کے بعد ادبی مرکز کمراز کے سرپرست ڈاکٹر رفیق مسعودی نے تحریکِ شکرانہ پیش کی۔ انہوں نے کانفرنس میں شریک مہمانوں، ادیبوں، شاعروں اور دیگر شرکائے محفل کا شکریہ ادا کیا۔ بالخصوص وہاب کلچر سوسائٹی اور دیگر تنظیموں کے کارکنوں کی شب و روز محنت کو سراہا اور کانفرنس کے کامیاب انعقاد میں مختلف سرکاری و نیم سرکاری اداروں کے تعاون کا اعتراف بھی کیا۔
اختتامی کلمات کے بعد شفیع شاکر نے مہمانوں سے پُرخلوص اصرار کیا کہ کوئی بھی ظہرانے میں شرکت کیے بغیر رخصت نہ ہو۔ ان کے اس انداز میں کشمیری مہمان نوازی کی روایت جھلکتی تھی۔ یوں دو روزہ ادبی اجتماع علمی و ادبی یادوں کے ساتھ اپنائیت اور خلوص کے خوش گوار احساس پر اختتام پذیر ہوا۔
شفیع شاکر کے اعلان کے ساتھ ہی مہمانوں نے پنڈال سے نکل کر اس شامیانے کا رخ کیا جہاں ظہرانے کا بھرپور انتظام کیا گیا تھا۔ ایک بار پھر حاجن کی روایتی مہمان نوازی اپنے پورے رنگ میں جلوہ گر تھی۔ مہمانوں کی خاطر تواضع میں جو خلوص اور اپنائیت نمایاں تھی، وہ اس اجتماع کی ادبی رونقوں میں ایک خوش گوار اضافہ تھی۔
شوکت شفیع اور میں نے جلدی جلدی ظہرانہ کیا اور محمد امین بٹ صاحب سے اجازت لینے کے لیے پنڈال کی طرف روانہ ہوئے۔ وہاں امین بٹ صاحب اور مجید مجازی کانفرنس کے انتظامی امور کے حوالے سے گفتگو میں مصروف تھے۔ ہمارے پہنچتے ہی انہوں نے اپنی بات سمیٹ لی اور میں نے بٹ صاحب سے رخصت چاہی۔ انہوں نے بڑی خندہ پیشانی سے اجازت دیتے ہوئے کہا، ’’سالک! ڈاکٹر سوہن لعل کول صاحب کو بھی اپنی گاڑی میں ساتھ لے جائیں۔‘‘ ان کی ہدایت پر ہم نے ڈاکٹر صاحب کو ساتھ لے جانے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ ڈاکٹر سوہن لعل کول صاحب بھی گاڑی میں آ بیٹھے اور ہم نے گیٹ کی طرف رخ کیا۔
ابھی ہماری گاڑی گیٹ سے نکلنے ہی والی تھی کہ نوجوان صحافی اور استاد صوفی یوسف پر نظر پڑی۔ انہوں نے بڑی اپنائیت سے گاڑی رکوائی اور بے تکلفی سے کہا، ’’مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلیے۔‘‘ ان کے اس پُرخلوص اصرار پر ہم نے گاڑی روک لی اور وہ بھی ہمارے ساتھ آ بیٹھے۔ یوں واپسی کا سفر ایک نئی رفاقت کے ساتھ شروع ہوا۔
اسی اثنا میں میرے موبائل کی گھنٹی بجی۔ اسکرین پر جناب گلزار جعفر کا نام جگمگا رہا تھا۔ فون اٹھایا تو دوسری طرف سے بڑی اپنائیت کے ساتھ شکوہ سننے کو ملا: ’’سالک صاحب! اجازت لیے بغیر ہی چل دیے؟‘‘ ان کے لہجے میں ناراضی سے زیادہ بے تکلفی اور محبت تھی۔ میں نے اپنی عجلت پر معذرت کی تو انہوں نے ہنستے ہوئے سلامتی کی دعا دی اور رخصت کیا۔ فون بند ہوا تو دل میں ایک مانوس سی اپنائیت کا احساس جاگا۔ میں نے محسوس کیا کہ بعض سفر اپنے ساتھ صرف یادیں نہیں لاتے، بلکہ ایسے تعلقات کی حرارت بھی دے جاتے ہیں جو رسمی ملاقاتوں سے کہیں آگے بڑھ کر دل میں جگہ بنالیتے ہیں۔
میں راستے بھرگاڑی چلاتے ہوئے یہی سوچتا رہا کہ ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس تو اپنے اختتام کو پہنچ گئی، مگر کیا اس کے ساتھ وہ سوالات بھی ختم ہوگئے تھے جو ان دو دنوں کے دوران میرے ذہن و دل میں ہلچل مچائے ہوئے تھے ؟ گاڑی آگے بڑھ رہی تھی، حاجن کے مانوس مناظر نگاہوں سے اوجھل ہو رہے تھے، لیکن کانفرنس کے مناظر، آوازیں اور چہرے میرے ذہن میں اب بھی تازہ تھے۔ ان دو دنوں میں بہت سی باتیں ہوئیں، خیالات کا تبادلہ ہوا، ماضی کی یادیں تازہ ہوئیں اور کشمیری زبان و ادب سے وابستہ شخصیات کی خدمات کا اعتراف بھی کیا گیا، لیکن واپسی کے اس سفر میں میرے اندر جو احساس سب سے زیادہ شدت کے ساتھ ابھر رہا تھا، وہ اپنی زبان کے تئیں ایک گہری ذمہ داری کا احساس تھا۔ میں خود سے پوچھ رہا تھا کہ جس زبان میں ہماری ماؤں نے ہمیں پہلی بار پکارا، جس کے لفظوں میں ہم نے دنیا کو پہچانا، جس کی لوریوں میں ہماری بچپن کی یادیں اور جس کے محاوروں، کہاوتوں اور لوک روایتوں میں ہماری تہذیب کی صدیوں پر محیط دانش محفوظ ہے، کیا ہم واقعی اس کا حق ادا کر رہے ہیں؟ ہم اپنی زبان سے محبت کا اظہار کرتے ہیں، اس کی عظمت بیان کرتے ہیں اور اس کے نام پر ادبی اجتماعات بھی منعقد کرتے ہیں، لیکن کیا ہماری یہ محبت ہماری روزمرہ زندگی، ہمارے گھروں، ہماری نئی نسل اور ہمارے عملی رویّوں میں بھی اتنی ہی نمایاں ہے؟ یہ سوال مجھے اندر ہی اندر بے چین کیے ہوئے تھا۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ زبان کی خدمت کا اصل امتحان اسٹیج پر کہی گئی تقریروں یا محفلوں میں کیے گئے وعدوں سے آگے شروع ہوتا ہے؛ اس کا تقاضا ہے کہ ہم اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، اپنی اولاد تک منتقل کریں اور اس کے علمی و ادبی سرمائے کو محفوظ کرنے کے ساتھ اسے زمانے کے بدلتے تقاضوں سے ہم آہنگ بھی کریں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ کانفرنس مجھے دوسروں کی خدمات کا اعتراف کرنے کے ساتھ اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت بھی دے رہی ہو۔ حاجن پیچھے رہ گیا تھا، کانفرنس ختم ہوچکی تھی، لیکن میرے اندر ایک سوال مسلسل سفر کر رہا تھا۔
” ہم نے اپنی زبان کے لیے اب تک کیا کیا ہے، اور جو کچھ ہم کر سکتے ہیں، اس کے لیے مزید کتنا انتظار کریں گے؟ ” (ختم شد)

Previous Post

Sopore Police Organises Debate Competition on “Role of Police in Nation Building”

Next Post

شمالی کشمیر یوتھ کانکلیو 2026 میں نوجوانوں کی پُرجوش شرکت، روزگار اور کاروبار کے مواقع سے جوڑنے کی کوشش

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Next Post
شمالی کشمیر یوتھ کانکلیو 2026 میں نوجوانوں کی پُرجوش شرکت، روزگار اور کاروبار کے مواقع سے جوڑنے کی کوشش

شمالی کشمیر یوتھ کانکلیو 2026 میں نوجوانوں کی پُرجوش شرکت، روزگار اور کاروبار کے مواقع سے جوڑنے کی کوشش

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.