نگڈھار، کرناہ | 6 نومبر: کسانوں کو جدید اور پائیدار زرعی طریقوں سے روشناس کرانے اور کیمیائی کھادوں و جراثیم کش ادویات سے پاک کاشتکاری کو فروغ دینے کے مقصد سے محکمہ زراعت زون ٹنگڈار کی جانب سے جمعہ کے روز کنڈی پائیں گاؤں میں پرمپراگت کرشی وکاس یوجنا (PKVY) کے تحت ایک آرگینک فیئر میلے کا انعقاد کیا گیا۔
اس میلے میں علاقے کے کسانوں، نامیاتی طریقے سے کاشتکاری کرنے والے افراد اور دیگر متعلقہ حلقوں نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ اس موقع پر کسانوں نے قدرتی طریقے سے تیار کی گئی مختلف زرعی اجناس کی نمائش کی اور کیمیکل سے پاک کاشتکاری کے فوائد کو اجاگر کیا۔
پروگرام کے دوران محکمہ زراعت کے نمائندوں نے کسانوں کو نامیاتی کاشتکاری کی اہمیت کے بارے میں تفصیلی جانکاری فراہم کی۔ انہیں بتایا گیا کہ قدرتی طریقے سے کاشتکاری نہ صرف زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے بلکہ ماحولیات کے تحفظ، حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے اور کیمیائی کھادوں و جراثیم کش ادویات پر انحصار کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اس موقع پر اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ نامیاتی کاشتکاری کے ذریعے تیار ہونے والی زرعی پیداوار معیار اور غذائیت کے اعتبار سے بہتر ہو سکتی ہے، جس سے کسانوں کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت حاصل کرنے کے مواقع فراہم ہوتے ہیں۔
میلے کے دوران نامیاتی زرعی پیداوار کی سرٹیفکیشن، ضروری دستاویزات کی تیاری، پیداوار میں قدر افزائی (Value Addition)، مصنوعات کی برانڈنگ اور مؤثر مارکیٹنگ کے حوالے سے بھی کسانوں کو آگاہ کیا گیا۔ انہیں بتایا گیا کہ اگر نامیاتی مصنوعات کو مناسب پیکنگ، شناخت اور مارکیٹنگ کے ساتھ بازار تک پہنچایا جائے تو اس سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ممکن ہے۔
یہ میلہ محکمہ زراعت کے افسران اور کسانوں کے درمیان براہِ راست تبادلہ خیال کا ایک اہم ذریعہ بھی ثابت ہوا، جہاں کسانوں کو اپنے تجربات شیئر کرنے، مسائل سامنے رکھنے اور نامیاتی کاشتکاری سے متعلق نئی معلومات حاصل کرنے کا موقع ملا۔
قابلِ ذکر ہے کہ کرناہ جیسے سرحدی اور دیہی علاقے میں زراعت لوگوں کی روزی روٹی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ایسے میں نامیاتی کاشتکاری کو فروغ دینا نہ صرف روایتی زرعی طریقوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے کسانوں کے لیے روزگار اور آمدنی کے نئے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
محکمہ زراعت نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ سب ڈویژن ٹنگڈار میں پرمپراگت کرشی وکاس یوجنا اور دیگر محکمانہ اسکیموں کے ذریعے پائیدار، ماحول دوست اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے والی زرعی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
پروگرام کے اختتام پر کسانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ زیادہ سے زیادہ نامیاتی کاشتکاری کو اپنائیں اور محکمہ زراعت کی جانب سے فراہم کی جانے والی اسکیموں اور سہولیات سے بھرپور استفادہ حاصل کریں تاکہ زرعی شعبے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ کسان برادری کی معاشی حالت میں بھی بہتری لائی جا سکے۔
یہ میلہ علاقے میں نامیاتی کاشتکاری کے حوالے سے بیداری پیدا کرنے اور کسانوں کو ایک صحت مند، ماحول دوست اور خوشحال زرعی مستقبل کی جانب راغب کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا گیا
