گھڑیال نیوزڈیسک
جموں وکشمیر میں سیاحتی سیزن اس وقت اپنے جوبن ہے اور یومیہ دس سے بیس ہزار ملکی اور غیر ملکی سیاح کشمیر کی سیر و تفریح پر آرہے ہیں۔ کشمیر میں سیاحتی شعبے کو فروغ دینے میں ایل جی منوج سنہا نے کلیدی کردار ادا کیا۔ حالیہ جی ٹونٹی اجلاس کے بعد وادی کشمیر میں سیاحتی شعبے میں نئی جان آنے کا امکان ہے کیونکہ دو سو سے زائد مندوبین جو جی ٹونٹی اجلاس میں شرکت کی خاطر سری نگر وار د ہو ئے ، انہوں نے یقین دلایا کہ وہ اپنے ممالک میں جاکر یہاں لوگوں کو کشمیر کے دورے پر جانے کی خاطر مائل کریں گے۔ موجودہ ایل جی انتظامیہ سیاحتی شعبے کی خاطر خصوصی توجہ مبذول کر رہی ہے کیونکہ یونین ٹریٹری میں سیاحتی شعبہ ریڑھ کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے برعکس ہے وادی کشمیر میں معاشی صورتحال کو بھی بڑھاوا مل رہا ہے۔ وادی کشمیر میں سیاحتی شعبے کے ساتھ لگ بھگ تیس فیصد لوگ جڑے ہیں اور ان کے روزگار کی سبیل بھی اسی سے ہو رہی ہے۔ سیاحتی شعبے کی وجہ سے جموں وکشمیر کے تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کو بھی روزگار مل رہا ہے کیونکہ وادی کی سیر وتفریح پر آنے والے سیاح یہاں کچھ نہ کچھ ضرور خرید کر اپنے ممالک کو جاتے ہیں۔ سیاحتی شعبے کو فروغ دینے کے ساتھ موجودہ انتظامیہ فلم سازی پر بھی توجہ مبذول کر رہی ہیں تاکہ یہاں کے فنکاروں کو روزگار کے مواقعے دستیاب ہو سکے۔ ایل جی منوج سنہا نے ایک خاکہ تیار کیا ہے جس کی رو سے فلم سازوں کو کشمیر کے خوبصورت ترین مقامات کے بارے میں ایک لسٹ فراہم کی گئی ہیں جہاں پر وہ فلموں کی شوٹنگ کر سکتے ہیں اور اس دوران وہاں کے مقامی لوگوں کو بھی ان فلموں میں کوئی نہ کوئی ضرور ملے گا۔ کیونکہ جن ریاستوں میں بھی فلموں کی شوٹنگ ہوتی ہے وہاں کے مقامی گلوکاروں کو بھر پور موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ ایل جی منوج سنہا چاہتے ہیں کہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو روزگار کے مواقعے پیدا کئے جاسکے تاکہ وہ خوشحال طریقے سے اپنی زندگی گزار سکے۔ سابقہ حکومتوں کی جانب سے اس حوالے سے کچھ بھی نہیں کیا گیا بلکہ فلم سازی کے حوالے سے زبانی جمع خرچ کیا گیا ۔ اگر چہ مرکزی حکومت نے اس حوالے سے رقومات بھی واگزار کی گئی لیکن اس صنعت کی اور کوئی توجہ مبذول نہیں کی گئی لیکن موجودہ ایل جی نے فیصلہ کیا ہے کہ جموں وکشمیر میں فلم سازی کے لئے ایک نیا لائحہ عمل مرتب کیا جائے جس پر کئی مہینوں تک کام کیا گیا اور آج اس پالیسی کو منظر عام پر لایا گیا ہے۔ نئی فلم سازی تاریخی فیصلہ ہے اوراس کے زمینی سطح پر مثبت نتائج برآمد ہونگے۔ جموں وکشمیر انتظامیہ نے فلم سازی سے قبل سرمایہ کاری کے لئے ایک بہت بڑا پروجیکٹ لانچ کیا جس کی رو سے خلیجی ممالک کو پچاس ہزار کروڑ روپیہ کی سرمایہ کاری کی پیشکش کی گئی جو انہوں نے قبول کیا ہے۔ خلیجی ممالک وادی کشمیر میں نئے انڈسٹریل یونٹ لگانے کے خواہاں ہے جہاں پر جموں وکشمیر کے نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔ نئی انڈسٹریل پالیسی کے زمینی سطح پر مثبت نتائج ملے گے کیونکہ جموں وکشمیر جو پچھلے تیس برسوں سے مشکلوں کے بھنور میں ہے یہاںنوجوانوں کے پاس روزگار کے مواقعے ناپید ہو گئے تاہم پچھلے تین سالوں کے دوران جموں وکشمیر نے ترقی کے کئی منازل طے کئے ہیں۔ جہاں تک دفعہ 370کی تو اس قانون کو کالعدم قرار دینے کے بعد مرکزی قوانین سیدھے طورپر یہاں لاگو ہوئے جن کی مدد سے یہاں انڈسٹریل پالیسی کے ساتھ ساتھ نئی فلم پالیسی کو لاگو کیا گیا کیونکہ سابقہ حکومتوں کے دورمیں کسی بھی قانون کو جموں وکشمیر میں لاگو کرنے سے قبل اسمبلی میں بل پیش کی جاتی تھی جب دونوں ایوانوں میں بل پاس ہوتی تو اس قانون کو لاگو کرنے کی راہ ہموار ہوتی لیکن خصوصی قوانین کی منسوخی کے بعد جموں وکشمیر میں سبھی قوانین لاگو ہوئے جس کی مددسے یہاں پر اب سبھی پالیسیاں لاگو ہو رہی ہیں جس سے جموں وکشمیر کے لاگو کو فائدہ مل رہا ہے۔ الغرض جموں وکشمیر انتظامیہ کی جانب سے جس طرح سے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کئے جارہے ہیں اُس کی نظیر ملنا مشکل ہے کیونکہ سابقہ حکومتوں نے صرف اپنے لئے کام کیا لوگوں کو ظلم کی بھٹی میں جھونک کر قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا لیکن موجودہ انتظامیہ نے نہ صرف قتل و غارت پر قابو پایا بلکہ ایک ایسا لائحہ عمل بنایا جس سے یہاں ہر سو امن و امان کی فضا قائم ہوئی ہے۔
