• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Sunday, June 21, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home Editorial & Opinion

گریز میں ادب اور موجودہ دور کے تقاضے 

JK News Service by JK News Service
May 5, 2025
in Editorial & Opinion
A A
The Historical Significance Of Gurez Valley In Kashmiri Culture
FacebookTwitterWhatsapp

وادی گریز قدرتی نظاروں کا شاہکار ہے جو ہمالیائی پہاڑیوں کے سلسلے کے شمالی سمت میں بلندی پر واقع خوبصورت وادی ہے جس میں مسحور کرنے والی قدرتی خوبصورتی ہے ۔ اس سرزمین کی ایک الگ ثقافت ایک الگ زبان اور الگ تاریخ ہے ۔ بلند و بالا پہاڑ، سرسبز و شاداب وادیاں ، بہتے صاف و شفاف دریاءاور برفیلی چوٹیاں اس وادی کی خوبصورتی کو بڑھاتی ہے ۔ اس خوبصورت وادی کی گہرائیوں میں ادب وثقافت کا ورثہ بھر پور پایا جاتا ہے جو لوک گیتوں کے ذریعے ظاہرہوتی ہے اور یہ لوک گیت اس خطے کی تعریف، محبت و ایثار اور بہادری کی کہانیوں پر مبنی ہے ۔ گریز اگرچہ وای کشمیر کا حصہ ہے تاہم گریز میں کشمیری نہیں بولی جاتی بلکہ گریز کے مقامی لوگوں کی زبان شینا ہے جو دردوں کی وراثتی زبان ہے ۔ درد قبیلے کے لوگ کافی ادب پسند ہے اور شینا زبان میں شاعری ، غزلیںاور گیت گاتے ہیں اور یہ روایت صدیوں سے چلی آرہی ہے ۔ اس طرح سے گریز کے لوگ اپنی ثقافت اور تہذیب سے جڑے ہوئے ہیں اور لوک گیتوں ، ادب کے ذریعہ شینا زبان کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ موجودہ دور کے ساتھ چلتے ہوئے گریز میں بھی طرز زندگی میں خاصی تبدیلی دیکھی جارہی ہے البتہ لوگوں نے اپنے بزرگوں کے ورثے کو اپنے ہاتھوں سے جانے نہیں دیا ۔ گریز کی لوک موسیقی خطے کی ثقافت ، تہذیب اور تمدن کی عکاسی کرتے ہیں ۔ شینا زبان میں گائے جانے والے گانوں میں خطے کی خوبصورتی ، قدرت کی تعریف ، پیار و محبت اور تواریخ پرمبنی ہیں ۔محبت کے گیتوں میں محبوب اور عاشق کے جذبات کو اُجاگر کرتے ہیں اور ملن اور جدائی پر شاعری لکھی جاتی ہے کیوں کہ موسمی صورتحال اور بھاری برفباری کے نتیجے میں محبت کرنے والے ایک دوسرے سے نہیں مل پاتے اور یہ جدائی ایک درد بھرے گیتوں کے ذریعے بیان کی جاتی ہے ۔ یہ گانے ان نوجوان خواتین کی امیدوں کا اظہار کرتے ہیں جو اپنی کھڑکیوں کے پاس اپنے عاشق کی آنکھ کی جھلک دیکھنے کے لیے انتظار کر رہی ہیں، ان کا موازنہ دریائے کشن گنگا کے چمکتے پانی سے کرتے ہیں۔اس طرح سے گریز کے لوگ اپنی ثقافت سے جڑے رہتے ہیں ۔ قارئین گریز میں بہادروں کی کہانیوں پر بھی شاعری کی جاتی ہے اور لوک گیتوں میں ان بہادروں کے قصوں کو بیان کیا جاتا ہے جو وطن کے دفاع کےلئے بے خوف دشمنوں سے لڑے ہیں ۔ وطن کی حفاظت کرنے والے بہادروں کو ان لوک گیتوں کے ذریعے حوصلے ملتے ہیں اور وہ کسی بھی موسم میں بے خوف کھڑے رہتے ہیں۔ ان گیتوں میں ان کی ہمت، ان کے جذبوں اور قربانیوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے جو جوانوں کو بلند حوصلے بخشتے ہیں۔ اس طسماتی خوبصورت والے خطے میں رومانوی قصوں کے ذریعے بلند و بالا پہاڑوں اور بہتی ندیوں کو پار کرتے ہوئے محبوب ایک دوسرے سے دور ہوتے ہیں اور اس وادی کی خوبصورت ہوا محبوب اور معشوق کے درمیان ایک رابطے کا کام کرتی ہے اور ایک دوسرے کا پیغام پہنچاتی ہے ۔ آسمان کی اونچائی والے درخت ، پہاڑ اور بہتے جھرنے ان محبت کرنے والوں کے گوا ہ بن جاتے ہیں اور یہ ان کے انتظار میں ان کا ساتھ دیتے ہیں۔ 

 

گریز میں گائے جانے والے گانوں میں مردوں کا اپنے اہل و عیال سے دور روزگار کی تلاش میں جانا ، وطن کی خدمت کےلئے اپنے گھروں سے نکلنا اور واپس نہ آنا جیسے درد بھرے الفاظ ہوتے ہیں اور یہ الفاظ لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھنے ، محبت کی گہرائی اور یادوں کو تازہ کرنے کےلئے گنگائے جاتے ہیں ۔ 

قارئین جیسے کہ یہ بات عیاں ہے کہ شعر و شاعری، داستانیں قلم بندکرنا ، افسانے بنانا ایک ادبی ہنر ہے جبکہ یہ زندہ روایت بھی ہے جو لوگوں کو ان کی تاریخ ، ثقافت، تہذیب اور سماجی بندھن سے جوڑے رکھتی ہے ۔ گریز کے شاعروں نے خواہ وہ مشہور ہوں یا نامعلوم، اپنے الفاظ کا استعمال زمین کی خوبصورتی، جدائی کے درد اور اپنے اسلاف کی ہمت کو سمیٹنے کے لیے کیا ہے۔ ان کی شاعری جذبات سے مالا مال ہے، اکثر موسیقی کے ساتھ ہوتی ہے، جو اسے کمیونٹی کے اجتماعات، تہواروں اور روزمرہ کی زندگی کا ایک لازمی حصہ بناتی ہے اور گریز کے لوگوں نے نسل در نسل اس روایت کو زندہ رکھا ہے اور اسی ادب کی شکل میں ایسے شاعروں جو اس فن کو جانتے ہیں نے اپنے الفاظ سے گریز کی قدیم تواریخ کو زندہ رکھا ہے اور اس کو آگے کی نسل میں منتقل کرنے کا کام کیا ہے ۔ 

قارئین جیسے کہ پہلے ہی عرض کیا جاچکا ہے کہ گریز کی شاعری مختلف موضوعات پر مبنی ہے جس میں محبت، ایثار، قربانی، جدائی ، یادیں وغیرہ کا ذکر ہوتا ہے ۔ نظموں، غزلوں اور شاعری میں جہاں بہادروں کے قصے بیان ہوتے ہیں وہی خطے کی قدرتی خوبصورتی، موسمی صورتحال اور دیگر سماجی موضوعات پر بھی لکھے جاتی ہے ۔ قارئین موجودہ دور ڈیجیٹل دور ہے تاہم گریز کی اس ثقافت اور روایت کو زندہ رکھنے کےلئے اس دور کا استعمال اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ضروری ہے ۔ گریز کے لوگ ، فن کار، ادیب وغیرہ اپنی تہذیب اور روایت کو زندہ رکھنے کےلئے عصری آلات سے بھر پور فائدہ اُٹھاسکتے ہیں اور اس روایت کو نئی نسل تک منتقل کرنے کےلئے جدید طرز اپناسکتے ہیں تاکہ ان کی یہ روایت ، تہذیب اور ادب زندہ رہ سکیں۔ 

 

Previous Post

GCW Srinagar Organises Awareness Program on Drug Abuse

Next Post

Vivek Bali Joins Suheldev Bharatiya Samaj Party (SBSP) in Presence of National President Om Prakash Rajbhar

JK News Service

JK News Service

Next Post
Vivek Bali Joins Suheldev Bharatiya Samaj Party (SBSP) in Presence of National President Om Prakash Rajbhar

Vivek Bali Joins Suheldev Bharatiya Samaj Party (SBSP) in Presence of National President Om Prakash Rajbhar

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.