اسلامک سکالر
نوجوان کسی بھی ملک اور قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں ملک اور قوموں کی ترقی اور ان کے روشن مستقبل کا انحصار نوجوانوں کی فکر اور ان کی ترقی پر منحصر ہوتا ہے۔ جدید ٹکنالوجی کی بدولت آج کی تیز رفتار زندگی میں جہاں علم سیکھنے کے ذرائع اور ہنرمندی کے ہے البتہ واقع پیدا ہوتے ہیں وہیں شخصیت سازی اور اخلاقی اقدار پر زوال کے بادل بھی ملا لارہے ہیں، آج کے نوجوان نے ڈجیٹل دنیا میں خود کو اتنا ڈیولیا ہے کہ اسے اپنی شخصیت سازی کی طرف توجہ کرنے اور فکر کرنے کی ضرورت بھی مخصوص نہیں بولی نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے نوجوان ڈجیٹل دنیا کے متلی اثرات سے بے خبر ہوکر اس کے سال الفیکٹس کو نظر انداز کربیٹھے ہیں جس کا اترنا صرف ان کی ذاتی زندگی پر محسوس ہورہا ہے بلکہ صحاح بھی ان اثرات سے محفوظ نہیں ہے۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں موئل میڈیا اور الترنیک صرف علم، رابطہ اور تفریح کے وسائل نہیں رہے، بلکہ یہ افراد کو غلط معلومات اور گمراہ کن خیالات کی طرف مائل کرنے کے لیے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ نوجوان خصوصا جو تکنیکی طور پر ماہر ہیں مگر تجربے اور اخلاقی مجھ بوجھ میں تلے ہیں، اکثر آن این مواد کے اثرات سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ ان کی توانائی اور سیاسی جوش، یعنی گرم خون کی جذباتی حساسیت انہیں اور زیادہ تاثر پذیر بنائی ہے۔ اس عمر میں نوجوان معاشرت دیگر مذاہب اور انصاف کے مسائل کے بارے میں گیری حساسیت رکھتے ہیں، اور یہ جذباتی شدہ انبين ” غلط یا گمراہ کن پیغامات -” کا شکار بنا سکتی ہیں، خاص طور پر جب یہ پیغامات تشدد یا منع شدہ نظریات کی حمایت کرتے ہوں اس لئے سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت احتیاط لازمی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے انگوردین اس بات کو یقینی بنائے ہیں کہ صارف کو وہی مواد بار بار دکھایا جائے جو اس نے پہلے دیکھا، لالیک کیا با قالو کیا ہو۔ اس عمل کے دوران صارف کے لیے میں اسی طرحکی گمراہ کن با جانبدار معلومات آنے لگتی ہیں، جس سے یہ ثائرپیدا ہوتا ہے کہ اس کے خیالات اور جذبات دوسروں کے ساتھ مشتری ہیں وقت کے ساتھ، نوجوان جانے انجانے میں خود کو ان سے وابستہ اور جڑا ہوا محسوس کرنے لگتے ہیں کبھی انھیں محسوس ہوتا ہے کہ انکی زندگی لایعنی اور بے رونق ہے تو ناامیدی ان کے دل و دماغ پرچھانے لگتی ہے کبھی انہیں لگتا ہے کہ وہ ۱ الک یا ظلم زدہ ہیں، تویہ احساس انہیں جارحیت یا نقصان ده اقدامات کو جواز فراہم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے کبھی انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ سب کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چل رہے ہیں تو ایک خیالی دنیا ان کے دل دماغ پر چھا جاتی ہے۔ اور کبھی انہیں لگتا ہے کہ جو کچھ وہ دیکھ رہے ہیں وہی اصل ہے اور وہی دنیا ہے تو اس سے ان کی وابستگی میں شدت آجاتی ہے جس کے زیر اثر بے خیالی کے عالم میں ان کے قدم اسی دماغی اور ذہنی روش کی طرف بڑھنے لگتے ہیں اور کب کسی علفی ياجارحیت پر مبنی نظریہ سے متاثر ہوکر ایسا قدم اٹھالیتے ہیں جس کے اثرات نا صرف ان کی ذاتی زندگی پر بلکہ ان کے خاندان اور اجتماعی زندگی پر بھی پڑتے ہیں جس کی تلافی ممکن نہیں ہوئی۔ اس الگوردمک اثر کو عام طور پر فلٹر بیل کیا جاتا ہے، جو فرد کو اس کے پہلے سے موجود عقائد میں محدود کر دیتا ہے اور متبادل نقطہ نظر
چا دیتا ہے۔ نتیجتا، نوجوان یہ یقین کرنے لگتے ہیں کہ گمراہ کن بیانیہ ہی حقیقت ہے، اس تناظر میں قرآن یعین واقع بدايت دیتا ہے: “اے ایمان والو! کسی بھی خبر کو بغیر تحقیق کے نہ مانو اور جب تک تمہیں ثبوت نہ ملے، کسی پر اعتماد نہ کرو (صورہ الحجرات، 49:6) ہے ایک نوجوانوں کے لیے یہ پیغام دیتی ہے کہ کسی بھی آن لائن معلومات پر بغیر تصدیق کے بھروسہ نہ کریں۔
کچھ آن لائن صفحات چینلز اور ویب سائٹس خاص طور پر نوجوانوں کو غلط معلومات اور گمراہ کن پیغامات کے ذریعے متاثر کرنے کے لیے حکمت عملی اپنائے ہیں۔ یہ پلیٹ فارم نہ صرف حساس نظریات پیش کرتے ہیں بلکہ نوجوانوں میں یہ تاثر بھی پیدا کرتے ہیں کہ دیگر مذاہب کے لوگ یا معاشرہ انہیں نہیں سمجھتا۔ مثال کے طور پر، بعض فیس بک یا انسٹاگرام اکاؤنٹس نوجوانوں کو یہ بتائے ہیں کہ دوسروں کے تہواروں میں شامل ہوتا یا مختلف کمیونٹیز رابط رکھنا یا اپنی فکری وابستگی یا مذہب و مملک سے الگ دوست بنانا غلط ہے۔ اس طرح نوجوان آبست ،جمہوری اصولوں اور سماجی ہم آہنگی کی بنيادي اقدار سے دور ہو جاتے ہیں۔
اگر ایسا ہے تو اپنے آپ کو تھوڑا روک کر غور وفکر کرین اور لائک یا شیتر یا تبصرہ کرنے سے قبل اس کے منفی اور مثبت دونوں پہلؤوں پر غور کریں۔ اس شعور سے نوجوان آن لائن گمراہ کن معلومات کے اثر سے محفوظ رہ سکتے ہیں اور ذہنی طور پر مضبوط بن سکتے ہیں قرآن ہمیں علم حاصل کرنے کی اہمیت کی بھی یاد دہانی کراتا ہے اللہ نے انسان کو علم عطا فرمایا، اور جو ہدایت (علم) حاصل کرتا ہے تو وہ گمراہی اور بدبختی سے محفوظ رہتا ہے، امورہ ضہء 201123 ای آیت نوجوانوں کو ہدایت دیتی ہے کہ وہ خود صحیح علم اور معلومات تلاش کریں اور بغیر تحقیق کسی بھی گمراہ کن پیغام کو قبول لہ کریں۔
اجتماعی سطح پر معاشرہ اور تعلیمی ادارے ڈیجیال ذرائع کو سیکھنے اور آگاہی کے پروگراموں کے ذریعے نوجوانوں کو تربیت دے سکتے ہیں لاکہ وہ آن لائن غلط معلومات اور گمراہ کن مواد کے شکار کے ہوں اگر نوجوان یہ سمجھ جائیں کہ ان کی موج کی طرح متاثر ہو رہی ہے اور سوشل ميليا الكورا مز ان کے رویے کو کر سانچے میں امال رہے ہیں اور ان کی دمایی صحت پر کی طرح اثر انداز ہورہے ہیں، تو وہ زیادہ ہوشیار اور محفوظ رہ سکیں گے کیونکہ آن لائن غلط معلومات اور گمراہ کن پیغامات سے تعلقا صرف تکنیکی حل یا سوشل میڈیا پالیسیوں تک محدود نہیں ہے۔ یہ اخلاقی تعليم مذہبي میڈیا سے باخبری اور سماجی تعاون کا مجموعہ ہے۔ نوجوانوں کو یہ صحبنا ضروری ہے کہ آج کے اجیلل دور میں اور ہر کس و ناکس تک اس کی رسائی نے اسے غیر معتبر اور ہر طرح کے مواد کی تشہیر کا ذریعہ بتا دیا ہے جس سے ناصرف غلط اور گمراہ کن مواد کی تبلیغ یورپی ہے بلکہ ان ذرائع اسلام کی تعلیمات کے منافی اور جمہوری اقدار، معاجی ہم آہنگی اور فرد کی آزادی کے لیے بھی خطرہ ہے۔
