• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Saturday, March 7, 2026
Jammu Kashmir News Service | JKNS
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
Jammu Kashmir News Service | JKNS
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

تمثیل رفتہ ۔۔۔ قسط نمبر 54 کشمیر کے قدیم قبیلے ( گزشتہ سے پیوستہ )

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
March 6, 2026
in اردو خبریں
A A
تمثیل رفتہ ۔۔۔ قسط نمبر 54 کشمیر کے قدیم قبیلے ( گزشتہ سے پیوستہ )
FacebookTwitterWhatsapp

ابھی جذلان اور دادو لان میں ہی بیٹھے تھے کہ باہر مین گیٹ پر دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔غفار کاک حسبِ عادت تیز قدموں سے دروازے کی طرف بڑھے۔ دروازہ کھولا تو سامنے ایک لڑکا اور ایک لڑکی کھڑے تھے۔ چہروں پر ہلکی سی جھجک اور آنکھوں میں کسی اپنے کو پا لینے کی امید۔
غفار کاک نے نرمی سے پوچھا:
”بیٹا، آپ کس کو ڈھونڈ رہے ہو؟“
لڑکے نے ذرا ہچکچاتے ہوئے کہا:
”جی… ہم جذلان کے بارے میں پوچھنے آئے ہیں۔ ہم اس کے کالج کے دوست ہیں۔“
یہ سنتے ہی غفار کاک کے چہرے پر پہچان کی ایک لکیر ابھری۔
”اچھا، اچھا… آو بیٹا، وہ لان میں بیٹھا ہے۔“
وہ دونوں کو سیدھا لان کی طرف لے آئے۔جیسے ہی جذلان کی نظر نادیہ اور دلیپ پر پڑی، وہ چند لمحوں کے لیے جیسے ساکت رہ گیا۔ آنکھوں میں حیرت اور چہرے پر ایک بے ساختہ مسکراہٹ پھیل گئی۔وہ فوراً اٹھا، دلیپ سے گرمجوشی سے گلے ملا، جیسے برسوں کی دوری ایک لمحے میں سمٹ آئی ہو۔ پھر نادیہ کی طرف دیکھا….وہی خاموش سی، شفاف مسکراہٹ….اور اس کا استقبال ایک مانوس، دھیمی مسکراہٹ سے کیا۔
جذلان نے پلٹ کر دادو کی طرف دیکھا اور احترام کے ساتھ کہا:
”دادو… یہ میرے کالج کے سب سے اچھے دوست ہیں—دلیپ اور نادیہ۔“
نادیہ کی آنکھوں میں خاص چمک تھی۔ وہ دادو کے بارے میں بہت کچھ سن چکی تھی….ان کی دانائی، ان کی باتوں کی گہرائی اور ان کی خاموش شفقت۔ اس لیے اس کے چہرے پر جوش اور عقیدت ایک ساتھ نمایاں تھے۔
دادو نے دونوں کو غور سے دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے ٹھہراوآیا…. جیسے وہ صرف چہرے نہیں، بلکہ دلوں کو پڑھ رہے ہوں۔ پھر ان کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی….وہی مسکراہٹ جس میں وقت کی تھکن بھی تھی اور محبت کی گرمی بھی۔
دادو نے غفار کاک سے آہستگی سے کہا:
“غفار… بچوں کو ڈرائنگ روم میں لے جاو۔ باہر کی ہوا میں باتیں بکھر جاتی ہیں، اندر دل کی بات ٹھہرتی ہے۔“
غفار کاک نے اثبات میں سر ہلایا۔
ڈرائنگ روم میں بیٹھتے ہی نادیہ کی نگاہیں بے اختیار دیواروں پر آویزاں پینٹنگز کی طرف اٹھ گئیں۔ وہ ایک ایک تصویر کو اس طرح دیکھ رہی تھی جیسے ان رنگوں میں کوئی کہانی چھپی ہو، کوئی خاموش صدی سانس لے رہی ہو۔ اس کی آنکھوں میں حیرت تھی، مگر وہ حیرت شور نہیں مچا رہی تھی….خاموشی سے دل میں اتر رہی تھی۔
ادھر دلیپ، جذلان کے قریب ہو کر دھیمی آواز میں پوچھ رہا تھا:
”اب طبیعت کیسی ہے؟“
جذلان نے جواب دینے سے پہلے ایک لمحہ نادیہ کی طرف دیکھا، جیسے اپنے الفاظ کا وزن اسے سونپ رہا ہو، پھر بولا:
”میں اب ٹھیک ہوں… ان شاءاللہ Monday سے کالج آوں گا۔“
پھر فوراً سوال کیا:
” کول سر کیسے ہیں؟ کیا کبھی میرے بارے میں پوچھا؟“
نادیہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بات سنبھالی:
”آج کے دور میں کون موبائل بند رکھتا ہے؟ خدا کا شکر ادا کرو کہ کول سر نے ہی ہمیں یہاں آنے کی ترغیب دی۔“
اسی لمحے غفار کاک اندر داخل ہوئے۔ ہاتھ میں چھوٹا سا نقش نگار کیا ہوا سماوار تھا اور ساتھ ٹرے میں پیالوں کے ساتھ تازہ کشمیری کلچے رکھے بھی تھے۔ کمرے میں ایک مانوس خوشبو پھیل گئی….چائے کی بھاپ، سماوار کی گرمی اور گھر کی پرانی یادوں کی خوشبو۔
سماوار دیکھتے ہی نادیہ کے منہ سے بے اختیار نکلا:
”واو…! میں نے کبھی سماوار کی چائے نہیں پی ہے۔“
دلیپ بھی اس جوش میں شریک ہو گیا، اس کی آنکھوں میں بھی بچپن جیسی خوشی جھلکنے لگی۔
اسی وقت دادو بھی ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے۔ ان کی موجودگی سے کمرے کی فضا جیسے خودبخود سنبھل گئی۔ سب احترام کے ساتھ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ غفار کاک نے خاموشی سے چائے پیش کرنا شروع کر دی۔
دادو نے نادیہ اور دلیپ کی طرف دیکھتے ہوئے شفقت سے پوچھا:
”کیا تم دونوں بھی جذلان کی طرح کشمیر کی تاریخ میں دلچسپی رکھتے ہو؟“
نادیہ ابھی کچھ کہنے ہی والی تھی کہ جذلان ہنستے ہوئے بول پڑا:
”دادو، یہ دونوں مجھ سے کہیں زیادہ کشمیر کی تاریخ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اگر آپ اجازت دیں تو صبح والا موضوع آگے بڑھاتے ہیں، تاکہ یہ دونوں بھی کچھ سیکھ لیں۔“
کہتے ہوئے اس کی ہنسی میں شرارت تھی، مگر آنکھوں میں سنجیدگی ….جیسے وہ جانتا ہو کہ یہ گفتگو صرف علم کی نہیں، پہچان کی بھی ہے۔
دادو نے چائے کا ایک گھونٹ لیا۔ لمحہ بھر کے لیے خاموش رہے۔ پھر ان کی آنکھوں میں وہی پرانی چمک ابھری….وہ چمک جو ماضی کے دریچوں کو آہستہ آہستہ کھولنے سے پہلے آتی ہے۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔اور سب جان گئے….یہ خاموشی ایک نئے سفر کا دروازہ ہے۔
دادو کہنے لگے:
“صبح میں یہ کہہ رہا تھا کہ کشمیر کے قدیم باشندوں کے بارے میں ہماری رائے اس وقت تک ادھوری رہے گی، جب تک ہم قدیم کشمیر کا برصغیر اور وسطی ایشیا سے رشتہ صحیح معنوں میں نہیں سمجھیں گے۔“
نادیہ نے اس طرح سر ہلایا جیسے وہ دل ہی دل میں دادو کی بات کی تائید کر رہی ہو۔ اس کی آنکھوں میں سنجیدگی تھی، جیسے یہ موضوع محض تاریخ نہیں بلکہ کسی گہری سچائی کی تلاش ہو۔
دادو پھر گویا ہوئے، آواز میں ٹھہراو اور لہجے میں یقین تھا:
”برصغیر کے قدیم قبائل میں ہمیں چند واضح انسانی اور ثقافتی سطحیں ملتی ہیں۔ یہ سب ایک ہی وقت میں نہیں آئے، نہ ہی ایک ہی جیسے تھے، مگر ان سب کے آثار ہمیں شمالی برصغیر اور کشمیر کے قدیم منظرنامے میں دکھائی دیتے ہیں۔
دردی قبائل:
یہ شمال مغربی برصغیرکے پہاڑی علاقوں کے قدیم باشندے تھے… . گلگت، چترال، کوہستان اور کشمیر کے اطراف میں رہنے والے۔ ان کی زبانیں ہند آریائی شاخ کی قدیم صورتیں ہیں، مگر ان میں آریائی اثرات بعد میں شامل ہوئے۔ کشمیر کی قدیم آبادی میں دردی عنصر ایک مضبوط تاریخی حقیقت ہے۔
پشاچ اورکھاسی قبائل:
یہ قبائل شمالی سرحدی علاقوں اور پہاڑی پٹی میں آباد تھے۔ قدیم سنسکرت متون میں ان کا ذکر ملتا ہے۔ بعد کی مذہبی اور ادبی روایت میں انہیں غیر تہذیب یافتہ یا خوفناک بنا کر پیش کیا گیا، مگر تاریخی طور پر یہ بھی اسی خطے کے قدیم انسان تھے جن کی شناخت وقت کے ساتھ مسخ ہو گئی۔
ناگا قبائل:
ناگاصرف ایک اساطیری تصور نہیں بلکہ ایک قدیم قبائلی شناخت بھی ہیں۔ یہ لوگ جھیلوں، چشموں اور پانی کے نظام سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔ کشمیر کی جھیل تہذیب، ناگ نامی مقامات اور ناگ پر مبنی روایات اسی قدیم آبی ثقافت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ یہ قبائل آریاوں سے پہلے کے ہیں اور ان کا مذہبی و ثقافتی ڈھانچہ فطرت سے جڑا ہوا تھا۔
دادو نے بات سمیٹتے ہوئے کہا:
”اب اصل بات سمجھنے کی ہے….کشمیر کسی ایک سمت سے آباد نہیں ہوا۔ یہ ایک ایسا سنگم تھا جہاں برصغیر کے قدیم قبائل، وسطی ایشیا کے پہاڑی انسان اور مقامی تہذیبیں آہستہ آہستہ ملتی گئیں۔ اسی لیے کشمیر کی قدیم تاریخ سیدھی لکیر میں نہیں چلتی، بلکہ ایک دائرے کی طرح ہے، جس میں کئی راستے آ کر ایک جگہ ملتے ہیں۔“
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
دلیپ گہری سوچ میں ڈوبا تھا، نادیہ کی نظریں زمین پر تھیں اور جذلان محسوس کر رہا تھا کہ دادو نے آج تاریخ کو نہیں، ایک پوری انسانی کہانی کو کھول دیا ہے۔یہ اب صرف تاریخ کا سبق نہیں رہا تھا بلکہ یہ اپنی اصل کو پہچاننے کا سفر بن چکا تھا۔ (جاری)

Previous Post

UPSC Declares CSE 2025 Final Results; 958 Candidates Recommended, 17 from J&K Make the List

Next Post

تمثیل رفتہ ۔۔۔ قسط نمبر 54 کشمیر کے قدیم قبیلے

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Next Post
تمثیل رفتہ ۔۔۔ قسط نمبر 54 کشمیر کے قدیم قبیلے

تمثیل رفتہ ۔۔۔ قسط نمبر 54 کشمیر کے قدیم قبیلے

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.