جرنلزم استاد: جامعہ علیم اسلامیم
جب لوگ مذہب کے بارے میں بات کرتے ہیں تو عموماً قطعی اور حتمی انداز میں گفتگو کرتے ہیں کہ یہ کیا اجازت دیتا ہے، کیا منع کرتا ہے، یہ کس کا ہے اور کون اس میں شامل نہیں۔ لیکن ایمان، جیسا کہ عام لوگ اسے اپنی زندگی میں جیتے ہیں، محض ایک نظری اور مجرد تصور نہیں ہوتا۔ وہ روزمرہ کے معمولات میں ظاہر ہوتا ہے: پڑوسی کو سلام کرنا، کسی کے غم میں شریک ہونا، ناانصافی کے خلاف کھڑا ہونا، یا غصہ آسان ہونے کے باوجود ضبط کا راستہ اختیار کرنا۔ اسلام میں یہ روزمرہ کے اعمال عقیدے سے الگ یا ثانوی نہیں ہیں بلکہ عقیدے کا عملی اظہار ہیں۔ لہٰذا فرقہ وارانہ ہم آہنگی اسلام میں محض ایک سماجی ترجیح نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور دینی فریضہ ہے۔
اسلام ایک ایسی دنیا میں ابھرا جو قبائل، طبقات اور عقائد کی بنیاد پر بری طرح بٹی ہوئی تھی۔ قرآن نے ان تقسیموں کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ اس کے بجائے انسانوں کے ایک دوسرے کو دیکھنے کے انداز کو بدل کر ان کا براہِ راست حل پیش کیا۔ پوری انسانیت سے خطاب کے حوالے سے قرآن کی سب سے طاقتور آیات میں سے ایک یہ ہے:
“اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنا دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔” (القرآن 49:13)
یہ آیت اختلافات کی نفی نہیں کرتی بلکہ ان کی توثیق کرتی ہے۔ برادریوں کے تنوع کو ایک ایسے مسئلے کے طور پر بیان نہیں کیا گیا جسے ختم کر دیا جائے، بلکہ اسے ایک ایسی خدائی حکمت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد باہمی پہچان ہے، نہ کہ دشمنی۔ اس میں اخلاقی برتری کا پیمانہ کوئی مذہبی لیبل، نسل یا گروہی شناخت نہیں بلکہ حسنِ عمل اور تقویٰ ہے۔ یعنی وہ شعور جو انسان کو نقصان پہنچانے سے روکتا ہے اور انصاف کی آبیاری کرتا ہے۔
فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بنیاد انسانی وقار کے اعتراف پر قائم ہے۔ قرآن اس وقار کو آفاقی پیرائے میں بیان کرتا ہے:
“اور بلاشبہ ہم نے اولادِ آدم کو عزت بخشی ہے۔” (القرآن 17:70)
کلاسیکی علما نے اس آیت کا مفہوم یہ سمجھا ہے کہ یہ کرامتِ انسانی انسان کے موروثی وقار کو تسلیم کرنے کا حکم ہے، جس کا اطلاق عقیدے سے بالاتر ہو کر تمام انسانوں پر ہوتا ہے۔ اسی وقار کو اسلام میں صریح تشدد کی سخت ممانعت کے ذریعے مزید تقویت دی گئی ہے:
“جس نے کسی ایک جان کو (ناحق) قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا۔” (القرآن 5:32)
یہ آیت، جو اکثر بحرانی حالات میں نقل کی جاتی ہے، محض مسلمانوں تک محدود نہیں ہے۔ یہاں لفظ “نفس” (ایک جان) کا انتخاب جان بوجھ کر آفاقی رکھا گیا ہے۔ کوئی بھی ایسا عمل جو فرقہ وارانہ امن کو خطرے میں ڈالے، خواہ وہ ہجوم کا تشدد ہو، نفرت انگیز تقریر ہو یا اجتماعی سزا ہو، اس بنیادی اصول کے براہِ راست متصادم ہے۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا شاید سب سے عملی نمونہ پیش کرتی ہے۔ جب آپ ﷺ نے مدینہ کی قیادت سنبھالی تو وہ شہر مسلمانوں، یہودیوں، مشرکین اور مختلف قبائلی گروہوں کا مسکن تھا۔ مذہبی بالادستی مسلط کرنے کے بجائے آپ ﷺ نے وہ دستاویز تیار کی جسے آج *میثاقِ مدینہ* کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا سماجی معاہدہ تھا جس نے متعدد مذہبی برادریوں کو ایک ہی سیاسی اور اخلاقی نظام کے تحت ایک امتِ واحدہ کے طور پر تسلیم کیا۔ اس میثاق نے واضح طور پر مذہبی آزادی اور باہمی تحفظ کی ضمانت دی اور یہ طے پایا کہ یہودیوں کا اپنا دین ہوگا اور مسلمانوں کا اپنا، اور کسی بھی گروہ کے خلاف ہونے والی ناانصافی کا مل کر مقابلہ کیا جائے گا۔ یہ رواداری کسی کمزوری کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ اخلاقی یقین پر مبنی بقائے باہمی تھی۔
نبی کریم ﷺ کا ذاتی عمل بھی اسی جذبے کی عکاسی کرتا تھا۔ جب آپ ﷺ کے پاس سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا تو آپ ﷺ احتراماً کھڑے ہو گئے۔ سوال کیے جانے پر آپ ﷺ نے فرمایا:
“کیا وہ ایک انسانی جان نہیں تھی؟” (صحیح بخاری)
اسی طرح ایک اور واقعے میں نجران سے آئے ہوئے ایک مسیحی وفد کو نبی کریم ﷺ نے اپنی مسجد کے اندر اپنے مذہبی طریقے کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔ یہ لمحات محض علامتی حکایات نہیں ہیں بلکہ وہ اخلاقی مثالیں ہیں جو رہتی دنیا تک کے لیے ایک مستقل معیار قائم کرتی ہیں۔
فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک اپنے ہی گروہ سے اندھی وابستگی ہے۔ اسلام اس رجحان کا براہِ راست مقابلہ کرتا ہے۔ قرآن کریم مومنین کو حکم دیتا ہے:
“اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو، اللہ کے لیے گواہی دیتے ہوئے، خواہ وہ تمہارے اپنے خلاف ہو یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔” (النساء 4:135)
اسلام میں عدل کسی مشترکہ مفاد کا محتاج نہیں ہوتا۔ یہ ایک الٰہی تقاضا ہے جو قبائلی، مذہبی اور جذباتی وابستگیوں سے بالاتر ہے۔ یہ تعلیم آج کے دور میں نہایت اہمیت رکھتی ہے، جب فرقہ وارانہ شناختوں کو سیاسی یا نظریاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور ہمسایوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا جاتا ہے۔
فرقہ وارانہ ہم آہنگی صرف قوانین اور اصولوں سے ہی نہیں بلکہ روزمرہ کی مہربانی اور حسنِ سلوک سے بھی برقرار رہتی ہے۔ قرآن مسلمانوں کو ان لوگوں کے ساتھ بھی ہمدردی اور انصاف سے پیش آنے کی ترغیب دیتا ہے جو انہیں نقصان نہیں پہنچاتے:
“اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور عدل کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور نہ ہی تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا۔” (القرآن 60:8)
یہاں “برّ” یعنی حسنِ سلوک کے لیے وہی لفظ استعمال ہوا ہے جو والدین کے ساتھ نیکی کرنے کے لیے آتا ہے۔ اس کا مفہوم فعال خیرخواہی ہے، نہ کہ محض خاموش رواداری۔ نبی کریم ﷺ نے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے پڑوسیوں کی خدمت، اپنے سابقہ دشمنوں کو معاف کرنے اور خود کو نقصان پہنچانے والوں کو بھی بددعا نہ دینے کے ذریعے اسی اخلاق کا عملی نمونہ پیش کیا۔
شک و شبہات اور خوف کے سائے میں پلتی ہوئی اس دنیا میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے بارے میں اسلام کا پیغام لازوال بھی ہے اور وقت کی اہم ضرورت بھی۔ یہ پیغام اہلِ ایمان کو محدود شناختوں سے بالاتر ہونے اور انصاف، رحم دلی اور اخلاقی جرات کے ذریعے اپنے ایمان پر عمل کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا مطلب اپنے عقیدے کا وفادار رہتے ہوئے انسانیت کا احترام کرنا ہے۔ یہ اختلافات کو مٹانے یا عقیدے پر سمجھوتہ کرنے کا نام نہیں بلکہ باوقار بقائے باہمی کا اصول ہے۔
جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہیں۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
انشا وارثی
جرنلزم استاد: جامعہ علیم اسلامیم