• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Tuesday, March 24, 2026
Jammu Kashmir News Service | JKNS
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
Jammu Kashmir News Service | JKNS
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

تمثیلِ رفتہ — قسط نمبر 58

ہڑپہ اور برزہوم : معاصر تہذیبیں(گزشتہ سے پیوستہ)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
March 24, 2026
in اردو خبریں
A A
تمثیلِ رفتہ — قسط نمبر 58
FacebookTwitterWhatsapp

ایک ہفتے بعد جذلان دوبارہ کالج پہنچا۔
موسم میں وہی مانوس خنکی تھی، مگر اس کے اندر ایک نیا ٹھہراؤ آ چکا تھا۔۔۔۔جیسے وقت نے خاموشی میں اس سے کوئی غیر تحریری معاہدہ کر لیا ہو۔
وہ ابھی راہداری میں چند قدم ہی آگے بڑھا تھا کہ دوستوں نے اسے گھیر لیا۔
“کہاں غائب تھے؟”
“خیریت تو ہے؟”
“سب ٹھیک تھا نا؟”
ان آوازوں میں تجسس کم اور اپنائیت زیادہ تھی۔
جذلان مسکرایا، مختصر جواب دیے، مگر اس کی آنکھوں میں وہی سنجیدگی جھلک رہی تھی جو اب اس کے مزاج کا حصہ بن چکی تھی۔
اسی لمحے کلاس کا دروازہ کھلا۔
پروفیسر کول اندر داخل ہوئے۔
کمرے میں یکدم خاموشی چھا گئی۔ ان کی نگاہ حسبِ معمول پورے کلاس روم پر گھومی، مگر جیسے ہی جذلان پر نظر ٹھہری، چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ آ گئی۔
“اوہ! جذلان…”
انہوں نے عینک درست کی۔
“تم نے تو ہمیں فکر میں ڈال دیا تھا۔ تمہاری غیرحاضری خاصی کھٹکتی رہی۔”
جذلان نے ادب سے سر جھکا دیا۔
یہ محض ایک رسمی جملہ نہ تھا، بلکہ ایک استاد کی اپنے طالبِ علم کے لیے حقیقی تشویش تھی۔
پروفیسر کول مڑے، چاک اٹھایا اور بورڈ پر آہستہ مگر واضح حروف میں لکھا:
Harappa and Burzahom: Contemporary Civilizations
پھر کلاس کی طرف متوجہ ہو کر بولے:
“آج ہم دو ایسی تہذیبوں پر گفتگو کریں گے جنہیں عموماً الگ الگ خانوں میں رکھا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں ایک ہی تاریخی دور کی پیداوار ہیں۔۔۔۔۔اور انسانی ارتقا کی ایک ہی کہانی کے دو مختلف لہجے۔”
کلاس میں مکمل سکوت تھا۔
“ہڑپہ اور برزہوم دونوں ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ انسان نے شکار اور خوراک جمع کرنے کے مرحلے سے آگے بڑھ کر مستقل زندگی کی طرف کیسے قدم رکھا۔ دونوں میں زمین سے وابستگی ملتی ہے۔۔۔۔۔فرق صرف اظہار کے طریقے کا ہے۔”
انہوں نے بورڈ کے قریب کھڑے ہو کر نکات واضح کیے:
“دونوں میں زرعی شعور کے آثار ملتے ہیں۔
دونوں میں جانور پالنے کے شواہد موجود ہیں۔
اور دونوں میں موسمی حالات کے مطابق رہائش کی منصوبہ بندی دکھائی دیتی ہے۔”
پھر وہ ذرا ٹھہرے۔
“فرق یہ ہے کہ ہڑپہ ہمیں اینٹوں کے منظم شہر دکھاتی ہے۔۔۔۔سڑکیں، نکاسیٔ آب، مہریں اور معیشت۔۔۔
جبکہ برزہوم ہمیں زمین میں اترتی ہوئی انسانی عقل دکھاتا ہے۔۔۔۔گڑھوں میں بنے گھر، شدید سردی سے بچاؤ، ہڈیوں کے اوزار اور فطرت کے ساتھ براہِ راست مکالمہ۔”
ان کی آواز میں اب فکری گہرائی شامل ہو چکی تھی۔
“یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ برزہوم کمتر ہے اور ہڑپہ اعلیٰ۔ یہ درجہ بندی ہماری ہے، تاریخ کی نہیں۔ یہ دونوں اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ انسان نے مختلف جغرافیوں میں، ایک ہی وقت میں، زندگی کو سمجھنے کی کوشش کی۔”
انہوں نے کلاس پر نگاہ دوڑائی، پھر جذلان کی طرف دیکھا۔
“برزہوم ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تہذیب ہمیشہ اینٹوں سے نہیں بنتی۔۔۔۔۔کبھی کبھی وہ مٹی میں اتر کر بنتی ہے اور ہڑپہ تہذیب ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب انسانی فکر منظم ہو جائے تو شہر وجود میں آتے ہیں۔”
پھر انہوں نے قدرے توقف کے بعد بات آگے بڑھائی:
“اور یاد رکھیے، برزہوم پر گفتگو کے بعد ہم گوپھ کرال کو سمجھنے کی کوشش کریں گےتاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کشمیر میں ابتدائی زرعی ذہن کس طرح مزید واضح صورت اختیار کرتا ہے۔”
کلاس میں خاموشی تھی، مگر وہ خاموشی مردہ نہ تھی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب تاریخ محض ایک مضمون نہیں رہتی۔۔۔۔۔وہ احساس بن جاتا ہے۔
جذلان اپنی نشست پر بیٹھا سب کچھ سن رہا تھا۔
اچانک اسے دادو کے الفاظ یاد آ گئے:
“جو ہمیں نظر آتا ہے، وہ مکمل تاریخ نہیں…”
آج بورڈ پر لکھے دو نام، اس ادھوری مگر زندہ تاریخ کے دو دروازے بن چکے تھے۔
کلاس ختم ہو گئی، مگر جذلان بدستور اپنی نشست پر بیٹھا رہا۔
طلبہ آہستہ آہستہ باہر نکل گئے، لیکن اس کے ذہن میں سوالوں کا شور بڑھتا جا رہا تھا۔
بورڈ صاف ہو چکا تھا، مگر الفاظ کے معنی اس کے اندر مزید واضح ہو رہے تھے۔
پروفیسر کول کی آواز اب بھی اس کے کانوں میں گونج رہی تھی:
“یہ دونوں تہذیبیں ایک ہی دور کی پیداوار ہیں…”
اور اسی لمحے، کسی اور سطح پر، دادو کی پرسکون آواز ابھری:
“جو ہمیں معلوم ہے، وہ مکمل تصویر نہیں…”
جذلان نے محسوس کیا کہ دونوں آوازیں مختلف سمتوں سے آ کر ایک ہی مقام پر مل رہی ہیں۔
پروفیسر کول تاریخ کو زمین کے اوپر دیکھتے تھے۔۔۔۔کھنڈرات، اوزار، نقشے اور زمانی ترتیب کے ذریعے۔ان کے نزدیک ثبوت بنیادی شرط تھا،جو دکھائی دے، جو ناپا جا سکے، جو تاریخ میں محفوظ کیا جا سکے۔
دادو تاریخ کو زمین کے اندر محسوس کرتے تھے۔۔۔۔۔۔خاموشی میں، یادداشت میں، روایت میں۔
ان کے لیے سوال زیادہ اہم تھا۔وہ سوال جو ابھی جواب میں نہیں ڈھلا۔
پروفیسر کول کہتے تھے:
“برزہوم ہمیں انسان کی عملی ذہانت دکھاتا ہے ۔۔۔۔۔رہائش، اوزار، موسم سے بچاؤ۔”
دادو کہتے تھے:
“برزہوم ہمیں انسان کا خوف دکھاتا ہے۔۔۔۔موسم سے، موت سے اور تنہائی سے۔”
ایک علم کو ثبوت مانتا تھا،دوسرا علم کو تجربہ۔
یہ تضاد نہیں تھا۔۔۔۔۔۔صرف زاویے کا فرق تھا۔
پروفیسر کول کے ہاں تاریخ ایک مسلسل ارتقائی لکیر تھی اور دادو کے ہاں تاریخ ایک گہرا دائرہ۔جہاں سوال بار بار اسی مرکز کی طرف لوٹ آتا ہے۔
جذلان نے سوچا:
پروفیسر کول بتاتے ہیں کہ انسان کیا بنا؛
دادو یاد دلاتے ہیں کہ انسان کیوں بنا۔
ایک تہذیب کو زمانے میں رکھتا ہے اوردوسرا تہذیب کو انسان کے اندر۔
اسی لمحے جذلان کو شدت سے احساس ہوا۔اگر وہ صرف پروفیسر کول کو سنے گا تو تاریخ کا ماہر بنے گااور اگر صرف دادو کو سنے گا تو تاریخ کا قاری۔لیکن اگر دونوں کو ساتھ رکھ لے۔۔۔۔تو شاید تاریخ کا امین بن سکے۔
وہ آہستہ سے اٹھا۔
کالج کی راہداری میں قدم رکھتے ہوئے اس کے اندر ایک نیا یقین جنم لے چکا تھا:
تاریخ نہ صرف ماضی کا علم ہے،نہ ہی محض یادداشت۔۔۔۔۔یہ دونوں کے درمیان وہ جگہ ہے جہاں انسان خود کو پہچانتا ہے اور پہلی بار جذلان نے دل ہی دل میں مان لیا:
اب اسے صرف جواب نہیں چاہئیں،اسے سوالوں کے ساتھ جینا ہے۔(جاری)

Previous Post

“No Patient Will Be Left Behind”: LG Sinha Launches 100-Day TB-Free Campaign, Calls for Mass Movement in J&K

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.