• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Friday, March 27, 2026
Jammu Kashmir News Service | JKNS
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
Jammu Kashmir News Service | JKNS
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

تمثیلِ رفتہ — قسط نمبر60

قدیم زمانے کی پہلی درسگاہ(گزشتہ سے پیوستہ)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
March 26, 2026
in اردو خبریں
A A
تمثیلِ رفتہ — قسط نمبر60
FacebookTwitterWhatsapp

کالج کی کینٹین میں دوپہر کی ہلکی سی گہماگہمی تھی۔ کہیں چمچوں کی کھنک، کہیں چائے کے کپوں سے اٹھتی بھاپ اور کہیں ہنسی کی مدھم آوازیں۔ایک کونے کی میز پر جذلان، نادیہ اور دلیپ آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ میز پر رکھے سینڈوچ آہستہ آہستہ ختم ہو رہے تھے، مگر گفتگو کا ذائقہ بڑھتا جا رہا تھا۔
جذلان نے سینڈوچ کا ایک نوالہ لیا، پھر جیسے کسی اندرونی یقین کے ساتھ کہا:
”ایک بات تو طے ہے کہ کشمیر کی قدیم تاریخ، خاص طور پر قبل از تاریخ،پروفیسر کول صاحب سے بہتر کوئی نہیں سمجھا سکتا۔“
نادیہ نے فوراً سر ہلایا۔
”بالکل۔ جس طرح وہ مٹی، اوزار اور انسان کو ایک کہانی میں باندھ دیتے ہیں،وہ عام لیکچر نہیں لگتا…ایسا لگتا ہے جیسے ہم خود وہاں موجود ہوں۔“
دلیپ، جو اب تک خاموشی سے سنتا رہا تھا، یکدم بول پڑا۔ اس کی آواز میں جذبات کی وہ شدت تھی جو دیر سے نکلتی ہے۔
”سچ کہوں تو….جب سے کول صاحب نے پری ہسٹری کا باب اٹھایا ہے، مجھ پر ایک بالکل نئی دنیا آشکار ہو گئی ہے۔ایسی دنیا، جس کے بارے میں میں نے پہلے کبھی سنجیدگی سے سوچا ہی نہیں تھا۔“
وہ چند لمحے کو رکا، جیسے اپنے احساسات کو ترتیب دے رہا ہو۔
”اب انسان مجھے صرف تاریخ کی کتاب میں نہیں ملتا،وہ مجھے مٹی میں، ہڈی میں اور خاموش اوزاروں میں دکھائی دیتا ہے۔“
نادیہ نے مسکراتے ہوئے سینڈوچ کا ایک نوالہ منہ میں رکھا اور قدرے شوخی سے، مگر گہری بات کہی۔
”اب تو حال یہ ہے کہ میں گھر پر صرف Home Sapiens پر بنی فلمیں دیکھتی ہوں،تو کول صاحب کی باتیں آنکھوں کے سامنے چلنے لگتی ہیں۔یوں لگتا ہے جیسے وہ مناظر نہیں،ہماری کلاس کا تسلسل ہوں۔“
جذلان نے نادیہ کی طرف دیکھا، پھر دلیپ کی طرف اور دھیرے سے کہا۔
”شاید یہی اصل پڑھائی ہے….جب سبق کلاس روم سے نکل کر زندگی کے معمولی لمحوں میں شامل ہو جائے۔“
کینٹین کا شور اپنی جگہ موجود تھا،مگر اس میز پر بیٹھے تینوں کے لیے وقت پھر سے ہزاروں برس پیچھے سرک چکا تھا۔سینڈوچ ختم ہو چکے تھے،مگر گوپھ کرال کی گفتگو ابھی جاری تھی۔
دلیپ نے اچانک بات کو ایک اور رخ دے دیا۔ اس کی آواز میں وہ معصوم سی خواہش تھی جو عموماً دل میں ہی رہ جاتی ہے۔
”یار جذلان… ایک بات کہوں؟
جذلان نے سرکے اشارے سے اجازت دی ۔
”کچھ کرو نا…. اگر کول صاحب مان جائیں تو ایک بار ترال چلتے ہیں۔کم از کم گوپھ کرال کو ویسے ہی محسوس کر سکیں جیسے ہم نے برزہوم کو محسوس کیا تھا۔“
یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں ایک بچکانہ سی چمک تھی….جیسے تاریخ کو کتاب سے نکال کر ہاتھ میں تھام لینا چاہتا ہو۔
جذلان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا اور قدرے حقیقت پسندانہ لہجے میں بولا:
”دل تو میرا بھی یہی چاہتا ہے،مگر مجھے نہیں لگتا پرنسپل صاحب اجازت دیں گے۔اب امتحانات بھی قریب ہیں….اور انتظامیہ کو مٹی کے نیچے کی تاریخ سے زیادہ نصاب کی فکر ہوتی ہے۔“
دلیپ نے ایک لمحے کو نظریں جھکا لیں۔خواہش، حقیقت سے ٹکرا کر خاموش ہو گئی۔
اسی لمحے نادیہ نے مداخلت کی۔اس کی آواز میں شوخی بھی تھی اور خود اعتمادی بھی۔
”guys، ترال کون سا بہت دور ہے؟….ہم خود بھی تو جا سکتے ہیں۔تاریخ دیکھنے کے لیے ہمیشہ اجازت نامہ ضروری نہیں ہوتا۔“
نادیہ کی بات سنتے ہی تینوں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔
پہلے مسکراہٹ،پھر ہنسی….ایسی ہنسی جس میں خواب بھی شامل تھا اور جوانی کی بے فکری بھی۔
وہ ہنستے ہوئے کینٹین سے باہر نکل آئے۔
پیچھے رہ گئے خالی پلیٹیں اور سامنے کھل گیا ایک راستہ….جو شاید گوپھ کرال کی طرف نہیں،مگر تاریخ سے ایک اور قربت کی طرف جاتا تھا۔
گھر پہنچ کر جذلان نے بستہ ایک طرف رکھا۔ صحن میں شام کی ہلکی سی خاموشی اتر رہی تھی۔ دادو حسبِ معمول انگھیٹھی کے پاس بیٹھے تھے، ہاتھ میں تسبیح اور نگاہیں کہیں دور ماضی میں گم۔
جذلان نے آہستہ سے کہا:
”دادو…آج پروفیسر کول صاحب نے گوپھ کرال کا موضوع شروع کیا ہے۔آپ کچھ بتائیں نا، گوپھ کرال کے بارے میں۔“
دادو نے تسبیح روک دی۔ایک لمحے کو جذلان کو دیکھا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولے۔
”ہوں…گوپھ کرال…“
یہ لفظ ان کے منہ سے یوں نکلا جیسے کسی پرانی یاد کا دروازہ کھل گیا ہو۔
”برخوردار….ہماری پرانی باتوں میں گوپھ کرال کو صرف رہنے کی جگہ نہیں سمجھا جاتا تھا،بلکہ اسے قدیم زمانے کی پہلی درسگاہ کہا جاتا تھا۔خواجہ صاحب کہتے تھے کہ یہاں انسان نے پہلی بار آگ کو قابو میں کیااور مٹی کو پہچانا۔“
جذلان نے چونک کر پوچھا۔
”آگ کو قابو میں کیا؟“
دادو نے سر ہلایا:
”ہاں۔خواجہ صاحب کہتے تھے ان غاروں میں آگ ہمیشہ جلتی رہتی تھی۔آگ بجھ جائے تو اسے برا شگون سمجھا جاتا تھا۔لوگ مانتے تھے کہ آگ زندہ ہے اور اگر وہ ساتھ چھوڑ دے تو سردی، درندے اور اندھیرا سب اکٹھے حملہ آور ہو جاتے ہیں۔“
دادو نے بات آگے بڑھائی۔
” خواجہ صاحب یوں کہاکرتے تھے کہ گوپھ کرال کے لوگ پہاڑ، پانی اور مٹی کو الگ الگ پہچانتے تھے۔
پہاڑ کو وہ ” بوڑھا“ کہتے تھے،اس لیے کہ وہ ہمیشہ ایک ہی جگہ قائم رہتا تھا اور انسانی زندگی سے کہیں زیادہ قدیم تھا۔
پانی کو”مسافر“ کہا جاتا تھا،کیونکہ وہ رکتا نہیں تھا….ندی بن کر بہتا،بارش بن کر اترتااور ہر موسم کے ساتھ چہرہ بدل لیتا تھا۔
اور مٹی کو ‘ماں’ اس لیے کہا جاتا تھا کہ خوراک، گھر، برتن اور آخرکار خود انسان سب اسی سے جنم لیتے اور اسی میں واپس جاتے تھے۔
اسی سوچ کے تحت یہ کہا جاتا تھا کہ مٹی سے کچھ لینے کے بعد اسے خالی نہیں چھوڑا جاتا….بلکہ کچھ نہ کچھ واپس کیا جاتا تھا،تاکہ توازن برقرار رہے۔“
جذلان نے آہستہ سے کہا:
”یعنی یہ عقیدہ نہیں تھا،بلکہ فطرت کو سمجھنے کا طریقہ تھا؟“
دادو نے اطمینان سے سر ہلایا:
”بالکل برخوردار….یہ روحوں کی بات نہیں تھی،یہ زندگی کو چلانے کی سمجھ تھی۔اسی لیے خواجہ صاحب کہتے تھے کہ اگر کمہار کا دل بے دھیان ہوتو برتن ٹوٹ جاتا ہے….کیونکہ مٹی ہاتھ سے نہیں،سوچ سے سنبھالی جاتی ہے۔“
جذلان خاموش تھا۔اس کے سامنے اب گوپھ کرال ایک قدیم مقام نہیں،بلکہ ایک جیتا جاگتا لوک حافظہ بن چکا تھا….جہاں تاریخ غاروں میں نہیں،یادوں میں دفن تھی۔ (جاری)

Previous Post

Lal Chowk’s Famous Clock Tower Stops Ticking, Locals Express Concern

Next Post

جب “مفت علاج” صرف کاغذوں تک محدود رہ جائے: کشمیر کی زمینی حقیقت

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Next Post
جب “مفت علاج” صرف کاغذوں تک محدود رہ جائے: کشمیر کی زمینی حقیقت

جب “مفت علاج” صرف کاغذوں تک محدود رہ جائے: کشمیر کی زمینی حقیقت

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.