7889820373
اصولی طور پر، سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج کا تصور ایک نہایت عظیم وعدہ ہے جو ریاست اپنے عوام سے کرتی ہے۔ جیسے منصوبوں کے تحت ضروری ادویات، تشخیصی سہولیات اور بنیادی علاج عوام کو مفت یا نہایت کم قیمت پر فراہم کیے جانے چاہئیں۔ مقصد واضح ہے: کوئی بھی شہری محض مالی تنگی کی وجہ سے علاج سے محروم نہ رہے۔ مگر زمینی حقیقت، خاص طور پر کشمیر جیسے خطے میں، اس وعدے سے کافی مختلف نظر آتی ہے۔
اگر آپ یا کے کسی بھی سرکاری ہسپتال کا رخ کریں، تو حقیقت خود آشکار ہو جاتی ہے۔ مریض امید لے کر آتے ہیں، طویل سفر طے کر کے پہنچتے ہیں، لیکن ڈاکٹر کی طرف سے دی جانے والی پرچی میں اکثر ایسی ادویات لکھی ہوتی ہیں جو صرف نجی میڈیکل اسٹورز سے خریدی جا سکتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ادویات مفت فراہم کی جانی ہیں، تو پھر ڈاکٹر ان کا نسخہ کیوں نہیں دیتے؟
اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ پالیسی اور عملی نفاذ کے درمیان خلیج ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کو واقعی “ایسنشل ڈرگ لسٹ” کے تحت ادویات فراہم کی جاتی ہیں، مگر ان کی دستیابی اکثر غیر یقینی ہوتی ہے۔ کبھی سپلائی میں تاخیر، کبھی قلت، اور کبھی مکمل عدم دستیابی—یہ سب عوامل ڈاکٹر کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ایسی ادویات تجویز کریں جو بازار میں آسانی سے دستیاب ہوں۔ اگرچہ یہ فیصلہ بظاہر مریض کی سہولت کے لیے ہوتا ہے، لیکن یہ مفت علاج کے تصور کو کمزور کر دیتا ہے۔
ایک اور پہلو دواساز کمپنیوں کا اثر و رسوخ ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہ ایک کھلا راز ہے کہ بعض اوقات ڈاکٹر حضرات برانڈڈ ادویات تجویز کرتے ہیں، جو عام طور پر مہنگی ہوتی ہیں۔ اس عمل کے پیچھے مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، مگر نتیجہ ایک ہی ہوتا ہے: مریض پر مالی بوجھ۔ اس کے برعکس، وہی ادویات جنہیں جنیرک شکل میں مفت فراہم کیا جا سکتا ہے، نظر انداز ہو جاتی ہیں۔
مزید برآں، سرکاری ہسپتالوں کا انفراسٹرکچر اور انتظامی مسائل بھی اس صورتحال کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ خاص طور پر پرائمری ہیلتھ سینٹرز اور کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز میں مریضوں کا رش بہت زیادہ ہوتا ہے جبکہ ڈاکٹروں کی تعداد محدود۔ ایسے حالات میں ڈاکٹر کے لیے ہر مریض کو تفصیل سے سمجھانا یا ہسپتال کے اندر دستیاب ادویات کی رہنمائی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً، وہ فوری طور پر ایک نسخہ لکھ دیتے ہیں جو مریض کو باہر سے دوا خریدنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
عوامی شعور کی کمی بھی ایک اہم عنصر ہے۔ بہت سے لوگ یہ جانتے ہی نہیں کہ انہیں مفت ادویات کا حق حاصل ہے۔ ہسپتالوں میں اس حوالے سے کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی جاتیں—نہ ادویات کی فہرست نمایاں کی جاتی ہے، نہ ہی مریضوں کو ان کے حقوق سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ اس خاموشی میں، مریض بغیر سوال کیے باہر سے دوا خرید لیتا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ ایک نفسیاتی پہلو بھی جنم لے چکا ہے۔ لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہو گیا ہے کہ نجی میڈیکل اسٹور سے خریدی گئی دوا زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ ہمیشہ درست نہیں ہوتا، مگر یہ سوچ ڈاکٹر اور مریض دونوں کے رویے کو متاثر کرتی ہے۔
یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ نظام میں نیت کی کمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پالیسیاں موجود ہیں، فنڈز مختص کیے جاتے ہیں، اور ادویات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ اصل مسئلہ ان کے نفاذ، نگرانی اور جوابدہی کا ہے۔ جب تک سخت نگرانی کا نظام قائم نہیں ہوگا، تب تک بہترین پالیسیاں بھی عملی طور پر ناکام رہیں گی۔
تو پھر حل کیا ہے؟
سب سے پہلے شفافیت ضروری ہے۔ ہسپتالوں میں دستیاب مفت ادویات کی فہرست نمایاں کی جانی چاہیے تاکہ مریض باخبر رہیں۔ دوسرا، ڈاکٹروں کو چاہیے کہ وہ جہاں ممکن ہو، وہی ادویات تجویز کریں جو ہسپتال میں دستیاب ہوں۔ تیسرا، سپلائی کے نظام کو مضبوط بنایا جائے تاکہ ادویات کی مسلسل دستیابی یقینی ہو سکے۔
عوام کا کردار بھی اتنا ہی اہم ہے۔ مریضوں کو سوال پوچھنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ پوچھیں آیا تجویز کردہ دوا ہسپتال میں دستیاب ہے یا نہیں۔ شعور بیدار کیے بغیر اس مسئلے کا حل ممکن نہیں۔
اصل میں، یہ مسئلہ صرف ادویات یا نسخوں کا نہیں، بلکہ اعتماد کا ہے۔ جب ایک مریض سرکاری ہسپتال میں داخل ہوتا ہے، تو وہ صرف علاج نہیں بلکہ ایک نظام پر بھروسہ بھی ساتھ لاتا ہے۔ جب اسے بار بار باہر سے دوا خریدنے کو کہا جاتا ہے، تو اس کا اعتماد ٹوٹتا ہے۔
کشمیر جیسے خطے، جس نے بے شمار مشکلات کا سامنا کیا ہے، ایک ایسے نظامِ صحت کا مستحق ہے جو واقعی عوام کے ساتھ کھڑا ہو۔ مفت علاج کا وعدہ صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ہر مریض کے لیے ایک حقیقت بننا چاہیے۔
جب تک یہ خلا ختم نہیں ہوتا، تب تک وعدوں اور حقیقت کے درمیان یہ فرق ایک کہانی سناتا رہے گا—ایک ایسے نظام کی کہانی جو ابھی تک اپنے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا نہیں کر سکا۔
