• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Sunday, March 29, 2026
Jammu Kashmir News Service | JKNS
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
Jammu Kashmir News Service | JKNS
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

تمثیلِ رفتہ — قسط نمبر61

خواب اور بیداری کے بیچ لکیر(گزشتہ سے پیوستہ)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
March 28, 2026
in اردو خبریں
A A
تمثیلِ رفتہ — قسط نمبر61
FacebookTwitterWhatsapp

جذلان کی عادت تھی کہ سونے سے پہلے کسی کتاب کے چند اوراق ضرور پڑھتا، جیسے دن کے ہنگاموں کو کسی منظم خیال میں سمیٹ دینا ہو۔ ان دنوں وہ گارڈن جوسٹن کی ناول ” Sophie’s World“ کا مطالعہ کررہا تھا۔یہ ناول اسے اس لیے اپنی طرف کھینچتا تھا کہ اس میں دنیا کو مان لینے کے بجائے سمجھنے کی ضد تھی۔جس طرح ناول کا مرکزی کردار صوفیا اپنے فلسفی استاد البرٹو کِناکس (Alberto Knox) کے سوالوں کے ذریعے کائنات اور انسان کے بارے میں سوچنا سیکھتی ہے۔
یہ دنیا کیا ہے؟….ہم یہاں کیوں ہیں؟….جو چیزیں ہمیں “فطری” لگتی ہیں، کیا وہ واقعی فطری ہیں یا صرف عادت کا نتیجہ؟
اس طرح کے کئی اہم فلسفی سوالات گارڈن جوسٹن نے ناول کے ذریعہ ابھارے ہیں ۔جن سے جذلان بہت متاثر تھا اور خود کو سوال در سوال چکرویومیں الجھتا ہوا محسوس کررہاتھا۔
گوپھ کرال کے لوگ کون تھے؟ …. وہ غاروں میں کیسے رہتے تھے ؟…. مٹی کے برتن بنانے کا طریقہ کیا رہا ہوگا ؟
یہی سوالات جذلان کی بے چینی کا سبب بن رہے تھے ۔ مگر آج عجیب بات یہ تھی کہ ناول کھلی ہوئی تھی، الفاظ موجود تھے، لیکن سوال کاغذ سے نکل کر اس کے اپنے اندر منتقل ہو چکے تھے۔ وہ پڑھ نہیں رہا تھا….وہ خود ایک سوال بن چکا تھا۔
نِیند کوسوں دور تھی۔ پانی کے چند گھونٹ بھی ذہن کی الجھن کو سلجھا نہ سکے۔ اس نے حسبِ معمول خود کو مجبور کیا کہ دو تین صفحے پڑھ لے، شاید ذہن کسی ترتیب میں آ جائے۔ مگر سوالوں کی یہ دنیا آج کاغذ پر ٹھہرنے کو تیار نہ تھی۔اور پھراس کشمکش میں اسے خبر ہی نہ ہوئی کہ وہ نیندکی آغوش میںکب چلا گیا ۔
رات کے آخری پہر، جذلان نے خود کو ایک غار کے دہانے پر پایا….جیسے سوالوں کی وہی زنجیر، جسے وہSophie’s World“ میں پڑھ رہا تھا، اب زمانے کی تہوں میں اتر چکی ہو۔ یہاں کوئی استاد نہیں تھا، کوئی خط نہیں، کوئی لیکچر نہیں….صرف زندگی تھی، عمل میں ڈھلی ہوئی۔
غار کے اندر مٹی، آگ اور انسان کا رشتہ صاف نظر آرہا تھا۔ یہ وہی سوال تھا جسے جذلان سمجھنے کی کوشش کررہاتھا۔لیکن اب وہ یہ منظر آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔
غار کے اندر کوئی غیر مانوس شے نہیں۔ دیواروں پر ہموار تراش نہیں، بلکہ مٹی کی فطری ناہمواری ہے جس پر صدیوں کی نمی نے ہلکی سی چمک پیدا کر دی ہے۔ چھت سے دھواں آہستہ آہستہ باہر کی طرف سرک رہا ہے….یہ کوئی بھٹی نہیں، بلکہ زمین پر جلتی لکڑی اور سوکھی جھاڑیوں کی آگ ہے۔
وہ غور سے دیکھتا ہے کہ گوپھ کرال کے یہ لوگ کسی افسانوی مخلوق جیسے نہیں، بلکہ عام مگر سخت جان انسان ہیں۔ چہرے دھوپ اور ہوا سے جھلسے ہوئے، رنگ گندمی سے سانولا، آنکھوں کے گرد مستقل تھکن کی باریک لکیریں۔ داڑھیاں بے ترتیب، بال لمبے مگر الجھے ہوئے….کسی آرائش کے بغیر، صرف ضرورت کے مطابق۔
ان کے جسم مضبوط ہیں مگر بھاری نہیں۔ کندھے چوڑے، بازو سخت، ہاتھوں میں محنت کی مستقل دراڑیں۔ عورتوں کے ہاتھ بھی کمزور نہیں….ناخن چھوٹے، انگلیوں پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی، جیسے مٹی ان کی جلد کا حصہ بن چکی ہو۔
جذلان دیکھتا ہے کہ برتن بنانے والا مرد چاک استعمال نہیں کر رہا۔ اس کے ہاتھ مٹی کو آہستہ آہستہ اوپر اٹھا رہے ہیں….کنڈلی در کنڈلی۔ کبھی وہ انگلیوں سے کنارے کو سیدھا کرتا ہے، کبھی ہتھیلی سے برتن کا پیٹ موٹا کرتا ہے۔ یہ وہی طریقہ ہے جو چاک سے پہلے ممکن تھا، جس میں ہاتھ ہی آلہ ہوتے ہیں۔
قریب رکھی ہوئی مٹی گیلی نہیں، بس اتنی نم کہ ٹوٹے نہیں۔ عورت اسے بار بار الٹ پلٹ کر اس میں سے کنکر الگ کر رہی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ اگر مٹی میں پتھر رہ گیا تو برتن آگ میں پھٹ جائے گا۔ اس کی حرکات میں جلدی نہیں، جیسے یہ کام نسلوں سے اسی ترتیب میں ہوتا آیا ہو۔
بچے آگ کے بہت قریب نہیں بیٹھے۔ وہ جانتے ہیں کہ آگ کھیل نہیں۔ ان کے ہاتھوں میں چھوٹے، ادھ پکے برتن ہیں….کسی میں راکھ بھری ہے، کسی میں پانی کے چند قطرے۔ وہ سیکھ رہے ہیں، بس دیکھ کر۔ کوئی انہیں سمجھا نہیں رہا، مگر سب کچھ سکھایا جا رہا ہے۔
غار کے ایک کونے میں پتھر کے بنے سادہ اوزار رکھے ہیں….کھرچنے کے لیے نوکیلا پتھر، ہڈی کا چھوٹا سا چمچ اور ایک ہموار پتھر جس سے برتن کی سطح رگڑی جاتی ہے۔ کہیں کوئی نقش و نگار نہیں ۔ برتن خوبصورت نہیں بنائے جا رہے، بلکہ کارآمد بنائے جا رہے ہیں۔
وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ غار کوئی مستقل قید نہیں، بلکہ موسم کے مطابق پناہ ہے۔ غار کے دہانے پر رکھے برتن بتاتے ہیں کہ یہ لوگ باہر بھی جاتے ہیں۔۔۔چشموں تک، چراگاہوں تک، مٹی کے ذخیرے تک۔
غار کی دیواریں کسی فنکار نے نہیں بنائیں۔ یہ قدرت کی تراشی ہوئی ہیں، مگر انسان نے انہیں استعمال کے قابل بنایا ہے۔ کچھ جگہوں پر مٹی اور چونے کا لیپ صاف نظر آتا ہے ….وہی مٹی جس سے برتن بنتے ہیں، فرق صرف استعمال کا ہے۔
جذلان سمجھ جاتا ہے کہ برتن سازی یہاں کوئی نیا یا تجرباتی عمل نہیں۔ یہ سیکھا نہیں جا رہا….یہ یاد رکھا جا رہا ہے۔ علم لفظوں میں نہیں، عمل میں منتقل ہو رہا ہے۔ بچے جب مٹی کو چھوتے ہیں تو وہ نقالی نہیں کرتے، وہ تسلسل کا حصہ بن جاتے ہیں۔
چاک کی غیر موجودگی اس عمل کو سست نہیں کرتی، بلکہ محتاط بناتی ہے۔ ہر برتن وقت لیتا ہے، جیسے وقت ہی اس کی مضبوطی ہو۔اب وہ جان لیتا ہے کہ یہ لوگ غار میں چھپ کر نہیں رہتے، بلکہ غار کے ساتھ رہتے ہیں۔ غار ان کی توسیع ہے….ان کے جسم، ان کی محنت اور ان کے علم کی۔ یہ کوئی وحشی زندگی نہیں، بلکہ ضرورت سے جنمی ہوئی تہذیب ہے۔
اچانک آگ کی لکڑی چرچراتی ہے۔دھواں آنکھوں میں چبھتا ہے اور اسی دھوئیں میں….امی کی آواز۔
” جذلان …. اٹھو …. کیا کالج نہیں جانا ہے “۔
وہ آواز جو حال سے جڑی ہے، جو خواب اور بیداری کے بیچ لکیر کھینچ دیتی ہے۔ جذلان چونک کر جاگ اٹھتا ہے۔ دل کی دھڑکن تیز ہے، مگر ذہن صاف۔
اب وہ جان گیا ہے کہ وہ جو خواب میں دیکھا، وہ تمثیل نہیں تھی….وہ امکان تھا۔وہی امکان جس سے تاریخ جنم لیتی ہے۔ ( جاری)

Previous Post

BJP Holds BLA-1 Meeting in Srinagar to Strengthen Grassroots Network

Next Post

DIPR Shopian organises Exhibition on “Vande Mataram” at Mini Secretariat Shopian

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Next Post
DIPR Shopian organises Exhibition on “Vande Mataram” at Mini Secretariat Shopian

DIPR Shopian organises Exhibition on “Vande Mataram” at Mini Secretariat Shopian

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.