جموں و کشمیر، خصوصاً وادی کشمیر میں ٹرانسپورٹ کا نظام ہمیشہ سے عوامی زندگی کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ بدلتے ہوئے حالات، بڑھتی ہوئی آبادی اور جدید تقاضوں کے پیش نظر حکومت کی جانب سے سماٹ سٹی بسوں کا آغاز ایک مثبت اور خوش آئند قدم تصور کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس اقدام کے ساتھ ہی پرائیویٹ ٹرانسپورٹ سیکٹر میں بے چینی اور احتجاج نے ایک سنجیدہ بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا ترقی کے اس سفر میں کچھ طبقات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے؟ سماٹ سٹی بسوں کی آمد نے جہاں عوام کو جدید، آرام دہ اور بروقت سفری سہولیات فراہم کی ہیں، وہیں اس نے روایتی پرائیویٹ بس سروس کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی کھڑا کر دیا ہے۔ یہ بسیں مقررہ اوقات اور اسٹاپس کے مطابق چلتی ہیں، جس سے ملازمین، طلبہ و طالبات اور عام مسافروں کو اپنی منزل تک وقت پر پہنچنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، پرائیویٹ بسیں اکثر غیر منظم طریقے سے چلتی ہیں، راستے میں ہر جگہ رکتی ہیں اور سفر کا دورانیہ طویل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی بڑی تعداد اب سماٹ سٹی بسوں کو ترجیح دینے لگی ہے۔ اس نظام کی ایک اور نمایاں خصوصیت خواتین کے لیے مخصوص بسوں کی فراہمی اور بعض صورتوں میں مفت سفر کی سہولت ہے، جو نہ صرف خواتین کے لیے تحفظ اور سہولت کا باعث بنی ہے بلکہ ان کی سماجی و معاشی شرکت کو بھی فروغ دے رہی ہے۔ یہ اقدامات کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں اور ان کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔
تاہم، اس تصویر کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ پرائیویٹ ٹرانسپورٹ سے وابستہ ہزاروں افراد جن میں بس مالکان، ڈرائیورس، کنڈکٹرس اور دیگر عملہ شامل ہیں, اس نئے نظام سے خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر نے بینک قرضے لے کر یا اپنی زمین و جائیداد بیچ کر بسیں خریدی ہیں اور یہی ان کا واحد ذریعۂ معاش ہے۔ ایسے میں اگر ان کے کاروبار پر منفی اثر پڑتا ہے تو یہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ مجموعی معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ہوگا۔چکہ جام اور احتجاج دراصل اسی بے چینی کا اظہار ہے۔ یہ محض مخالفت نہیں بلکہ ایک اپیل ہے کہ ترقی کے اس عمل میں انہیں بھی شامل رکھا جائے۔ اگر حکومت اس پہلو کو نظر انداز کرتی ہے تو اس کے نتائج سماجی بے چینی اور معاشی عدم استحکام کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ایک جامع اور متوازن حکمت عملی اپنائے۔ سماٹ سٹی بسوں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کو بھی جدید بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت پرائیویٹ ٹرانسپورٹرس کو اس نظام کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ قرضوں میں ریلیف، سبسڈی اور پرانی بسوں کی تبدیلی کے لیے خصوصی اسکیمیں بھی متعارف کرائی جا سکتی ہیں۔ روٹس کی منصفانہ تقسیم اور ٹریفک نظام کی بہتر منصوبہ بندی بھی اس مسئلے کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ سماٹ سٹی بسوں کے پھیلاو کے ساتھ ٹریفک نظام میں ایک واضح تبدیلی بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ منظم روٹس، مقررہ اسٹاپس اور ڈیجیٹل نگرانی جیسے اقدامات نہ صرف شہری ٹریفک کو بہتر بنا رہے ہیں بلکہ سڑکوں پر بے ہنگم دوڑتی گاڑیوں کی تعداد میں بھی کمی لا رہے ہیں۔ اس سے ایندھن کی بچت، ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور حادثات کے امکانات میں بھی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اگر اس نظام کو مؤثر طریقے سے جاری رکھا جائے تو یہ نہ صرف سرینگر بلکہ دیگر اضلاع میں بھی ایک جدید اور پائیدار ٹرانسپورٹ ماڈل کے طور پر ابھر سکتا ہے، جو مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ دوسری جانب، یہ بھی ضروری ہے کہ پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کے مسائل کو محض احتجاج یا مزاحمت کے زاویے سے نہ دیکھا جائے بلکہ اسے ایک معاشی حقیقت کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹرانسپورٹرس کے ساتھ بامعنی مکالمہ قائم کرے اور ان کے تجربے اور زمینی حقائق کو پالیسی سازی میں شامل کرے۔ اگر پرائیویٹ سیکٹر کو جدید ٹیکنالوجی، تربیت اور مالی معاونت فراہم کی جائے تو وہ بھی اسی معیار کی خدمات فراہم کر سکتے ہیں جو سماٹ سٹی بسیں دے رہی ہیں۔ اس طرح نہ صرف مسابقتی ماحول پیدا ہوگا بلکہ عوام کو مزید بہتر اور متنوع سفری سہولیات بھی دستیاب ہوں گی۔
یہ کہنا بجا ہوگا کہ سماٹ سٹی بسوں کا آغاز ایک مثبت اور ضروری قدم ہے، لیکن کسی بھی ترقی کا حقیقی مقصد تبھی حاصل ہوتا ہے جب وہ سب کے لیے فائدہ مند ہو۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی سہولت اور پرائیویٹ ٹرانسپورٹرس کے روزگار کے درمیان ایک ایسا توازن قائم کرے جو پائیدار ترقی کی ضمانت بن سکے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف کشمیر کے ٹرانسپورٹ نظام کو بہتر بنائے گا بلکہ سماجی ہم آہنگی اور معاشی استحکام کو بھی فروغ دے گا۔

