پارس ہیلتھ سرینگر نے جموں و کشمیر میں طبی شعبے میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے خطے کے پہلے نجی ادارے کے طور پر گردہ ٹرانسپلانٹ پروگرام (KTP) لائسنس حاصل کر لیا ہے۔
اس منظوری کے بعد پارس ہیلتھ سری نگر اب وادی میں گردہ ٹرانسپلانٹ جیسی جدید اور جان بچانے والی سہولت فراہم کرنے والا پہلا نجی اسپتال بن گیا ہے، جس سے مریضوں کو علاج کے لیے بیرونِ ریاست سفر کرنے کی ضرورت کم ہوگی۔
اس پیش رفت کو جموں و کشمیر میں صحت کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مریضوں اور ان کے اہل خانہ پر مالی اور ذہنی دباؤ میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
اس موقع پر اسپتال کے فیسلٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر مرتضیٰ نے انتظامیہ اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لائسنس کے حصول کے لیے سخت جانچ کے مراحل سے گزرنا پڑا، جو ادارے کے معیاری طبی خدمات کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارس ہیلتھ سری نگر پر کیا گیا اعتماد ادارے کی ذمہ داری کو مزید بڑھاتا ہے تاکہ مریضوں کو اعلیٰ معیار کی طبی خدمات، شفافیت اور اخلاقی اصولوں کے مطابق علاج فراہم کیا جا سکے۔
ڈاکٹر مرتضیٰ نے مزید کہا کہ پارس ہیلتھ کا مقصد عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری اور سستی طبی سہولیات فراہم کرنا ہے، جبکہ گردہ ٹرانسپلانٹ سروس کے آغاز سے خطے میں جدید طبی خدمات کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔
زونل ڈائریکٹر سیما وج نے اس کامیابی کو پارس ہیلتھ گروپ کے لیے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادارہ جموں و کشمیر کے عوام کو عالمی معیار کی طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے طبی ٹیم، خصوصاً ڈاکٹر عادل بیگ اور ڈاکٹر یاسر احمد اور ان کی ٹیم کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں نے اس کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
ادھر اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شفقت احمد کینو نے حکومت کی جانب سے ادارے پر کیے گئے اعتماد کو سراہتے ہوئے کہا کہ پارس ہیلتھ مریضوں کو اعلیٰ معیار کا علاج فراہم کرنے اور ٹرانسپلانٹ کے لیے طویل انتظار جیسی مشکلات کو کم کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مریضوں کی بہترین نگہداشت اور معیاری طبی خدمات کی فراہمی ادارے کی اولین ترجیح رہے گی۔
