• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Monday, May 11, 2026
Jammu Kashmir News Service | JKNS
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
Jammu Kashmir News Service | JKNS
No Result
View All Result
Home Article

سومناتھ سے لے کر سندور تک، ایک ابھرتے ہوئے بھارت کا جذبہ

جناب پیوش گوئل by جناب پیوش گوئل
May 11, 2026
in Article, اردو خبریں
A A
FacebookTwitterWhatsapp

75 برس قبل عظیم الشان سومناتھ مندر کی ازسر نو تعمیر اور تقدیس  بھارت کی تہذیبی عظمت کے عروج کا ایک لمحہ تھا اور اس نے اس عظیم مندر کی قوت اور عزم محکم کی ازسر نو تصدیق کی، جنہیں وزیر اعظم نریندر مودی کے وکست بھارت 2047  کے مشن میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

اس مقدس سنگ میل کی 75ویں سالگرہ ملک کو بھارتی تہذیب کی مضبوط بنیاد اور قوت میں اعلیٰ اعتماد عطا کرتی ہے، جو 1000 برسوں تک جنونی حملہ آوروں کے ذریعہ مندر پر کیے گئے جارحانہ حملوں  کا سامنا کرنے کے بعد مضبوط ہوکر ابھری۔

ہر حملے کے بعد، گجرات کے پرسکون ساحل سمندر پر واقع یہ مندر  کھنڈرات سے اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ کھڑا ہوا۔کئی طریقوں سے، اس کی تاریخ ملک کے ماضی کا وہ آئینہ ہے، جس میں ہمارے امن پسند عوام نے اپنے عقائد، ثقافت اور ورثے پر متعدد وحشیانہ حملوں کے بعد ازسر نو واپسی کی۔

جیسا کہ وزیر اعظم مودی نے کہا ہے، جس طرح سومناتھ کو برباد کرنے کی بار بار کوششیں اور سازشیں کی گئیں، اسی طرح بیرونی حملہ آوروں نے صدیوں تک بھارت کو ختم کرنے کی کوششیں کیں۔ تاہم  نہ تو مقدس مندر برباد ہوا، اور نہ ہی بھارت ۔

وزیر اعظم مودی نے یہ واضح کیا کہ سومناتھ پر حملوں کا مقصد لوٹ مار سے بھی زیادہ شرانگیز تھا۔ انہوں نے کہا، ’’اگر حملوں کا مقصد صرف لوٹ مار ہوتا، تو وہ حملہ آور ہزار برس قبل کی گئی پہلی غارت گری کے بعد رُک جاتے۔ تاہم، بات یہ نہیں تھی۔ سومناتھ کی مقدس مورتی کی بے حرمتی کی گئی، مندر کی شکل کو بارہا تبدیل کیا گیا۔ اور ہمیں پڑھایا گیا کہ سومناتھ کو صرف لوٹ مار کے  مقصد سے برباد کیا گیا تھا۔ نفرت، ظلم و استحصال، اور دہشت کی یہ تاریخ ہم سے پوشیدہ رکھی گئی۔‘‘

نہرو کی مزاحمت- آزادی کے بعد، سردار پٹیل نے سومناتھ کی تعمیر نو کے مشن کی قیادت کی، جو کہ ایک نئے آزاد بھارت میں قومی خود اعتمادی کا ابتدائی اظہار تھا۔ تاہم اس میں بھی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اس وقت کے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد کے مندر کے تاریخی افتتاح میں شرکت کے فیصلے کی باضابطہ مخالفت کی تھی۔ لیکن صدر جمہوریہ نے 11 مئی 1951 کو مندر کا افتتاح کیا۔

مندر کی اس تعمیر نو نے صدیوں کے بے رحمانہ جبر کے بعد بھارت کی ثقافتی نشاۃ ثانیہ اور تہذیب میں فخر کے بیج بوئے۔ اجین میں کاشی وشوناتھ اور مہاکلیشور مندر کی بحالی سے لے کر ایودھیا میں عظیم الشان رام مندر تک؛ کیدارناتھ کے احیاء سے لے کر لاتعداد وراثتی مقامات کے تحفظ تک، بھارت وقار اور مقصد کے ساتھ اپنے تہذیبی بیانیے کو دوبارہ حاصل کر رہا ہے۔ ان کوششوں سے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور مقامی لوگوں کے لیے روزگار اور کاروبار کے بے شمار مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

عالمی  سطح پر اثرات- سومناتھ کی طرح، بھارت بھی مضبوطی کے ساتھ ابھرا ہے۔ یہ دنیا کی سب سے تیزی سے توسیع پذیر بڑی معیشت کے طور پر اور اپنے مالامال ورثے کو جدیدیت کے ساتھ منفرد انداز میں مربوط کرنے والے ملک کے طور پر دنیا بھر میں پذیرائی حاصل کر رہا ہے۔ 2014 میں، جب ملک نے ووٹ کے ذریعہ مودی حکومت کو اقتدار سونپا، تب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے عالمی یوم یوگ منانے کے لیے ریکارڈ 175 ممالک کی توثیق کی قرارداد منظور کی۔ یوگ اب ایک عالمی فلاح و بہبود کی تحریک ہے جس نے دنیا بھر میں تمام ثقافتوں کے لوگوں کو فائدہ پہنچایا ہے۔

ایک دہائی بعد، وزیر اعظم مودی نے متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے تحفے میں دیے گئے قطعہ اراضی پر مشرق وسطیٰ میں ایک عظیم الشان مندر کا افتتاح کیا۔ قبل ازیں وزیراعظم نے بحرین میں 200 سال پرانے مندر کی تزئین و آرائش کا آغاز کیا۔ وہ بھارتی تارکین وطن کے ساتھ بھی باقاعدگی سے بات چیت کرتے ہیں، انہوں نے اُن غیر مقیم بھارتیوں کو ثقافتی ورثے کے قابل فخر سفیر قرار دیا ہے۔

آیوش اور یوگ کو دنیا بھر میں فروغ دینا- بھارت کے ثقافتی ورثے کو فروغ دینا اور ہمارے روایتی علمی نظام کے پیشہ ور افراد کے لیے عالمی مواقع پیدا کرنا مختلف آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) کا ایک اہم عنصر رہا ہے جو بھارت نے حالیہ برسوں میں ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ کیے ہیں۔ ہمارے کاریگروں، کارکنوں، کاشتکاروں، ماہی گیروں، چھوٹے کاروباری اداروں اور اسٹارٹ اپس کے لیے منافع بخش عالمی مواقع پیدا کرنے کے علاوہ، یہ تجارتی معاہدے وزیر اعظم کی ’وکاس بھی، وراثت بھی ‘کی تصوریت کو آگے بڑھاتے ہیں۔

نیوزی لینڈ کے ساتھ حال ہی میں کیا گیا آزاد تجارتی معاہدہ روایتی نظام ادویہ اور جامع حفظانِ صحت کے شعبوں میں بھارت کی عالمی رسائی کے معاملے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ معاہدہ ویزا کوٹہ فراہم کرتا ہے تاکہ آیوش پریکٹیشنرز اور یوگا کے استاذوں کے ساتھ ساتھ دیگر بھارتی ثقافتی اور علمی پیشہ ور افراد کو نیوزی لینڈ میں کام کرنے کے مواقع فراہم کرائے جا سکیں۔

ایف ٹی اے باضابطہ طور پر آیوروید، یوگ، اور دیگر روایتی ادویات کی خدمات میں تجارت کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کرتا ہے اور آیوش کو ایک عصری، عالمی سطح پر متعلقہ حفظانِ صحت کے حل کے طور پر پیش کرتا ہے۔

برطانیہ، یورپی یونین اور آسٹریلیا کے ساتھ تجارتی معاہدوں میں اسی طرح کا نظم ہے۔ یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ آیوش پریکٹیشنرز کو بھارت میں حاصل کردہ پیشہ ورانہ قابلیت کا استعمال کرتے ہوئے اپنی خدمات فراہم کرنے کا موقع دےگا۔ یہ یورپی یونین کے رکن ممالک میں آیوش فلاح و بہبود کے مراکز اور کلینک کے قیام میں بھی سہولت فراہم کرے گا۔

نئے خطرات پر قابو پانا- جہاں ایک جانب بھارت کا ثقافتی ورثہ عالمی توجہ حاصل کر رہا ہے، وہیں یہ ملک جنونیوں کے نشانے پر بھی ہے، جو دہشت گردی اور دراندازی کا استعمال کر کے بھارت کے ہم آہنگ ورثے کو متاثر کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم مودی کے زیر قیادت نیا بھارت ایسے خطرات کا بھرپور جواب دیتا ہے۔ آپریشن سندور کے ذریعے بھارت نے سرحد پار دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو سبق سکھایا۔ اور حالیہ اسمبلی انتخابات میں، مغربی بنگال کے ووٹروں نے ان جماعتوں کو مسترد کر دیا جو دراندازوں کی حمایت کر رہی تھیں، ووٹ بینک کی سیاست کر رہی تھیں اور بھارت کے ثقافتی ورثے کو زک پہنچا رہی تھیں۔ اہم بات یہ ہے کہ آپریشن سندور کی برسی اور سومناتھ مندر کی تعمیر نو میں محض چند دنوں کا فاصلہ ہے۔ دونوں بھارت کی مضبوطی اور طاقت کو نمایاں کرتے ہیں۔

سومناتھ کی داستان بالآخر سیاست سے بالاتر ہے۔ یہ ایک ایسی تہذیب کی داستان ہے جس نے خودسپردگی سے انکار کردیا۔ اپنی تعمیر نو کے 75 برس بعد بھی، سومناتھ محض ایک مندر کے طور پر نہیں، بلکہ  بھارت کی قوت، تسلسل اور قومی خوداعتمادی کی لازوال علامت  کے طور پر کھڑا ہے۔

Previous Post

“Mothers Must Lead Fight Against Drugs; Safe, Aware Society is Collective Responsibility”: DIG Shiv Kumar Sharma

جناب پیوش گوئل

جناب پیوش گوئل

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.