معروف فکشن نگار، ادیب، شاعر اور نقاد ڈاکٹر امر مالموہی گذشتہ شب یعنی ۲۸ جون رات ساڑھےنو بجے قلیل علالت کے بعد پُنے میں انتقال کرگئے۔ اور آج شام پانچ بجے کے بعد انکے آخری رسومات انجام دیۓ جائیں گے۔ ادبی حلقوں میں یہ خبر پھیلتے ہی مرحوم کے تعیں تعزیتی پیغامات موصول ہونے لگے۔ امر مالموہی ایک سنجیدہ محقق، سرکردہ فیکشن نگار اور ایک کامیاب استاد کی حثیت سے جانے جاتے ہیں۔ انکے تحقیقی کاموں کو کافی سراہا گیا۔ ان کے ریڈیو ڈراماؤں کی کئ دھائی تک عوام پر ایک خاص چھاپ رہی، انہوں نے اسی کی دھائی میں بزم فن بانگل کی داغ بیل ڈالی، جسے بانگل علاقے میں ادبی سرگرمیاں شروع ہوئی۔ نامساعد حالات کے دوران وہ جموں کے بعد پُنے میں رہایش اختیار کر چکے اور اس دوران انہیں کافی مشکلات کا سامنہ کرنا پڑا۔
گلشن کلچرل فورم کشمیر کے ساتھ اس دوران بھی انکے روابط بدستور قایم رہے۔ جنہوں نے آج اپنے تعزیتی اجلاس میں ان کا بچھڑ جانا ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔
آج یہاں سمن بل بدرن میں فورم کا ایک تعزیتی اجلاس منعقد ہوا جسکی صدارت فورم کے صدر سید بشیر کوثر نے کی۔ اجلاس کے دوران فورم کے جنرل سیکریٹری گلشن بدرنی نے ان تعزیتی پیغامات کا تزکرہ کیا جو فورم کی وساطت سے انجہائی ڈاکٹر مالموہی کے لواحقین تک پہنچاۓ گیۓ۔ متزکرہ اجلاس میں شامل اور ورچول موڈ پر شریک ہوۓ فورم کے اراکین اور دیگر وابستگان نے انجہانی ڈاکٹر مالموہی کے لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی اور تعزیت کی۔ جن میں پروفیسر گلشن مجید، جناب شمشاد کرالہ واری، پروفیسر بشر بشیر، ڈاکٹر رفیق مسعودی، غلام حسن بابا، لطیف نیازی، خورشید خاموش، شری اشوک کاک، پیر زادہ محمد اشرف، ڈاکٹر جاوید انور، مقبول شیدا اور ڈاکٹر محمد ادریس شامل ہیں۔
تعزیتی اجلاس میں سرگواسی ڈاکٹر امر مالموہی کی روح کی شانتی کے لیۓ دعا کی گئ اور ساتھ انکے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہوئے اُن کے ساتھ اظہارِ یکجہتی بھی کیا گیا۔ اللہ مرحوم کو شانتی اور پسماندگان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین

