کرناہ، جولائی 25: ہر سال 26 جولائی کو پورا ملک کارگل وجے دیوس مناتا ہے۔ سال 2026 میں یہ دن کارگل جنگ میں بھارت کی فتح کی 27ویں سالگرہ کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ یہ دن ان بہادر فوجیوں کی عظیم قربانیوں، بے مثال جرات اور وطن سے والہانہ محبت کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جنہوں نے 1999 کی کارگل جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ملک کی سرحدوں کے دفاع کو یقینی بنایا۔
1999 کی کارگل جنگ بھارت کی عسکری تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ دشمن نے کارگل کے دشوار گزار اور برف پوش پہاڑی علاقوں میں کئی اہم چوٹیوں پر قبضہ جما لیا تھا، جس کے بعد بھارتی افواج نے آپریشن وجے کے تحت نہایت جرات، حکمتِ عملی اور قربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان چوٹیوں کو دوبارہ اپنے کنٹرول میں لیا۔ بلند و بالا پہاڑ، شدید سردی، دشوار راستے اور مسلسل دشمن کی فائرنگ کے باوجود ہمارے فوجیوں نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا اور کامیابی حاصل کی۔
کارگل جنگ نے یہ ثابت کیا کہ وطن کے دفاع کے لیے ہمارے فوجی ہر قربانی دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اس جنگ میں متعدد افسران اور جوان شہید ہوئے، جبکہ بہت سے فوجی زخمی بھی ہوئے۔ ان کی قربانیاں ہمیشہ قوم کے لیے باعثِ فخر رہیں گی اور آنے والی نسلوں کے لیے حوصلے، ایثار اور حب الوطنی کی روشن مثال بنی رہیں گی۔
کارگل وجے دیوس صرف ایک فتح کی یاد نہیں بلکہ ان تمام شہداء کو یاد کرنے کا دن بھی ہے جنہوں نے مادرِ وطن کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ اس موقع پر ملک بھر میں مختلف تقریبات، یادگاری پروگرام، شہداء کو خراجِ عقیدت اور قومی یکجہتی کے پیغامات پیش کیے جاتے ہیں تاکہ عوام، خصوصاً نوجوان نسل، ان قربانیوں کی اہمیت سے آگاہ ہو سکے۔
آج جب ہم کارگل وجے دیوس منا رہے ہیں تو یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ ہم اپنے ملک کی ترقی، امن، اتحاد اور سالمیت کے لیے ہمیشہ اپنا کردار ادا کریں گے۔ ہمیں اپنے فوجیوں کی قربانیوں کا احترام کرتے ہوئے قومی یکجہتی کو مضبوط بنانا چاہیے اور ان اقدار کو فروغ دینا چاہیے جن کے لیے ہمارے بہادر سپاہیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
کارگل وجے دیوس ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ وطن کی حفاظت، قومی اتحاد اور امن کے لیے دی گئی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جاتیں۔ شہداء ہمیشہ قوم کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں اور ان کی بہادری آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہتی ہے۔

