کرناہ، 30 جولائی: سرحدی حلقۂ کرناہ کے دیرینہ ترقیاتی اور طبی مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے مقصد سے ایم ایل اے کرناہ جاوید احمد میرچل نے جمعرات کو سول سیکریٹریٹ سرینگر میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کی اور کرناہ و ٹنگڈار سے متعلق کئی اہم عوامی معاملات ان کے سامنے رکھے۔
ملاقات کے دوران ایم ایل اے نے لونٹھا میں اسپورٹس اسٹیڈیم کی تعمیر کا معاملہ زور و شور سے اٹھاتے ہوئے کہا کہ سرحدی علاقے کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، تاہم جدید کھیلوں کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ان کی صلاحیتیں بھرپور انداز میں نکھر نہیں پا رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسپورٹس اسٹیڈیم کی تعمیر نہ صرف نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کرے گی بلکہ علاقے میں کھیلوں کے فروغ اور صحت مند سرگرمیوں کو بھی تقویت ملے گی۔
ایم ایل اے نے سب ڈسٹرکٹ ہسپتال ٹنگڈار کی اپ گریڈیشن کا مطالبہ بھی دہرایا اور کہا کہ موجودہ طبی ڈھانچہ دور دراز سرحدی علاقوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ ہسپتال کو جدید طبی سہولیات، خصوصی شعبہ جات اور جدید طبی آلات سے آراستہ کیا جائے تاکہ مقامی لوگوں کو معیاری علاج معالجہ اپنے ہی علاقے میں میسر آ سکے۔
انہوں نے ایس ڈی ایچ ٹنگڈار میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل عملے کی شدید کمی کا مسئلہ بھی وزیر اعلیٰ کے سامنے رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ طبی عملے کی کمی کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور مریضوں کو معمولی علاج کے لیے بھی دور دراز علاقوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہسپتال میں خالی آسامیوں کو فوری طور پر پُر کیا جائے اور ڈاکٹروں و پیرا میڈیکل عملے کی مناسب تعیناتی عمل میں لائی جائے تاکہ صحت کی خدمات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایم ایل اے کی جانب سے پیش کیے گئے تمام مسائل کو غور سے سنا اور یقین دلایا کہ کرناہ کے عوام کے جائز مطالبات اور مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جموں و کشمیر کے دور افتادہ اور سرحدی علاقوں کی متوازن ترقی اور عوام کو بہتر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے۔
عوامی حلقوں کے مطابق یہ ملاقات کرناہ کے ترقیاتی خوابوں کی تعبیر کی جانب ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، خصوصاً کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے اور صحت کے شعبے میں بہتری کے حوالے سے، جو طویل عرصے سے علاقے کے عوام کے اہم مطالبات میں شامل رہے ہیں

