سری نگر، 31 جولائی: اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے آئمہ کرام اور علماء کے ایک وفد نے آج جموں و کشمیر کی متعدد معروف درگاہوں کے دورے کے بعد یہاں ان درگاہوں پر ہونے والی غیر معمولی ترقیاتی تبدیلیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ راجوری کے مولانا فاروق نقشبندی وفد کے ہمراہ شریک رہے۔ وفد نے کہا کہ جموں و کشمیر وقف بورڈ کی جانب سے مقدس مقامات پر انجام دیے گئے ترقیاتی کام پورے ملک کے لیے ایک مثالی نمونہ ہیں۔ بعد ازاں وفد نے سری نگر میں وقف بورڈ ہیڈکوارٹر میں جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر سید درخشاں اندرابی سے ملاقات کی اور ان کی قیادت میں بورڈ کی جانب سے جموں و کشمیر بھر کی روحانی درگاہوں پر جدید بنیادی ڈھانچے اور بہترین سہولیات کی فراہمی پر بھرپور ستائش کا اظہار کیا۔تفصیلی گفتگو کے دوران ڈاکٹر سید درخشاں اندرابی نے کہا کہ جموں و کشمیر وقف بورڈ کی پہلی چیئرپرسن کی حیثیت سے، سنٹرل وقف ایکٹ کے تحت ذمہ داری سنبھالتے ہی وقف نظام میں اصلاحات، شفافیت اور جوابدہی کے مشن کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا: “جموں و کشمیر کی طرح ملک بھر کے وقف بورڈز کو ماضی کی حکومتوں نے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا۔ تاہم وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی جی کی قیادت میں ملک کے ہر شعبے کی طرح وقف نظام میں بھی نمایاں اور مثبت تبدیلیاں آئی ہیں۔ میں وزیرِ اعظم کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے جموں و کشمیر میں وقف انتظامیہ میں شفافیت اور جوابدہی نافذ کرنے کی قیادت کا موقع فراہم کیا۔ جب ہمارے اقدامات اور محنت کو سراہا جاتا ہے تو میں اور میری پوری ٹیم مزید حوصلہ پاتے ہیں۔” ڈاکٹر درخشاں اندرابی نے وفد کو یقین دلایا کہ شفافیت کے ساتھ ترقی کا یہ مشن آئندہ بھی جاری رہے گا اور جموں و کشمیر کے روحانی مراکز آنے والے دنوں میں مزید وقار، عظمت اور ترقی کے ساتھ جلوہ گر ہوں گے۔
