سری نگر میں 5 اگست کے ‘مکمل انضمام کے دن’ کی مناسبت سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی تقریب میں شرکت کے بعد، جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر سید درخشاں اندرابی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘خصوصی حیثیت’ کی آڑ میں مقامی سیاسی جماعتوں نے دہائیوں تک جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندی اور بدامنی کو فروغ دیا، جبکہ 5 اگست 2019 کی آئینی تبدیلیوں نے خطے میں پائیدار امن اور خونریزی کے طویل سلسلے سے نجات کی راہ ہموار کی۔ ڈاکٹر درخشاں نے کہا، “یہ سیاسی جماعتیں ان ہزاروں بے گناہوں کی ہلاکت کی ذمہ دار ہیں جنہوں نے ان کی استحصال اور تفریق پر مبنی سیاست کی وجہ سے اپنی جانیں گنوائیں۔ اب دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد ہمیں تشدد اور خونریزی سے آزادی ملی ہے۔ ہم اب جموں و کشمیر میں امن اور ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔” مقامی سیاسی جماعتوں کی جانب سے خصوصی حیثیت کی بحالی کے مطالبے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر اندرابی نے کہا کہ ہماری عظیم پارلیمنٹ نے یہ فیصلہ کیا اور یہ فیصلہ ناقابلِ تنسیخ ہے۔ اندرابی نے کہا، “پرانے راگ الاپ کر لوگوں کو بیوقوف بنانے سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ جموں و کشمیر اس بات کا مستحق نہیں ہے کہ اسے علیحدگی پسندانہ سوچ کی طرف دھکیلا جائے۔ جموں و کشمیر کا ہر شہری ایک قابلِ فخر ہندوستانی ہے جسے اس عظیم اور ترقی پذیر ملک میں مساوی حقوق اور مواقع حاصل ہیں۔” انہوں نے جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے پائیدار امن کی بحالی اور ترقی و خوشحالی کے دور کے وعدے کو پورا کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔

