کچھ لوگ صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رہتے، بلکہ اپنی گفتگو، اپنے کردار، اپنے فن اور اپنی سوچ کے ذریعے پورے معاشرے پر اثر چھوڑتے ہیں۔ ایسے لوگ وقت گزرنے کے ساتھ فراموش نہیں ہوتے، بلکہ ان کی آواز نسل در نسل سنائی دیتی رہتی ہے۔ اشفاق لون بھی انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ادب، ثقافت، زبان اور سماجی شعور کے میدان میں اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی ہے۔
آج کے تیز رفتار دور میں جب زندگی کی ترجیحات بدل رہی ہیں، نئی نسل کا رشتہ اپنی زبان، تہذیب اور ثقافتی روایات سے کمزور ہوتا جا رہا ہے، ایسے میں وہ شخصیات خاص اہمیت اختیار کر جاتی ہیں جو اپنی پوری زندگی ان اقدار کے تحفظ اور فروغ کے لیے وقف کر دیتی ہیں۔ اشفاق لون کی شخصیت اور ان کی فکری کاوشیں اسی احساس کی نمائندگی کرتی ہیں۔
اشفاق لون کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ادب کو محض الفاظ کا کھیل نہیں سمجھتے بلکہ اسے معاشرے کی اصلاح، انسان کی تربیت اور تہذیب کے تحفظ کا ذریعہ تصور کرتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں زبان کی شیرینی بھی محسوس ہوتی ہے اور فکر کی گہرائی بھی۔ وہ اپنی بات کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ سننے والا صرف الفاظ نہیں سنتا بلکہ ان کے پیچھے چھپی ہوئی سوچ کو بھی محسوس کرتا ہے۔
ادب کی اصل طاقت یہی ہے کہ وہ انسان کو انسان کے قریب لاتا ہے۔ ایک اچھا ادیب معاشرے کے دکھ، خوشی، مسائل، امیدیں اور خواب اپنے قلم کے ذریعے بیان کرتا ہے۔ وہ لوگوں کو آئینہ دکھاتا ہے اور انہیں اپنے ماضی، حال اور مستقبل پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اشفاق لون کی ادبی اور ثقافتی وابستگی بھی اسی روایت کی ایک خوبصورت مثال ہے۔
زبان صرف اظہار کا ذریعہ نہیں، ہماری شناخت ہے
ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ زبان صرف گفتگو کا وسیلہ نہیں ہوتی۔ زبان دراصل ہماری تہذیبی شناخت، تاریخی حافظہ اور اجتماعی شعور ہوتی ہے۔ جب کوئی قوم اپنی زبان سے دور ہونے لگتی ہے تو آہستہ آہستہ وہ اپنے ماضی، اپنی روایات اور اپنی ثقافتی جڑوں سے بھی دور ہونے لگتی ہے۔
اشفاق لون جیسے اہلِ قلم اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ وہ زبان و ادب سے محبت کو محض جذباتی وابستگی نہیں بلکہ ایک سماجی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی گفتگو اور ادبی سرگرمیوں میں اپنی زبان، اپنی تہذیب اور اپنی ثقافتی اقدار کے تحفظ کا احساس نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو اپنی زبان سے محبت کرنا سکھائیں۔ بچوں کو صرف جدید علوم سے آراستہ کرنا کافی نہیں، بلکہ انہیں اپنی تاریخ، ادب، لوک روایات، ثقافت اور مادری زبان سے بھی جوڑنا ہوگا۔ کیونکہ جو نسل اپنی جڑوں سے جڑی رہتی ہے وہی مضبوط بنیادوں پر مستقبل تعمیر کر سکتی ہے۔
کشمیر کی سرزمین صدیوں سے علم، ادب، روحانیت، فن، موسیقی اور تہذیب کا مرکز رہی ہے۔ یہاں کی ثقافت میں سادگی بھی ہے، محبت بھی، مہمان نوازی بھی، روحانیت بھی اور انسان دوستی بھی۔ ہمارے بزرگوں نے ان روایات کو اپنی زندگیوں میں زندہ رکھا، مگر آج جدیدیت اور تیز رفتار معاشرتی تبدیلیوں کے باعث ہماری بہت سی روایات آہستہ آہستہ کمزور پڑ رہی ہیں۔
ایسے وقت میں ثقافت سے وابستہ افراد کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ انہیں صرف ماضی کا ذکر نہیں کرنا بلکہ ماضی کی خوبصورت روایات کو جدید دور کی ضروریات کے ساتھ جوڑ کر نئی نسل تک منتقل کرنا چاہیے۔
اشفاق لون کی کاوشوں کی اہمیت اسی حوالے سے محسوس ہوتی ہے کہ وہ ادب اور ثقافت کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی آواز ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ترقی کا مطلب اپنی جڑوں کو کاٹ دینا نہیں بلکہ اپنی بنیادوں کو مضبوط رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔
ہم ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں سوشل میڈیا نے اظہار کے مواقع تو بے شمار پیدا کر دیے ہیں، لیکن بامقصد گفتگو کا دائرہ محدود ہوتا جا رہا ہے۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو، چند سطروں کی پوسٹ اور چند لمحوں کی شہرت نے سنجیدہ مطالعے اور فکری مکالمے کی جگہ لے لی ہے۔
ایسے ماحول میں اشفاق لون جیسے اہلِ فکر کی موجودگی ایک نعمت ہے۔ معاشرے کو ایسی آوازوں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو شور سے نکال کر سوچ کی طرف، نفرت سے نکال کر محبت کی طرف، اور بے مقصد مصروفیت سے نکال کر علم و شعور کی طرف لے جائیں۔
ایک معاشرہ صرف سڑکوں، عمارتوں اور جدید ٹیکنالوجی سے ترقی یافتہ نہیں بنتا۔ حقیقی ترقی اس وقت آتی ہے جب معاشرے میں علم، اخلاق، برداشت، ادب، ثقافت اور انسان دوستی پروان چڑھے۔ اس سفر میں قلم کار، ادیب، استاد، شاعر اور ثقافتی کارکن بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
آج کے نوجوانوں کے سامنے دنیا کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ وہ پوری دنیا سے جڑ سکتے ہیں، نئی زبانیں سیکھ سکتے ہیں، جدید علوم حاصل کر سکتے ہیں اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔ لیکن اس سب کے ساتھ انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اپنی شناخت کو زندہ رکھنا بھی کامیابی کا ایک اہم حصہ ہے۔
ہمیں جدید دنیا سے سیکھنا چاہیے، لیکن اپنی تہذیب کو بھول کر نہیں۔ ہمیں دوسری زبانیں سیکھنی چاہئیں، لیکن اپنی مادری زبان کو کم تر سمجھ کر نہیں۔ ہمیں جدید ثقافتوں سے واقف ہونا چاہیے، لیکن اپنی روایات اور اقدار کو ترک کر کے نہیں۔
یہی وہ پیغام ہے جو اشفاق لون جیسی شخصیات کی فکری اور ادبی جدوجہد سے اخذ کیا جا سکتا ہے۔
کسی بھی معاشرے میں کچھ آوازیں وقت کے شور میں گم ہو جاتی ہیں، مگر کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود زندہ رہتی ہیں۔ ان آوازوں کی طاقت ان کے لہجے میں نہیں بلکہ ان کے پیغام، کردار اور مقصد میں ہوتی ہے۔
اشفاق لون کی آواز بھی اسی نوعیت کی محسوس ہوتی ہے—ایک ایسی آواز جو ادب کی بات کرتی ہے، تہذیب کی بات کرتی ہے، زبان کی بات کرتی ہے اور انسان کو اپنی اصل سے جڑے رہنے کا پیغام دیتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایسی آوازوں کو صرف سنیں نہیں بلکہ ان کے پیغام کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بھی بنائیں۔ کیونکہ ادب تبھی زندہ رہتا ہے جب وہ کتابوں سے نکل کر معاشرے کے کردار میں نظر آئے، اور ثقافت تبھی محفوظ رہتی ہے جب نئی نسل اسے فخر کے ساتھ آگے بڑھائے۔
اشفاق لون جیسے اہلِ قلم اور اہلِ فکر دراصل ہمارے معاشرے کے فکری چراغ ہیں۔ ان کی روشنی شاید ہر شخص کو فوراً دکھائی نہ دے، لیکن یہ روشنی آنے والی نسلوں کے راستے ضرور روشن کر سکتی ہے۔
آج جب مادیت، تیز رفتاری اور مصنوعی مصروفیات نے انسان کو اپنی ذات اور اپنی جڑوں سے دور کرنا شروع کر دیا ہے، ہمیں ان آوازوں کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے جو ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ قوموں کی اصل طاقت ان کی عمارتوں میں نہیں، ان کے علم، ادب، زبان، کردار اور ثقافت میں ہوتی ہے۔
اور شاید اسی لیے اشفاق لون کی آواز کو صرف ایک فرد کی آواز کہنا درست نہیں ہوگا؛ یہ دراصل ایک ایسی سوچ کی آواز ہے جو چاہتی ہے کہ ادب زندہ رہے، زبان زندہ رہے، ثقافت زندہ رہے اور سب سے بڑھ کر انسان کے اندر انسانیت زندہ رہے۔
تحریر: پیرزادہ سعید
peerzadasayeed@gmail.com
Contact No:+91 84910 70608
