• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Wednesday, August 12, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home Article

تلیل وادی ، کشمیر کا عظیم سرمایہ

تحریر:ایڈ وکیٹ صفا by تحریر:ایڈ وکیٹ صفا
August 12, 2026
in Article
A A
FacebookTwitterWhatsapp

قارئین ، کشمیر کی خوبصورتی کا ذکر ہو تو ذہن فوراً گلمرگ کی برف پوش ڈھلوانوں، پہلگام کی حسین وادیوں اور سرینگر کی جھیلوں کی طرف چلا جاتا ہے، لیکن اس خطے میں قدرت نے ایسے کئی گوشے بھی تخلیق کیے ہیں جو ابھی تک سیاحت کی گہماگہمی اور تجارتی سرگرمیوں کی دوڑ سے بڑی حد تک محفوظ ہیں۔ شمالی کشمیر کے دور افتادہ علاقے گریز میں واقع تولیل وادی بھی انہی مقامات میں شامل ہے۔ یہاں پہنچ کر محسوس ہوتا ہے کہ قدرت نے اپنی اصل خوبصورتی کو اسی خاموش اور پُرسکون خطے میں محفوظ کر رکھا ہے، جہاں پہاڑوں کی بلندی، سبز چراگاہوں کی وسعت، بہتے پانی کی موسیقی اور مقامی لوگوں کی سادگی مل کر ایک ایسا منظر تشکیل دیتی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔تُلیل وادی بلند و بالا ہمالیائی پہاڑوں کے درمیان ایک ایسی دنیا کا منظر پیش کرتی ہے جہاں جدید شہری زندگی کی تیز رفتاری ابھی پوری طرح نہیں پہنچی۔ برف سے ڈھکی پہاڑی چوٹیاں، گھنے صنوبر کے جنگلات، شفاف ندی نالے اور دور تک پھیلے سبز میدان اس وادی کو ایک منفرد حسن عطا کرتے ہیں۔ دریائے کشن گنگا جب اس وادی کے درمیان سے گزرتا ہے تو اس کی روانی پورے ماحول میں ایک خاص موسیقیت پیدا کر دیتی ہے۔ صاف شفاف پانی، خاموش پہاڑ اور کھلے آسمان کے نیچے پھیلی سبز زمین دیکھنے والے کو کچھ دیر کے لیے روزمرہ زندگی کی مصروفیات سے بالکل الگ ایک نئی دنیا میں لے جاتی ہے۔تُلیل کے حسن کا اندازہ صرف اس کے قدرتی مناظر سے نہیں لگایا جاسکتا۔ وادی کے چھوٹے چھوٹے گاؤں بھی اپنی سادگی اور قدرتی دلکشی کے باعث خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ شیخ پورہ اور برنائی جیسے دیہات میں لکڑی سے بنے روایتی مکانات، گھروں کے آس پاس کھلے میدان، جنگلی پھولوں کی رنگینی اور مقامی لوگوں کے چہروں پر نظر آنے والی اپنائیت سیاحوں کو ایک ایسا تجربہ فراہم کرتی ہے جو بڑے سیاحتی مراکز کے مہنگے ہوٹل اور جدید تفریحی سہولیات بھی نہیں دے سکتے۔ چکوالی، جو لائن آف کنٹرول کے قریب واقع آخری آبادیوں میں شمار ہوتا ہے، اپنی جغرافیائی اہمیت کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں کے حوصلے اور مشکلات کے باوجود زندگی کو آگے بڑھانے کی داستان بھی سناتا ہے۔قدرتی حسن کے ساتھ ساتھ تولیل میں مہم جوئی کے شوقین افراد کے لیے بھی بے شمار امکانات موجود ہیں۔ قریب ہی واقع حبہ خاتون چوٹی اس پورے خطے کی خوبصورتی میں مزید کشش پیدا کرتی ہے۔ کشمیر کی معروف شاعرہ حبہ خاتون سے منسوب یہ پہاڑی چوٹی اپنے بلند قامت اور پُرشکوہ وجود کے باعث دور سے ہی توجہ اپنی جانب مبذول کرلیتی ہے۔ اس کے ساتھ جڑی لوک روایات اور تاریخی داستانیں اس مقام کو محض ایک قدرتی منظر نہیں رہنے دیتیں بلکہ اسے کشمیر کے ثقافتی ورثے کا حصہ بھی بناتی ہیں۔تُلیل کے پہاڑی راستے ان لوگوں کے لیے خاص کشش رکھتے ہیں جو قدرت کو قریب سے دیکھنے اور نسبتاً غیر معروف مقامات کی تلاش میں رہتے ہیں۔ وادی کے مختلف راستے بلند پہاڑی علاقوں، پوشیدہ جھیلوں، وسیع سبز چراگاہوں اور ایسے مقامات تک پہنچتے ہیں جہاں سے پورے علاقے کا وسیع منظر دکھائی دیتا ہے۔ ٹریکنگ اور قدرتی سیاحت کو فروغ دے کر اس خطے کو مستقبل میں ایک اہم مہماتی سیاحتی مرکز بنایا جاسکتا ہے، تاہم اس ترقی کے دوران ماحول اور مقامی طرز زندگی کے تحفظ کو اولین ترجیح دینا ضروری ہوگا۔تُلیل کی اصل شناخت صرف اس کے پہاڑوں، دریاؤں اور چراگاہوں سے نہیں بلکہ یہاں کے لوگوں اور ان کی صدیوں پرانی تہذیب سے بھی وابستہ ہے۔ یہاں آباد ڈارڈ شینا برادری نے اپنی مخصوص ثقافتی شناخت کو آج تک بڑی حد تک محفوظ رکھا ہے۔ ان کی زبان، موسیقی، لوک رقص، روایتی لباس، دستکاری اور مہمان نوازی اس وادی کے ثقافتی حسن کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ مقامی زندگی میں آج بھی فطرت کے ساتھ گہرا تعلق محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اون سے تیار کیے جانے والے روایتی ملبوسات، ہاتھ سے تیار ہونے والی اشیا اور مقامی کھانے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہاں کی تہذیب نے جدید تبدیلیوں کے باوجود اپنی بنیادی روح کو برقرار رکھا ہے۔یہاں کے تہوار بھی بڑے تجارتی یا نمائشی پروگراموں کے بجائے مقامی برادری کی زندگی، فصل، خوشی اور باہمی اتحاد سے جڑے ہوتے ہیں۔ یہی سادگی تولیل کو دوسرے معروف سیاحتی مراکز سے مختلف بناتی ہے۔ اگر سیاحت کو صرف قدرتی مناظر تک محدود رکھنے کے بجائے مقامی ثقافت اور روایات سے جوڑا جائے تو تولیل نہ صرف سیاحوں کے لیے ایک منفرد مقام بن سکتا ہے بلکہ مقامی آبادی کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرسکتا ہے۔تُلیل جیسے دور افتادہ اور سرحدی علاقے میں بنیادی سہولیات اور رابطوں کی بہتری بھی انتہائی اہم ہے۔ اس سلسلے میں بھارتی فوج کا کردار بھی قابل ذکر رہا ہے۔ سرحدوں کی حفاظت کی اپنی بنیادی ذمہ داری کے ساتھ فوج نے مقامی آبادی کے لیے تعلیم، طبی سہولیات، بنیادی ڈھانچے اور نوجوانوں سے متعلق مختلف سرگرمیوں میں بھی معاونت فراہم کی ہے۔ تعلیمی سہولیات، طبی کیمپ، سڑکوں اور رابطہ ذرائع میں بہتری اور پیشہ ورانہ تربیت سے متعلق اقدامات نے مقامی لوگوں کے لیے کئی نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔دور دراز علاقوں میں ایسے اقدامات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہاں بنیادی سہولیات تک رسائی ہمیشہ آسان نہیں رہی۔ جب ایک طالب علم کو بہتر تعلیمی ماحول ملتا ہے، کسی مریض کو بروقت طبی امداد دستیاب ہوتی ہے یا کسی نوجوان کو ہنر سیکھ کر روزگار حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے تو یہ صرف ایک فرد کی زندگی میں تبدیلی نہیں ہوتی بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل پر اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی طرح مقامی ثقافت، نوجوانوں کی صلاحیتوں اور قومی یکجہتی کو اجاگر کرنے والی سرگرمیاں بھی مقامی آبادی اور سکیورٹی اداروں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔تُلیل میں سیاحت کے امکانات یقیناً روشن ہیں، لیکن اس وادی کی ترقی کا راستہ محتاط اور متوازن ہونا چاہیے۔ بڑے پیمانے پر تعمیرات، بے ہنگم تجارتی سرگرمیوں اور غیر منصوبہ بند سیاحتی توسیع سے اس علاقے کی وہی خوبصورتی متاثر ہوسکتی ہے جو آج اسے منفرد بناتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہاں ماحول دوست اور پائیدار سیاحت کو فروغ دیا جائے، مقامی نوجوانوں کو گائیڈنگ، ہوم اسٹے، دستکاری، مقامی مصنوعات اور دیگر سیاحتی شعبوں میں تربیت دی جائے اور اس ترقی کا فائدہ براہ راست مقامی آبادی تک پہنچے۔آج جب دنیا کے بیشتر معروف سیاحتی مقامات بڑھتی ہوئی بھیڑ، شور اور تجارتی دوڑ کا شکار ہوچکے ہیں، تولیل اب بھی اپنی فطری خاموشی اور سادگی کے ساتھ سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہاں طلوع ہونے والا سورج، برف پوش پہاڑ، بہتا دریا، سبز چراگاہ اور لکڑی کے روایتی گھر ایک الگ ہی داستان سناتے ہیں۔ یہ وہ کشمیر ہے جہاں قدرت ابھی بھی اپنی اصل زبان میں بات کرتی محسوس ہوتی ہے۔تُلیل محض ایک خوبصورت وادی کا نام نہیں بلکہ کشمیر کے اس پہلو کی علامت ہے جسے ابھی دنیا نے پوری طرح دریافت نہیں کیا۔ اس کے قدرتی حسن میں کشش ہے، ثقافت میں گہرائی ہے، لوگوں کی سادگی میں اپنائیت ہے اور خاموشی میں ایک ایسی شاعری ہے جو کسی مصنوعی سیاحتی مرکز میں پیدا نہیں کی جاسکتی۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس پوشیدہ خزانے کو دنیا کے سامنے لاتے ہوئے اس کی روح، ماحول اور ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھا جائے۔ اگر ایسا کیا گیا تو تولیل مستقبل میں کشمیر کی سیاحتی شناخت کا ایک روشن باب بن سکتا ہے، مگر اپنی وہ اصل خوبصورتی برقرار رکھتے ہوئے جو اسے آج بھی ’’کشمیر کی چھپی ہوئی جنت‘‘ بناتی ہے۔

 

 

Previous Post

کشمیر میں سیاحت کی نئی بہار

تحریر:ایڈ وکیٹ صفا

تحریر:ایڈ وکیٹ صفا

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.