چرارشریف بس سٹینڈ میں، آج جے کے اپنی پارٹی کی طرف سے یوسمرگ، دودھ پتھری اور ھجن، جیسے تین اھم سیاحتی مقامات پر سرکاری، بندشوں کے خلاف زور دار احتجاج کیا گیا۔ احتجاج کرنے والوں نے تین سیاحتی مقامات کو عام کشمیری، اور بیرونی سیاحوں کی سیاحت کے لئے بدستور بند رکھنے کے سرکاری حکمنامے کی مذمت کی اور اسے ھزاروں افراد کے روزگار پر شب خون سے تعبیرکیا۔ احتجاج میں، وتکلو، چونٹی ناڑ، یوسمرگ، کنہ دجن چراری پورہ، پکھرپورہ، شنکرپورہ، ناگبل، دارون اور چرارشریف سے تعلق رکھنے والئے درجنوں کارکن ہاتھوں میں، مذکورہ مقامات کی بحالی، پر مبنی مطالبات کے پلے بورڈس،لئے،پہنچ گئے تھے جو خاموش احتجاج کے ساتھ ھی اصل میں نیو بس سٹینڈ میں واقع گھنٹہ گھر کی تک پرامن مارچ کرنے لگئے۔تو پہلے سے موجود جموں کشمیر پولیس سے،وابستہ بھاری نفری نے زبردستی راستہ روک کر موقعے پر بعض اشخاص کو تحویل میں لیا جن میں ڈسٹرکٹ پریذڈنٹ بڈگام ایڈوکیٹ اویس اشرف شاہ، یوتھ پریذڈنٹ عرفان مختار، کھانڈے جاوید، اور دوسرے ساتھی شامل ہے۔ قبل اسکے مسٹر اویس اشرف نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ،یوسمرگ جیسے تاریخی سیاحتی مقام کو سیاحت کے لئے بند رکھنے کے حکم شاہی کی مذمت کی اور سرکاری سے بندش کے وجوہات واضح کرنے کو کہا،ایڈوکیٹ اویس شاہ نے بتایا کہ یہ تو بدقسمتی سے تعبیر ہے کہ اہم معاملات کے بارے میں لب کشائی کرنے پربھی یہاں پابندی ہے۔ یوسمرگ ھیجن اور دودھ پتھری، جیسے تین مشہور سیاحتی مقامات عام سیاحت کے لئے بند رکھنا،سازش سے کم نہیں ورنہ ان تین مقامات کی سیر وسیاحت کے دوران مقامی، ہوٹل مالکان، دکانداروں ریڈی فروشوں، گھوڑے بانوں کا روزی چلتا تھا، یوسمرگ سے سیکنڑوں اشخاص کا گھر چلتا ہے۔ لیکن نامعلوم وجوہات پر سرکار وہ حق بھی ان سے چھیننا چاہتی، تاکہ پسماندہ طبقے میں ڈالکر ماتحت لانے کا حربہ استعمال کرتی ہے۔جو موجودہ سرکار کی پالسی رھی۔ موصوف نے الزام عاید کیا کہ ایک طرف سونمرگ پہلگام،، گلمرگ، اور دوسرے بیشتر سیاحتی مقام کھلے ہے مگر پھر بھی ہمارے سیاحتی مقامات کیوں بند کئے گئے ھے۔ شاہ نے موجودہ سرکار کے مخاطب بتایا کہ ہمیں پرامن طور اپنا احتجاج، ریکارڈ کرنے کے لئے مجبوراسڑک پر نکلنا پڑھا، کیونکہ عوام کا مسلہ تھا، شاہ نے اسمبلی سپیکر اور ایم ایل اے چرارشریف کو اس بات کو لیکر ہدف تنقید بنایا کہ حکومت میں مالک کل ہوتے ہوئے بھی راتھر صاحب چرارشریف کانسچونسی کے لیے کچھ بھی نہیں کرتے۔ ورنہ یوسمرگ ھیجن جیسے سیاحتی مقامات دوبارہ کھولنا انکے سامنے بڑی بات نہیں تھی اب ایک ہفتے کے اندر اگر یوسمرگ دوبارہ نہیں کھولدی گئی تو ہم مرکز میں سڑک پر نکلتے ہے۔ موصوف نے چرارشریف کانسچونسی میں موجود ہر ایک کارکن کو حق کے خاطر اپنی آواز اٹھانے کے لئے کہا، درایں اثنا، یوسمرگ ٹریڈرس یونین کے پریذڈنٹ قاضی اعجاز احمد اور پکھررہ کے دوکانداروں نے بھی ایڈوکیٹ اویس اشرف صاحب، کے مطالبے کا دفاع کرتے ہوئے انھیں عوامی آواز بننے کے عوض حراست میں لینے کے اقتدام کی مذمت کی پولیس سے مودبانہ گذارش کی کہ وہ عوام کی حقیقی نمایندگی کرنے والئے نوجوان لیڈر اور کاکنوں کو فورا رہا کریں۔ اور ایل جی انتظامیہ سے فوری طور،ھیجن یوسمرگ سیاحتی مقام دوبارہ سیاحت کے لئے کھولنے کی اپیل دوہرائی۔

