ٹیٹوال، کرناہ | 22 اگست 2026:
ناگروٹا کی ایم ایل اے دیویانی رانا نے ہفتہ کے روز ایل او سی ٹیٹوال، کرناہ میں واقع تاریخی شاردا مندر کا پہلی مرتبہ دورہ کیا، جہاں انہوں نے حاضری دے کر پوجا پاٹ میں شرکت کی اور مندر میں عبادت کی۔
یہ مندر کشمیر کے مشترکہ تہذیبی، ثقافتی اور تمدنی ورثے کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔ نو تعمیر شدہ مندر کا افتتاح مارچ 2023 میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کیا تھا۔
دورے کے موقع پر دیویانی رانا کا مندر میں کوآرڈینیٹر اعجاز خان، منیجر مہاویر تھسو اور پجاریوں کمل اور ریتک رائنا نے استقبال کیا۔ انہوں نے مندر میں حاضری دی اور مذہبی رسومات میں شرکت کی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے دیویانی رانا نے سیو شاردا کمیٹی کشمیر کی کوششوں کو سراہا، جس نے اسی مقام پر شاردا مندر کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے اہم کردار ادا کیا، جہاں تقسیم ہند سے قبل مہاراجہ کے دور میں یہ مندر موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم ہند کے دوران پیدا ہونے والے ہنگامہ خیز حالات میں اصل مندر کو نذرِ آتش کر دیا گیا تھا۔
رانا نے کہا کہ ٹیٹوال میں شاردا مندر کی بحالی محض ایک مذہبی عمارت کی تعمیر نو نہیں بلکہ کشمیر کی تاریخی اور ثقافتی میراث، بالخصوص شاردا روایت کے تحفظ کی ایک کوشش ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹیٹوال میں مندر کی بحالی تک ہی محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ شاردا پیٹھ، جو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں واقع قدیم علمی مرکز ہے، کے درشن اور یاترا کو دوبارہ شروع کرنے کی سمت میں بھی کوششیں کی جانی چاہئیں۔
ایم ایل اے نے کہا کہ مناسب راہداری، ضروری انتظامات اور متعلقہ اجازت ناموں کے تحت مستقبل میں عقیدت مندوں کو شاردا پیٹھ کی یاترا کی سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔ انہوں نے شاردا پیٹھ یاترا کی بحالی کے لیے گزشتہ کئی دہائیوں سے جدوجہد کرنے والے رویندر پنڈتا اور سیو شاردا کمیٹی کی کوششوں کو بھی سراہا۔
دیویانی رانا کے دورے کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ ٹیٹوال گزشتہ کچھ عرصے سے کشمیر کے تاریخی اور مذہبی ورثے کی بحالی سے وابستہ ایک نمایاں مقام کے طور پر ابھر رہا ہے۔ شاردا مندر ان لوگوں کے لیے بھی ایک اہم مرکز بن چکا ہے جو تقسیم کے بعد جدا ہونے والی کشمیری برادریوں، تاریخی مقامات اور قدیم روایات سے دوبارہ جڑنے کے خواہاں ہیں۔
رانا کے دورے اور شاردا پیٹھ یاترا دوبارہ شروع کرنے کے مطالبے نے ایک مرتبہ پھر قدیم شاردا پیٹھ تک رسائی اور کشمیر کے مشترکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ کی دیرینہ ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔
سیو شاردا کمیٹی گزشتہ کئی برسوں سے شاردا روایت کی بحالی اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ شاردا پیٹھ تک روایتی یاترا کو دوبارہ ممکن بنانے کے لیے کوششیں کرتی رہی ہے۔ ٹیٹوال میں شاردا مندر کی تعمیر نو کو اسی وسیع تر کوشش کا ایک اہم قدم قرار دیا جاتا ہے۔
دورے کے اختتام پر مندر میں خصوصی دعائیں کی گئیں، جہاں موجود افراد نے خطے کے قدیم تاریخی و ثقافتی ورثے کے تحفظ اور شاردا پیٹھ سے وابستہ روایتی یاترا روابط کی بحالی کے لیے کوششیں مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا

