کرناہ، یکم ستمبر: مختلف سرکاری محکموں میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والے عارضی ملازمین نے منگل کے روز منی سیکریٹریٹ کرناہ میں احتجاج کرتے ہوئے اپنی خدمات کو مستقل کرنے کا مطالبہ کیا اور جموں و کشمیر حکومت سے اپنے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی اپیل کی۔
احتجاج میں بڑی تعداد میں ڈیلی ویجرز نے شرکت کی اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بلند کیے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ کئی برسوں سے مختلف سرکاری محکموں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور مستقل ملازمین کی طرح ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، تاہم انہیں اب بھی ملازمت کا تحفظ، سرکاری مراعات اور مالی استحکام حاصل نہیں جو مستقل ملازمین کو حاصل ہے۔
مظاہرین نے انتظامیہ اور یو ٹی حکومت سے اپیل کی کہ ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور انہیں مستقل کرنے کے لیے ایک واضح پالیسی مرتب کی جائے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے ڈیلی ویجرز کے مسئلے کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کی سفارشات پر بھی مزید تاخیر کے بغیر عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران حکومت کی جانب سے بارہا یقین دہانیاں کرائی گئیں، جس سے ہزاروں عارضی اور ضرورت کی بنیاد پر کام کرنے والے ملازمین کی امیدیں وابستہ ہوئیں، تاہم حتمی فیصلہ نہ ہونے کے باعث وہ مسلسل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے کئی ملازمین نے اپنی عملی زندگی کا ایک بڑا حصہ سرکاری محکموں میں خدمات انجام دیتے ہوئے گزار دیا ہے اور اب وہ اپنے مستقبل کے حوالے سے منصفانہ اور مستقل حل چاہتے ہیں۔
احتجاج کے دوران ملازمین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مستقل کرنے کی پالیسی مرتب کرتے وقت ان کی طویل عرصے سے جاری خدمات، عمر اور سرکاری محکموں میں ان کی خدمات و کردار کو مدنظر رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ طویل عرصے تک ڈیلی ویجر کی حیثیت سے کام کرنے کی وجہ سے ان کے خاندانوں کو شدید مالی اور سماجی مشکلات کا سامنا ہے، خصوصاً کرناہ جیسے دور دراز اور معاشی طور پر مشکلات سے دوچار علاقے میں۔
مظاہرین نے متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ اس مسئلے کو انتظامی سطح پر مزید تاخیر کا شکار نہ بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد سے ان ملازمین کی بڑی تعداد کو راحت مل سکتی ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے مستقل حل کے منتظر ہیں۔
ڈیلی ویجرز نے حکومت کی مجوزہ مستقل کرنے کی پالیسی کے حوالے سے مزید شفافیت کا بھی مطالبہ کیا اور اپیل کی کہ حتمی فیصلہ لینے سے قبل ملازمین کے نمائندوں کو اعتماد میں لیا جائے۔
احتجاج مکمل طور پر پُرامن رہا۔ مظاہرین نے واضح کیا کہ ان کی جدوجہد کا مقصد حکومت کی توجہ اپنے جائز اور دیرینہ مطالبات کی جانب مبذول کرانا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مقامی انتظامیہ ان کے مسائل کو اعلیٰ حکام تک پہنچائے گی اور اس معاملے کے حل کے لیے بامعنی اور مؤثر عمل شروع کیا جائے گا۔
مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر مزید توجہ نہ دی گئی تو وہ اپنے جمہوری اور پُرامن احتجاج کو مزید وسعت دینے پر مجبور ہوں گے۔
ڈیلی ویجرز نے لیفٹیننٹ گورنر کی سربراہی والی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں سے مداخلت کرتے ہوئے مستقل کرنے کے معاملے پر جلد فیصلہ لینے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک واضح، شفاف اور مقررہ مدت کے اندر نافذ کی جانے والی پالیسی سے نہ صرف انہیں بلکہ ان پر منحصر سینکڑوں خاندانوں کو بھی بہت بڑا ریلیف اور مستقبل کا تحفظ حاصل ہوگا
