سری نگر، 8 ستمبر: جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے کشمیر یوتھ صدر صوفی طاہر نے ایم بی بی ایس انٹرن ڈاکٹروں کے جاری مسائل کے حل کے لیے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ جموں و کشمیر کے مختلف گورنمنٹ میڈیکل کالجز (GMCs) میں انٹرن ڈاکٹروں کی جانب سے احتجاج اور ایک انٹرن ڈاکٹر کے بھوک ہڑتال پر جانے کی اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے۔
ایکس، جسے پہلے ٹوئٹر کے نام سے جانا جاتا تھا، پر جاری ایک بیان میں صوفی طاہر نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتو سے اپیل کی کہ وہ احتجاج کرنے والے انٹرن ڈاکٹروں سے ذاتی طور پر ملاقات کریں اور بامعنی بات چیت کے ذریعے ان کے مطالبات کا ازالہ کریں۔
صوفی طاہر نے کہا، “یہ افسوسناک ہے کہ SKIMS JVC کے ایک انٹرن ڈاکٹر، ڈاکٹر فیصل کو بھوک ہڑتال پر جانا پڑا۔ سکینہ ایتو جی کو ان ڈاکٹروں سے ملاقات کرنی چاہیے۔ انہیں حکومت کی جانب سے تحریری یقین دہانی کی ضرورت ہے۔”
انہوں نے زور دیا کہ معاملے کو مزید پیچیدہ ہونے سے پہلے فوری طور پر حل کرنے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے تحریری یقین دہانی احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں میں اعتماد بحال کرنے کے ساتھ ساتھ یہ پیغام بھی دے گی کہ حکومت ان کے مسائل کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔
پیپلز کانفرنس کے یوتھ لیڈر نے کہا کہ ڈاکٹرز اور میڈیکل انٹرنز صحت کے اداروں کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، بالخصوص سرکاری اسپتالوں میں جہاں وہ مریضوں کی دیکھ بھال اور دیگر ضروری طبی خدمات کی انجام دہی میں معاونت کرتے ہیں۔
صوفی طاہر نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے جائز مطالبات کے حل کے لیے تمام پُرامن اور مثبت کوششوں کی حمایت کرے گی۔
انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ تعمیری رویہ اختیار کرتے ہوئے انٹرن ڈاکٹروں کے نمائندوں کے ساتھ براہِ راست بات چیت کا آغاز کریں۔ ان کے مطابق حکومت کی بروقت مداخلت سے صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکتا ہے اور انٹرن ڈاکٹروں کے مسائل کا حل طویل احتجاج کے بجائے بات چیت کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔
یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایم بی بی ایس انٹرن ڈاکٹر کی جانب سے مبینہ طور پر بھوک ہڑتال کیے جانے پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ صوفی طاہر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت کو ان کے مطالبات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کی صحت اور بہبود کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
صوفی طاہر نے متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر لیتے ہوئے انٹرن ڈاکٹروں کے ساتھ جلد از جلد باضابطہ بات چیت شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے واضح لائحۂ عمل اور تحریری یقین دہانی جاری تنازع کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

