کپواڑہ، 12 ستمبر: سال 2026 کی تیسری قومی لوک عدالت کا ضلع کپواڑہ کے مختلف علاقوں میں کامیابی کے ساتھ انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد تنازعات کو باہمی رضامندی، تیز رفتاری اور کم اخراجات کے ساتھ حل کرنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔
قومی لوک عدالت کا باضابطہ افتتاح چیئرمین، ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی، مسٹر منجیت سنگھ منہاس نے عدالتی افسران کی موجودگی میں کیا۔ افتتاحی تقریب میں بار ایسوسی ایشن کپواڑہ کے صدر اور اراکین، لیگل ایڈ ڈیفنس کاؤنسلز (LADCs)، پینل وکلاء، عدالتی عملہ اور ڈی ایل ایس اے کپواڑہ سے وابستہ پیرا لیگل رضاکاروں نے بھی شرکت کی۔
قومی لوک عدالت کا بنیادی مقصد مقدمات کو تیز رفتاری، کم اخراجات اور باہمی رضامندی کے ساتھ نمٹانے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ عدالتوں میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد کو کم کرنا تھا۔ ضلع کپواڑہ میں مختلف نوعیت کے 268 مقدمات تصفیے کے لیے درج کیے گئے، جن میں دیوانی مقدمات، قابلِ مصالحت فوجداری مقدمات، خاندانی تنازعات، ریکوری کے معاملات، موٹر حادثات کے معاوضے کے دعوے، قبل از مقدمہ اور بعد از مقدمہ تنازعات شامل تھے۔
لوک عدالت کے ہموار انعقاد کے لیے 9 بینچز تشکیل دیے گئے، جن میں 4 ضلع ہیڈکوارٹر کپواڑہ، 2 ہندواڑہ جبکہ ایک ایک سوگام، کرالپورہ اور ترہگام میں قائم کیا گیا۔
عدالتی افسران، وکلاء اور فریقین کی کوششوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 105 مقدمات باہمی رضامندی سے نمٹائے گئے، جس کے نتیجے میں 57,89,417 روپے کی رقم بطور تصفیہ حاصل ہوئی۔
قومی لوک عدالت کا کامیاب انعقاد ایک بار پھر عوام کو قابلِ رسائی، کم خرچ اور فوری انصاف فراہم کرنے کے لیے عدلیہ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اس موقع پر لوک عدالتوں کی اہمیت بھی اجاگر ہوئی، جو متبادل تنازعاتی حل کے ایک مؤثر طریقہ کار کے طور پر انصاف کی بروقت فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں

