• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Tuesday, September 15, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (قسط :2)

محمد سلیم سالکؔ

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
September 15, 2026
in اردو خبریں
A A
FacebookTwitterWhatsapp

ونہی ہماری گاڑی تقریباً دو بجے حاجن میں داخل ہوئی، دور سے ہی حاجن کی جامع مسجد کا گنبد دکھائی دینے لگا ۔جامع مسجد کے بلند و بالا میناروں کو دیکھ کر ہی اندازہ ہوگیا کہ ہماری منزل اب زیادہ دور نہیں۔ اس کی ایک اور وجہ بھی تھی۔ ادبی مرکز کمراز کے خاص رکن، برادرم شفیع شاکر کی زبانی میں اکثر یہ سنتا آیا تھا کہ گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول جامع مسجد کے بالکل سامنے ہے۔ چنانچہ مسجد کے گنبد اور میناروں کے بعد جب ہماری نظر اسکول کی عمارت پر پڑی تو یوں محسوس ہوا جیسے ہم سفر کی آخری منزل کی دہلیز تک پہنچ گئے ہوں۔
ہائر سیکنڈری اسکول کے مرکزی دروازے پر آویزاں ایک بڑے سے بینر نے بھی فوراً اعلان کردیا کہ آج یہاں کچھ معمول سے ہٹ کر ہونے والا ہے۔ آسمان پر بادل تھے، فضا میں نمی تھی اور زمین بارش سے بھیگی ہوئی تھی، مگر اس سب کے باوجود ادبی مرکز کمراز کے کارکن پوری سرگرمی کے ساتھ مہمانوں کی آمد کا انتظام سنبھالے ہوئے تھے۔ مرکزی دروازے سے ہی وہ آنے والی گاڑیوں کو پارکنگ کی طرف رہنمائی کر رہے تھے۔میں نے بھی گاڑی سکول کے عقب میں واقع پارکنگ کی طرف موڑ دی ۔
اسکول کے وسیع صحن میں ایک بڑا سا پنڈال سجایا گیا تھا۔ پنڈال میں قطار در قطار کرسیاں بچھی ہوئی تھیں اور ایک ایک کرکے مہمان ان پر براجمان ہورہے تھے۔ منظر میں ایک عجیب سی سادگی بھی تھی اور ایک خاص طرح کی گرم جوشی بھی،جیسے بارش نے فضا کو تو ضرور نم کیا ہو، مگر لوگوں کے جذبے کو ذرا بھی ماند نہ پڑنے دیا ہو۔
جونہی میں نے گاڑی پارک کی، اچانک میری نظر ادبی مرکز کمراز کے صدر، جناب محمد امین بٹ صاحب پر پڑی۔ سفید قمیض شلوارپہنے، کندھے پر رکھا ہوا ایک سادہ سا گمچھا اور چہرے پر ایسی شگفتگی کہ پہلی نظر میں ہی ان کی شخصیت میں ایک درویشانہ سادگی محسوس ہوئی۔ وہ کسی رسمی عہدے دار سے زیادہ ایک اللہ والے دکھائی دے رہے تھے۔مجھے دیکھتے ہی ان کے چہرے پر ایک ایسی خوشی پھیل گئی جس میں بناوٹ کا شائبہ تک نہ تھا۔ بڑی محبت سے پیشانی پر بوسہ دیا اور پھر فوراً شکوہ بھی کیا:
“اگر مجھے پتا ہوتا کہ تم آرہے ہو تو میں تمہارے ساتھ ہی آتا۔”
یہ ایک مختصر سا جملہ تھا، مگر اس میں جو اپنائیت تھی، اس نے سفر بھر کی تھکن جیسے ایک لمحے میں اتار دی۔ مجھے محسوس ہوا کہ ادبی مرکز کمراز کی اصل قوت صرف اس کی کانفرنسیں یا اس کے ادبی پروگرام نہیں، بلکہ وہ لوگ ہیں جو اس مرکز کو اپنی محبت، خلوص اور تعلق سے زندہ رکھتے ہیں۔
پنڈال کی طرف بڑھا تو ایک کے بعد ایک شناسا چہرے نظر آنے لگے۔ ایسا محسوس ہوا جیسے برسوں سے بکھرے ہوئے تعلقات اچانک ایک ہی جگہ جمع ہوگئے ہوں۔ ہر چند قدم کے بعد کوئی نہ کوئی جان پہچان والا چہرہ سامنے آجاتا اور یوں لگتا کہ حاجن صرف ایک جگہ نہیں، بلکہ پرانی یادوں اور تعلقات کا ایک اہم پڑاؤ ہے۔
اسی دوران جناب جاوید اقبال ماوری نے ہمیں اپنی طرف آتے دیکھا تو انہوں نے آگے بڑھ کر شوکت شفیع صاحب سے مصافحہ کیا۔ میں نے بھی مصافحے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا ہی تھا کہ ماوری صاحب نے رسمی مصافحے کے بجائے مجھے گلے سے لگا لیا۔ ان کی اس بے تکلف محبت نے مجھے خوش بھی کیا اور دل میں ان کے لیے موجود احترام کو بھی اور گہرا کردیا۔ذاتی طور پر میں جاوید اقبال ماوری صاحب کا بہت احترام کرتا ہوں۔ وہ ایک اسلامی شعور رکھنے والی، با مطالعہ اور صاحبِ فکر شخصیت ہیں۔ ان کے معلوماتی ویڈیوز میں اکثر دیکھتا رہتا ہوں۔ ان کی گفتگو میں مطالعے کی وسعت بھی محسوس ہوتی ہے اور موضوع پر گرفت بھی۔ نہایت پڑھے لکھے ادیب ہیں اور آج کل ادبی مرکز کمراز کے نائب صدر کی حیثیت سے بھی اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
ابھی ماوری صاحب سے خیریت دریافت ہی کررہا تھا کہ اچانک کسی نے میرے کندھے پر زور سے ہاتھ مارا۔ جونہی پلٹ کر دیکھا تو برادرم شفیع شاکر سامنے کھڑے تھے۔ اگلے ہی لمحے وہ اپنی مخصوص اپنائیت اور محبت بھرے انداز میں گلے ملے اور بے تکلفی سے بولے:
“سالک، برابر دو دن ہمارے ساتھ رہنا ہے!”
ان کے لہجے میں ایسی کشش تھی کہ ان کے الفاظ محض ایک دعوت نہیں لگ رہے تھے، جیسے کسی پرانے دوست نے اپنے پن کا حق جتایا ہو۔ میں نے شفیع شاکر کی باتوں میں ہمیشہ سے ایک عجیب سی کشش محسوس کی ہے۔موصوف کو کالج کے زمانے سے جانتا ہوں۔ ان کی شخصیت میں لیڈرشپ کوالٹی جیسے رگ رگ میں بھری ہوئی ہے۔ جہاں بھی یہ شخص جاتا ہے، اپنی موجودگی کا احساس ضرور دلاتا ہے۔ لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا، ماحول کو اپنے گرد متحرک کردینا اور کسی کام کے لیے دوسروں کو آمادہ کرلینا شاید ان کی فطرت میں شامل ہے۔ محض کسی محفل کا حصہ نہیں بنتے،بلکہ بہت جلد محفل کا ایک نمایاں کردار بن جاتے ہیں۔اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ دوست کی بات آئی تو میں بھی تعریفوں کے پل باندھنے لگا!لیکن یقین مانیے، جو محسوس ہوا، وہی کہنے کی کوشش کررہا ہوں۔ شاکرشفیع کی شخصیت کو قریب سے جاننے والے شاید میری اس بات کی تائید کریں گے کہ اس آدمی میں لوگوں کو جوڑنے اور کسی مقصد کے گرد جمع کرنے کی ایک غیر معمولی صلاحیت ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ادبی مرکز کمراز کی سرگرمیوں میں بھی ان کی موجودگی محض ایک رکن کی نہیں، بلکہ ایک متحرک اور فعال کردار کی محسوس ہوتی ہے۔
شفیع شاکر چونکہ مسلسل مہمانوں کو ریسیو کرنے میں مصروف تھے، اس لیے میں نے بھی ان سے زیادہ گفتگو کو طول نہیں دیا۔ وہ ایک لمحے کو میرے پاس رکتے، دوسرے ہی لمحے کسی آنے والے مہمان کی طرف متوجہ ہوجاتے۔ ظاہر ہے، اس وقت ان کے ذمے محض دوستوں سے ملنا نہیں بلکہ دور دور سے آنے والے مہمانوں کی میزبانی بھی تھی۔اس مختصر سی ملاقات کے باوجود شاکر شفیع نے ایک طرف سے نوجوان شاعر ساگر سرفراز کو ہماری طرف متوجہ کیا۔
ساغر سرفراز کو کون نہیں جانتا! اردو اور کشمیری شاعری میں ان کا اپنا ایک منفرد لہجہ ہے۔ میں انہیں نئی نسل کے نمائندہ شعرا میں شمار کرتا ہوں۔ ان کی شاعری میں ایک ایسی تازگی اور انفرادی آواز محسوس ہوتی ہے جو انہیں اپنے ہم عصروں سے الگ کرتی ہے۔میں نے بارہا یہ محسوس کیا ہےکہ ساگر سرفراز ایسا شاعر ہے جب وہ شعر پڑھتے ہیں تو ان کے جسم کا انگ انگ شعر کی ترسیل میں حصہ لیتا ہے ۔بالخصوص جب معاصر صورتحال کی عکاسی کرنا مقصود ہو۔
ساگرسرفراز بڑے پیار سے ہماری طرف آئے، خیریت دریافت کی اور پھر ہمیں اپنے ساتھ پنڈال کی طرف لے گئے۔ پنڈال میں اہم شخصیات پہلے ہی اپنی اپنی نشستوں پر براجمان تھیں۔ ادیب، شاعر، دانش ور اور ادبی مرکز کمراز سے وابستہ دوست۔۔۔سب ایک جگہ جمع تھے اور یوں محسوس ہورہا تھا جیسے برسوں سے جاری ایک ادبی سفر کے مختلف پڑاؤ آج ایک ہی مقام پر اکٹھے ہوگئے ہوں۔(جاری)

Previous Post

PIB Srinagar Media Delegation Visits Dakshina Chitra Heritage Museum

Next Post

Kulgam Health Department Refutes Reports Of PHCs Closure Amid NHM Strike

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Next Post
Kulgam Health Department Refutes Reports Of PHCs Closure Amid NHM Strike

Kulgam Health Department Refutes Reports Of PHCs Closure Amid NHM Strike

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.