کریری، 14 ستمبر: کروہن کلچرل فورم کریری نے جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز اور لباب پبلیکیشنز کے اشتراک سے، ادبی مرکز کمراز کی سرپرستی میں اتوار کو گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول کریری میں ایک روزہ ادبی و ثقافتی تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب کی نظامت کروہن کلچرل فورم کے جنرل سیکریٹری سید شریف حسین قادری نے انجام دی۔
تقریب میں وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز ادیبوں، شاعروں، محققین، دانشوروں، مذہبی اسکالرز اور ادب سے دلچسپی رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ پروگرام میں دو اہم کشمیری کتابوں کی رونمائی، معروف صحافی، قلم کار اور مدیر ڈاکٹر سید جہانگیر بخاری کو اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازے جانے پر تہنیت اور نعتیہ مشاعرے کا اہتمام کیا گیا۔
تقریب کے پہلے اجلاس کی صدارت معروف اسلامی اسکالر مولانا شوکت حسین کینگ نے کی، جبکہ صدرِ مجلس میں معروف براڈکاسٹر سید بشارت بخاری، معروف قلم کار و محقق سید سعدالدین سعیدی، شاعر نورالدین ہوش، ادبی مرکز کمراز کے صدر محمد امین بٹ، کروہن کلچرل فورم کے صدر سید شمیم احمد شمیم اور گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول کریری کے پرنسپل شیخ عبدالرشید شامل تھے۔
اس موقع پر دو اہم کشمیری کتابوں ’’سیاح واولس منز‘‘ اور ’’کلیاتِ قدوس میر قدسی‘‘ کی باقاعدہ رونمائی عمل میں لائی گئی۔ ’’سیاح واولس منز‘‘ معروف کشمیری شاعر نورالدین ہوش کا شعری مجموعہ ہے، جبکہ ’’کلیاتِ قدوس میر قدسی‘‘ معروف قلم کار و محقق سید سعدالدین سعیدی کی اہم ادبی و تحقیقی کاوش ہے۔
مقررین نے دونوں تصانیف کو کشمیری ادب میں قابلِ قدر اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی ادبی اور تحقیقی کاوشیں نہ صرف موجودہ ادبی منظرنامے کو وسعت دیتی ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی قیمتی علمی و ادبی سرمایہ فراہم کرتی ہیں۔
مقررین نے کشمیری زبان کے تحفظ، فروغ اور ترقی کے لیے مسلسل ادبی و تحقیقی سرگرمیوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نئی کتابوں کی اشاعت، ادبی نشستوں کا انعقاد اور نوجوان قلم کاروں کی حوصلہ افزائی زبان و ادب کے روشن مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔
تقریب کے آغاز میں معروف صحافی، قلم کار اور مدیر ڈاکٹر سید جہانگیر بخاری کو صحافت، ادب اور سماجی خدمات کے شعبوں میں ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازے جانے پر خصوصی طور پر تہنیت پیش کی گئی۔ مقررین نے ان کی طویل صحافتی وابستگی اور ادبی و ثقافتی سرگرمیوں میں ان کے کردار کو سراہتے ہوئے کشمیر میں ادبی و ثقافتی اقدامات کے فروغ کے لیے ان کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
دوسرے اجلاس کی صدارت معروف براڈکاسٹر سید بشارت بخاری نے کی، جبکہ صدرِ مجلس میں ادبی مرکز کمراز کی سیکریٹری شبنم تلگامی، سید غلام محی الدین اندرابی، سید سعدالدین سعیدی اور غلام محی الدین وانی شامل تھے۔
اس اجلاس میں کشمیری زبان و ادب کی موجودہ صورتِ حال، ادبی اداروں کے کردار و ذمہ داریوں اور نئی نسل کو اپنی زبان، تہذیبی روایات اور ثقافتی ورثے سے جوڑنے کی ضرورت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ مقررین نے کہا کہ کشمیر صدیوں پر محیط ایک شاندار ادبی روایت کا امین ہے اور اس ورثے کے تحفظ اور استحکام کے لیے کتابوں کی اشاعت، ادبی اجتماعات، مشاعروں، تحقیقی نشستوں اور نوجوان قلم کاروں کی سرپرستی کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔
مقررین نے کروہن کلچرل فورم کی جانب سے مسلسل ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات نچلی سطح پر کشمیری زبان و ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
تقریب کا اختتام ایک پُروقار نعتیہ مشاعرے پر ہوا، جس میں وادی کے معروف شعراء نے حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شانِ اقدس میں عقیدت کے پھول نچھاور کیے۔ شعراء نے اپنے پُرسوز کلام کے ذریعے عشقِ رسول ﷺ، محبت، رحمت، امن اور اسلامی اقدار کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ سامعین نے انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ نعتیہ کلام سماعت کیا اور شعراء کو بھرپور داد و تحسین سے نوازا۔
آخر میں منتظمین نے تمام مہمانوں، ادیبوں، شعراء، محققین اور ادب دوست افراد کا تقریب میں شرکت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ کروہن کلچرل فورم کشمیری زبان و ادب، ثقافت اور علمی و فکری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اپنی کاوشیں آئندہ بھی جاری رکھے گا

