• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Thursday, September 17, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (قسط : 4)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
September 17, 2026
in اردو خبریں
A A
ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (قسط : 4)
FacebookTwitterWhatsapp

بارش اب تھم چکی تھی اور اسلم سادناری کی آواز میں بھی جیسے مزید جوش بڑھ گیا تھا۔ آہستہ آہستہ لوگ پنڈال کی طرف سے رخ کررہے تھے اور ادبی مرکز کمراز کے کارکن اپنی مخصوص خوش دلی کے ساتھ مہمانوں کو خوش آمدید کہنے میں مصروف تھے۔ فضا میں اب بارش کی نمی کے بجائے ایک خوش گوار سی تازگی تھی۔ سب کی نظریں ان اہم مہمانوں کی آمد کی منتظر تھیں جو افتتاحی اجلاس میں شرکت کرنے والے تھے۔
ابھی پہلی صف کے درمیان میں رکھا ہوا صوفہ خالی ہی تھا کہ اچانک ڈاکٹر حفیظ مسعودی صاحب کی آمد ہوئی۔ ان کے آتے ہی جیسے پہلی صف کی رونق میں ایک اور اضافہ ہوگیا۔ چند شناسا چہروں نے آگے بڑھ کر ان سے سلام دعا کی اور مرکز کے کارکنوں نے حسبِ روایت ان کی خاطر تواضع بھی گرم گرم قہوے سے کی۔ مسعودی صاحب ابھی اپنی نشست سنبھال ہی رہے تھے کہ ادھر سے پروفیسر مجروح رشید بھی اپنے ریسرچ اسکالر ڈاکٹر عادل محی الدین کے ہمراہ آ پہنچے اور حفیظ مسعودی صاحب کے ساتھ ہی نشست اختیار کرلی۔
یوں پہلی صف میں چند ہی لمحوں میں ایک ایسی مجلس بن گئی جس میں ادب، تحقیق اور پرانی شناسائی ,تینوں ایک ساتھ سمٹ آئے تھے۔ میں نے بھی موقع غنیمت جان کر سلام دعا کے لیے مجروح صاحب کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ انہوں نے حسبِ معمول بڑی خندہ پیشانی سے میرے سلام کا جواب دیا، مگر رسمی خیریت دریافت کرنے سے پہلے ہی اپنی مخصوص بے تکلفی کے ساتھ مجھ سے شکوہ کردیا:
“میری مطلوبہ کتاب کہاں ہے؟”
ان کے اس اچانک سوال پر مجھے بھی مسکرانا پڑا۔ ملاقات ابھی شروع ہی ہوئی تھی اور مجروح صاحب نے یاد دلادیا کہ ادبی دنیا میں بعض وعدے صرف وعدے نہیں ہوتے، انہیں یاد بھی رکھا جاتا ہے اور وقتاً فوقتاً ان کا حساب بھی لیا جاتا ہے!
اب سورج بادلوں سے نکل آیا تھا اور موسم بھی نسبتاً خوش گوار محسوس ہورہا تھا۔ پنڈال کے اردگرد بیٹھے سامعین کشمیری موسیقی سے لطف اندوز ہورہے تھے اور یوں محسوس ہورہا تھا کہ بارش کے بعد موسم نے بھی اس ادبی اجتماع کے رنگ میں خود کو ڈھال لیا ہے۔میں نے ایک بار پھر ادھر اُدھر نظر دوڑائی۔ میری پشت کی تیسری صف میں ایک شناسا شخصیت بڑی خاموشی کے ساتھ بیٹھی ہوئی نظر آئی۔فرحت و انبساط کے ساتھ میں اپنی نشست سے اٹھا اور ان کے قریب جاپہنچا۔ نہایت ادب سے سلام کیا اور صحت و عافیت دریافت کی۔ موصوف نے بڑی آہستگی سے جواب دیا:
“آج کل صحت کچھ ٹھیک نہیں رہتی۔”
میں نے کچھ دیرتوقف کیا اور پھرپوچھا:
“آج کل آپ کس موضوع پر کام کررہے ہیں؟”
انہوں نے اسی دھیمے لہجے میں بتایا:
“فیاض تلگامی کا رثائی ادب مرتب کررہا ہوں۔”
یہ سنتے ہی میرے ذہن میں عرفان ترابی صاحب کی پوری ادبی شخصیت ایک دم سے ابھر آئی۔یہاں میں اپنے قاری کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں کہ عرفان ترابی محض ایک شخص کا نام نہیں، بلکہ اپنے آپ میں ایک انجمن ہیں۔ انہوں نے رثائی ادب کی خدمت جس لگن، محنت اور خاموش استقامت سے کی ہے، وہ اپنی جگہ ایک پورا ادبی باب ہے۔ انہوں نے رثائی ورثے کو محض پڑھا نہیں، اسے تلاش کیا، چھانا، مرتب کیا اور آنے والی نسلوں تک پہنچانے کی مسلسل کوشش کی۔پینتیس کتابوں کی تدوین کوئی آسان کام نہیں۔ خصوصاً اس وقت جب موضوع رثائی سرمایہ ہو اور مرتب کرنے والے کو مختلف نسخوں، متون، حوالوں اور ادبی روایت کے پیچیدہ مسائل سے بھی گزرنا پڑے۔ اور اگر بات غیرمسلم شعرا کے اس کلام تک پہنچ جائے جس میں واقعۂ کربلا کی منظرکشی اور مرثیہ نگاری شامل ہو تو ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
ترابی صاحب کی اصل اہمیت شاید یہی ہے کہ وہ اپنے لیے نہیں، بلکہ آنے والی نسل کے لے کام کرتے ہیں ایسے لوگ عموماً شور نہیں کرتے؛ خاموشی سے کتابیں ترتیب دیتے رہتے ہیں اور یوں رفتہ رفتہ ایک پورے عہد کے بکھرے ہوئے ادبی سرمائے کو محفوظ کرنے میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔
میں ان کے سامنے کھڑا یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ دل میں ایک سوال بھی پیدا ہوا۔آخر ایک آدمی اتنی کتابوں کے پیچھے اپنی زندگی کے کتنے برس صرف کردیتا ہے؟ کتنی راتیں، کتنے مسودے، کتنے غیر مطبوعہ صفحات اور کتنے گم شدہ حوالوں کے پیچھے بھاگتا ہے؟
شاید کسی ادبی کانفرنس میں ایسے ہی لمحوں میں احساس ہوتا ہے کہ ادب صرف وہ نہیں جو اسٹیج پر پڑھا یا سنا جارہا ہے۔ ادب کا ایک بڑا حصہ ان خاموش لوگوں کی محنت میں بھی زندہ رہتا ہے جو دوسروں کے بکھرے ہوئے لفظوں کو کتاب بنا کر ہمارے حوالے کرتے ہیں۔
ابھی میں عرفان ترابی صاحب سے گفتگو ہی کررہا تھا کہ شوکت صاحب نے اپنی نشست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مجھے واپس آنے کو کہا۔ مہمانوں کا رش اب بڑھتا جارہا تھا اور شاید انہیں یہ خدشہ تھا کہ کہیں میری خالی نشست پر کوئی اور نہ بیٹھ جائے۔ میں نے ان کے اشارے کو سمجھا اور واپس اپنی جگہ آکر بیٹھ گیا۔
دل ہی دل میں مسکرایا بھی اور سوچا بھی کہ یہی تو فائدہ ہوتا ہے جب آپ اپنے کسی محسن کے ساتھ سفر کررہے ہوں۔ آپ خود کسی نشست کی فکر میں ہوں نہ ہوں، وہ آپ کی نشست تک کی فکر اپنے ذمے لے لیتا ہے۔ ایسے تعلقات میں بعض اوقات بڑے بڑے جملوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ایک اشارہ ہی کافی ہوتا ہے کہ سامنے والا آپ کی موجودگی، آپ کی جگہ اور آپ کی عزت۔۔۔۔
تینوں کا خیال رکھتا ہے۔
ابھی ایک محقق سے گفتگو کرکے اپنی نشست کی طرف لوٹ ہی رہا تھا کہ دیکھا، میری دائیں طرف والی کرسی پر معروف ادیب و تاریخ نویس عبدالخالق شمس صاحب تشریف فرما ہیں۔ انہیں دیکھ کر خوشی ہوئی۔ خالق صاحب کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں، مگر ذاتی طور پر مجھے ہمیشہ ان کی تاریخ نویسی میں خاص دلچسپی رہی ہے۔
انہوں نے کشمیر کی قدیم تاریخ کے موضوع پر تقریباً ایک ہزار صفحات پر مشتمل ایک بڑا علمی کام انجام دیا ہے۔ ان کی تاریخ نویسی کا زاویۂ نظر اپنی نوعیت کا منفرد ہے۔ ان کے بعض نتائج سے اتفاق کیا جاسکتا ہے اور بعض سے اختلاف بھی ,لیکن علمی دنیا میں اتفاق اور اختلاف دونوں اپنی جگہ اہم ہیں۔ دراصل کسی علمی نظریے سے اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ اسے نظرانداز کردیا جائے۔ سنجیدہ علمی کام وہی ہوتا ہے جو سوال پیدا کرے، بحث کو آگے بڑھائے اور دوسروں کو سوچنے پر مجبور کرے۔ اس اعتبار سے خالق صاحب کا کام یقیناً توجہ کا مستحق ہے۔
خالق صاحب گزشتہ کئی ماہ سے آنکھوں کے علاج و معالجے سے گزر رہے ہیں۔ انہیں سامنے دیکھا تو رسمی ادبی گفتگو کے بجائے سب سے پہلے ان کی آنکھوں کے بارے میں دریافت کیا۔ میں نے پوچھا:
“آنکھیں اب کیسی ہیں؟ علاج سے کچھ افاقہ ہوا؟”
انہوں نے حسبِ معمول اطمینان اور شکر کے لہجے میں جواب دیا:
“اللہ کا شکر ہے، پہلے سے بہتر ہیں۔ علاج جاری ہے۔”
ان کے جواب میں بیماری کی شکایت کم اور شکر کا پہلو زیادہ تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ آدمی کی اصل طاقت شاید یہی ہے کہ مشکل حالات میں بھی وہ اپنی توجہ زندگی کی ان نعمتوں کی طرف رکھے جو ابھی اس کے پاس موجود ہیں۔
اور شاید یہ بات خالق صاحب جیسے تاریخ نویس کے لیے اور بھی معنی رکھتی ہے۔ جو شخص صدیوں پرانی تہذیب، تاریخ اور اپنے خطے کے ماضی کو تلاش کرنے میں عمر کا ایک بڑا حصہ صرف کررہا ہو، اس کے لیے حال کی چھوٹی چھوٹی مشکلات بھی شاید ایک وسیع تر تاریخی تناظر میں دیکھنے کی عادت بن جاتی ہیں۔(جاری)

Previous Post

BDO Kanjiluar Dr. Tarique Ahmad Padder Conducts Extensive Field Visit To Review VBG RAM G Works

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.