پینٹنگ ایگزیبیشن کا دورہ مکمل کرکے تمام معزز مہمان واپس پنڈال میں اپنی اپنی نشستوں پر آکر بیٹھ گئے۔ اب تک جو کرسیاں خالی خالی دکھائی دے رہی تھیں، وہ تقریباً بھر چکی تھیں۔ پنڈال کی فضا میں بھی اب پہلے جیسی بے تکلف گہماگہمی کے بجائے ایک خاص طرح کی سنجیدگی اور انتظار محسوس ہورہا تھا۔ ہر نگاہ اسٹیج کی طرف تھی، جیسے سب جانتے ہوں کہ اب محفل اپنے اصل مرحلے میں داخل ہونے والی ہے۔
اسی اثنا میں شفیع شاکر نے اپنے مخصوص انداز میں مائیک سنبھالا۔ چند لمحے پہلے تک جو شخص مہمانوں کی آمد و رفت اور انتظامی امور میں مصروف نظر آرہا تھا، اب وہ پوری یکسوئی کے ساتھ اسٹیج پر موجود تھا۔ انہوں نے پہلے معزز مہمانوں کو افتتاحی نشست کے لیے اسٹیج پر مدعو کیا۔
افتتاحی نشست کے لیے ایوانِ صدارت میں ریٹائرڈ جسٹس بشیر احمد کرمانی، ڈاکٹر حفیظ مسعودی، ڈاکٹر ستیش ومل، جناب منشور بانہالی اور ادبی مرکز کمراز کے صدر جناب محمد امین بٹ کو مدعو کیا گیا۔ ایک ایک کرکے جب یہ شخصیات اسٹیج پر آئیں تو پنڈال میں موجود اہلِ قلم اور سامعین نے گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا۔ یوں چند ہی لمحوں میں اسٹیج پر افتتاحی نشست کا ایوانِ صدارت تشکیل پاگیا اور پنڈال کی توجہ مکمل طور پر اسٹیج کی طرف مرکوز ہوگئی۔
ابھی معزز شخصیات اپنی نشستیں سنبھال ہی رہی تھیں کہ ادبی مرکز کمراز کا ریکارڈ شدہ ترانہ پیش کیا گیا۔ ترانے کی پہلی ہی لے کے ساتھ پنڈال میں پھیلی ہوئی گفتگو جیسے خود بخود تھم گئی۔ چند لمحے پہلے تک جو لوگ ایک دوسرے سے محوِ گفتگو تھے، اب پوری توجہ سے ترانے کی طرف متوجہ ہوگئے۔
یہ ترانہ معروف گلوکار جناب وحید جیلانی کی آواز میں ہے، جبکہ اس کے معنی خیز اور فکر انگیز بول پروفیسر مرغوب بانہالی نے تحریر کیے ہیں۔ ترانے کے الفاظ محض کسی ادارے کی رسمی تعریف یا تعارف تک محدود نہیں، بلکہ ان میں ادبی مرکز کمراز کے مقصد اور اس سے وابستہ ادبی جذبے کی ایک جھلک محسوس ہوتی ہے۔
جیسے جیسے وحید جیلانی کی آواز پنڈال میں پھیلتی گئی، ماحول پر ایک خاص کیفیت طاری ہوتی گئی۔ آواز میں ایک ایسی گونج تھی جو الفاظ کو محض سنائی نہیں دیتی تھی بلکہ انہیں محسوس بھی کراتی تھی۔ میرے ساتھ بیٹھے شوکت صاحب خاص طور پر وحید جیلانی کی آواز سے متاثر دکھائی دے رہے تھے۔ وہ کچھ دیر خاموشی سے سنتے رہے، پھر میری طرف جھک کر آہستہ سے بولے:
“سالک! وحید جیلانی کی آواز میں عجیب بات ہے۔ آواز صرف کانوں تک نہیں پہنچتی،بلکہ دل تک اترتی ہے۔”
میں نے مسکراتے ہوئے کہا:
” مرغوب بانہالی کے الفاظ بھی کم معنی خیز نہیں ہیں۔”
شوکت صاحب نے فوراً میری بات کی تائید کی:
“بالکل! اچھا ترانہ صرف اچھی آواز سے نہیں بنتا، لفظ اور آواز جب ایک دوسرے میں گھل جائیں تب بات بنتی ہے۔”
ان کی یہ بات مجھے خاصی وزنی لگی۔ واقعی، یہاں الفاظ پروفیسر مرغوب بانہالی کے تھے، آواز وحید جیلانی کی تھی، مگر دونوں کے امتزاج سے جو چیز سامنے آرہی تھی وہ ادبی مرکز کمراز کی ایک اجتماعی شناخت بن چکی تھی۔
اسی دوران میری نظر اسٹیج کے سامنے ایک کونے میں لگے ہوئے ایک بڑے سے ہورڈنگ پر پڑی۔ اس پر پروفیسر شاد رمضان کا تحریر کردہ کشمیری زبان کا ترانہ درج تھا۔ ہلکی ہوا چل رہی تھی اور ہورڈنگ بار بار لہرا رہا تھا۔
میں نے شوکت صاحب کو اس طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا:
“دیکھیے شوکت صاحب، ایک طرف کمراز کا ترانہ وحید جیلانی کی آواز میں بج رہا ہے اور دوسری طرف شاد صاحب کا کشمیری ترانہ ہوا میں لہرا رہا ہے۔”
شوکت صاحب نے چند لمحے اس ہورڈنگ کو دیکھا، پھر مسکراتے ہوئے بولے:
“یہ بھی خوب اتفاق ہے سالک! ایک ترانہ آواز بن کر فضا میں پھیل رہا ہے اور دوسرا ہوا کے ساتھ لہرا رہا ہے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ زندہ ہیں۔”
مجھے ان کا یہ جملہ بہت خوب صورت لگا۔
واقعی، ایک طرف آواز تھی جو سماعت کے راستے دل تک پہنچ رہی تھی، دوسری طرف الفاظ تھے جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوا کے ساتھ جنبش کررہے تھے۔ یوں محسوس ہوا جیسے اس ایک لمحے میں آواز اور لفظ، سماعت اور بصارت ایک دوسرے سے مکالمہ کررہے ہوں۔
ویسے شاد رمضان صاحب کی شخصیت کا بھی کیا کہنا! دل سے سوچنے والے آدمی ہیں۔ ان کی گفتگو اور طرزِ عمل میں ایک ایسی فکری بے قراری محسوس ہوتی ہے جو انہیں مسلسل کچھ نیا کرنے، سوچنے اور دوسروں تک پہنچانے پر آمادہ رکھتی ہے۔ جب سے انہوں نے ساہتیہ اکادمی کے کنوینر کی ذمہ داری سنبھالی ہے، ان کی موجودگی ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں خاصی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔چاہے کوئی سیمینار ہو، ادبی نشست ہو یا سوشل میڈیا پر ادب سے متعلق کوئی سرگرمی، شاد صاحب کسی نہ کسی صورت میں متحرک نظر آتے ہیں۔ ان کی یہ فعالیت محض منصب کی مصروفیت محسوس نہیں ہوتی، بلکہ اس کے پیچھے ادب اور زبان کے ساتھ ایک ذاتی وابستگی بھی دکھائی دیتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ جہاں موجود ہوں، وہاں کسی نہ کسی فکری یا ادبی سرگرمی کی ہلکی سی جنبش ضرور محسوس ہوتی ہے۔
شوکت صاحب نے ہورڈنگ کی طرف دیکھتے ہوئے آہستہ سے کہا:
“سالک، زبانیں بھی عجیب چیز ہیں۔ ایک ہی جگہ پر دو ترانے کھڑے ہیں…ایک آواز بن کر سنائی دے رہا ہے اور دوسرا لفظ بن کر آنکھوں کے سامنے دکھائی دے رہا ہے۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ دونوں کے پیچھے اپنی زبان سے محبت کا جذبہ موجود ہے۔ زبان زندہ رہے تو ترانے بھی زندہ رہتے ہیں، اور ترانوں کے ساتھ وہ احساس بھی زندہ رہتا ہے جس نے انہیں جنم دیا ہے۔”
ان کا یہ جملہ سن کر میں کچھ دیر خاموش رہا۔ مجھے لگا کہ شاید وہ اس پورے منظر کا خلاصہ ایک ہی جملے میں کر گئے تھے۔(جاری)

