• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Wednesday, September 23, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس ( 10)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
September 22, 2026
in اردو خبریں
A A
ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس ( 10)
FacebookTwitterWhatsapp

پنڈال کے باہر ابھی میں محو گفتگو ہی تھا کہ شوکت شفیع صاحب نے آہستہ سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور حاجن بازار کی طرف چلنے کا اشارہ کیا۔ غالباً ان کے ذہن میں یہ تھا کہ پنڈال میں مسلسل بیٹھنے کے بجائے بازار کا ایک چکر بھی لگایا جائے اور کچھ مناسب سا کھا لیا جائے۔ ہم پنڈال سے باہر نکلے تو ادھر اُدھر نظر دوڑائی، مگر قریب کوئی خاص کھانے پینے کی دکان دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ البتہ کچھ ہی فاصلے پر ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ نظر آیا، جہاں چند لوگ بیٹھے ہلکا پھلکا کھانے میں مصروف تھے۔
ہم نے بھی وہیں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔
اندر پہنچے تو سب سے پہلے نظر جناب عنایت گل پر پڑی، جو اطمینان سے چائے کی چسکیاں لے رہے تھے۔ ہم بھی ان کے پاس جا بیٹھے۔ شوکت صاحب نے حسبِ معمول اپنے مخصوص انداز میں کافی کا آرڈر دیا اور ساتھ کچھ اسنیکس بھی منگوا لیے۔
ابھی کافی کا انتظار ہی تھا کہ عنایت گل نے کانفرنس کے موضوع کو زیرِ بحث لاتے ہوئے شیخ العالم کے کچھ اشعار سنانا شروع کردیے۔ایسا محسوس ہورہا تھا کہ پنڈال کی رسمی گفتگو سے نکل کر یہاں ایک بے تکلف ادبی نشست جمنے والی ہے لیکن تبھی عنایت گل کے فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف سے شاید انہیں جلدی کرنے کے لیے کہا جارہا تھا۔فون بند کرتے ہی عنایت گل نے مسکراتے ہوئے کہا کہ انہیں جلدی کرنا ہوگی، کیونکہ انہیں پینل ڈسکشن میں حصہ لینا ہے۔
ہم ابھی کافی اور اس کے ساتھ منگوائے گئے اسنیکس کا لطف لے ہی رہے تھے کہ میرے ایک پرخلوص دوست عادل اسماعیل،جنہیں میں اکثر کیمپوٹر کیمپوزینگ کا چمپئین کہتا ہوں ، ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے۔ مجھے دیکھتے ہی گرم جوشی کے ساتھ مصافحہ کیا۔ ابھی رسمی سلام دعا مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے ہماری کافی اور اسنیکس کا بل بھی ادا کردیا۔
شوکت صاحب نے حسبِ عادت انہیں روکنے کی کوشش کی:
’’ارے نہیں، رہنے دیجیے!‘‘
لیکن عادل اسماعیل کہاں ماننے والے تھے۔ میں نے موقع غنیمت جانتے ہوئے شوکت صاحب کی طرف دیکھا اور قدرے شرارتی انداز میں کہا:
’’شوکت صاحب! مریدوں کی بھی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو اپنے پیر کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے ہیں، اور دوسرے وہ جن کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ پیر کو کھلائیں!‘‘
میری بات سنتے ہی شوکت صاحب بے اختیار مسکرانے لگے۔ پھر میری طرف دیکھ کر بولے:
’’سالک! تم ہر چیز کو حلال بنانے کے گر سے خوب واقف ہو!‘‘
ان کے اس برجستہ جملے پر ہم سب ہنس پڑے۔ چند لمحوں کے لیے کانفرنس کی سنجیدگی، مقالوں کی طوالت اور پروگرام کی مصروفیت سب پیچھے رہ گئی تھی۔مجھے کہاں معلوم تھا کہ حاجن کے ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں کافی کے چند چسکیوں کے ساتھ یہ مختصر سی بے تکلف محفل شاید اس دن کی سب سے خوش گوار یادوں میں شامل ہونے والی تھی۔
ریسٹورنٹ سے واپسی کے بعد ہم سیدھے پنڈال میں داخل ہوءے ۔جہاں ڈاکٹر ستیش ومل کے کلیدی خطبے کے اختتام کے بعد افتتاحی نشست اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہوگئی تھی ۔ ایوانِ صدارت کے معزز ارکان جناب گلزار احمد پرے کے مرتب کردہ قرآنِ مجید کے تیس پاروں کے کشمیری ترجمے کی رسمِ رونمائی انجام دے رہے تھے ۔ اس موقع پر پنڈال میں ایک خاص سنجیدگی محسوس ہورہی تھی۔ رسمِ رونمائی کے فوراً بعد ادبی مرکز کمراز کی جانب سے جناب گلزار احمد پرے کو یادگاری تمغہ پیش کیا گیا اور ان کی دستار بندی بھی کی گئی۔
اس کے بعد مرکز کے جنرل سیکریٹری جناب شبنم تلگامی نے سالانہ رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں مرکز کی گزشتہ ایک سال کے دوران انجام دی جانے والی ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کا احاطہ کیا گیا تھا۔ شبنم تلگامی ادبی مرکز کمراز کے جنرل سیکریٹری ہونے کے ساتھ ساتھ ایک صاحبِ علم اور فعال ادبی شخصیت بھی ہیں۔ حال ہی میں انہیں رابندر ناتھ ٹیگور کی شہرۂ آفاق کتاب ’’گیتانجلی‘‘ کے کشمیری ترجمے پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ ادبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تنظیمی امور کو خوش اسلوبی سے انجام دینے میں بھی انہیں خاص مہارت حاصل ہے، اور ادبی مرکز کمراز کی سرگرمیوں کو منظم انداز میں آگے بڑھانے میں ان کا کردار نمایاں ہے۔
جوں ہی شبنم تلگامی نے سالانہ رپورٹ مکمل کی، شاکر شفیع نے ایوانِ صدارت میں تشریف فرما مقتدر شخصیات سے گزارش کی کہ اب ادبی مرکز کمراز کے ترجمان رسالے ’’پرو‘‘ کے خصوصی شمارے ’’جشنِ زریں نمبر‘‘ کی رسمِ رونمائی بھی انجام دی جائے گی۔
اس اعلان کے ساتھ ہی ایوانِ صدارت میں موجود معزز شخصیات اپنی نشستوں سے کھڑی ہوگئیں اور نہایت باوقار انداز میں ’’پرو‘‘ کے خصوصی شمارے کی رسمِ رونمائی انجام دی گئی۔ اس موقع پر شاکر شفیع نے برملا اس بات کا اعتراف کیا کہ اگر ڈاکٹر جہانگیر بخاری کا دستِ تعاون شاملِ حال نہ ہوتا تو شاید ’’پرو‘‘ کا یہ خصوصی شمارہ اس شان کے ساتھ منظرِ عام پر نہ آتا۔
ڈاکٹر جہانگیر بخاری کا نام سنتے ہی مجھے انگریزی کا معروف محاورہ ’’Like father, like son‘‘ یاد آگیا۔ یعنی جناب سعدالدین سعدی کے صاحبزادے ڈاکٹر جہانگیر بخاری بھی اپنے والد کی ادبی اور علمی روایت کو آگے بڑھانے میں کسی سے پیچھے نہیں۔
یہاں ایک بات کا ذکر بھی بے جا نہ ہوگا کہ ڈاکٹر جہانگیر بخاری کا “لباب پبلکیشنز” کے نام سے ایک پرنٹنگ پریس بھی ہے ،جہاں سے ان کا انگریزی اخبار “Headline Today‘‘شائع ہوتا ہے ۔اسی اخبار کاہفتہ وار ضمیمہ ’’LitStream‘‘ قلیل عرصے میں ہی علمی و ادبی حلقوں میں کافی سراہا جانے لگا ہے ۔اس ہفتہ وار ضمیمے کی ادارت نوجوان ادیب ڈاکٹر بشارت احمد خان (ہندوارہ) کے سپرد ہے، جن کی ذاتی دلچسپی اور مسلسل کاوشوں کے باعث ’’LitStream‘‘ نے قارئین کا ایک وسیع حلقہ پیدا کیا ہے۔بہرحال، یہ باتیں اصل موضوع سے ذرا ہٹ کر سہی، مگر ’’پرو‘‘ کے اس جشنِ زریں نمبر کی رسمِ رونمائی کے موقع پر برسبیلِ تذکرہ ذہن میں آگئیں۔
اس کے بعد ایوانِ صدارت نے پروفیسر اعجاز محمد شیخ کو کشمیری زبان کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں ’’خلعتِ حنفی سوپوری 2026‘‘ ایوارڈ سے نوازا۔ ایوارڈ وصول کرنے کے بعد اپنے تاثرات میں پروفیسر اعجاز محمد شیخ نے ادبی مرکز کمراز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:
’’یہ اطمینان کی بات ہے کہ ابھی ہمارے سماج میں اچھے کام کو پرکھنے اور اس کی قدر کرنے والے لوگ موجود ہیں۔‘‘
کشمیری زبان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ زبان ہمیں ماں کے دودھ کے ساتھ ملی ہے، اس لیے اس زبان کی قدر کرنا اور اس کی خدمت کرنا ہمارا اولین فرض ہے۔
ان کے اس مختصر مگر معنی خیز جملے میں زبان سے تعلق کی وہ شدت محسوس ہوتی تھی جو کسی رسمی تقریر کا حصہ نہیں بلکہ ایک داخلی احساس سے پیدا ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے ان کی گفتگو نے افتتاحی نشست کے مرکزی موضوع سے بھی ایک فطری رشتہ قائم کرلیا تھا۔
اس کے بعد مرکز کے سرپرست ڈاکٹر رفیق مسعودی کی بھی مرکز کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں دستار بندی اور عزت افزائی کی گئی۔ یوں ادبی مرکز کمراز نے ایک طرف اپنی ادبی روایت کے بزرگوں کو خراجِ تحسین پیش کیا تو دوسری طرف ان لوگوں کی خدمات کو بھی یاد رکھا جنہوں نے اس روایت کو آگے بڑھانے میں اپنا حصہ ڈالا۔(جاری)

Previous Post

PCCF felicitates School Children for Forest Photography Competition

Next Post

Multiple ICDS Officer Posts Vacant In Kupwara, Residents Face Difficulties

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Next Post
Multiple ICDS Officer Posts Vacant In Kupwara, Residents Face Difficulties

Multiple ICDS Officer Posts Vacant In Kupwara, Residents Face Difficulties

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.