نکاح اسلام کے نزدیک محض ایک سماجی رسم نہیں بلکہ ایک مقدس عہد، عبادت اور سنتِ نبوی ﷺ ہے۔ اسلام نے جہاں نکاح کو حلال رشتے کی بنیاد بنایا، وہیں اسے آسان رکھنے کی ترغیب بھی دی تاکہ معاشرے میں پاکیزہ خاندانی نظام قائم ہو اور نکاح کسی غریب یا متوسط طبقے کے لیے ناقابلِ حصول بوجھ نہ بن جائے۔
لیکن افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں نکاح کی سادگی کہیں پیچھے رہ گئی ہے اور اس کے گرد نمود و نمائش، غیر ضروری اخراجات اور سماجی مقابلے کا ایک ایسا ماحول پیدا ہوگیا ہے جس کا سب سے زیادہ بوجھ معاشرے کے کم آمدنی والے طبقے کو اٹھانا پڑتا ہے۔
گزشتہ روز میں نے ایک سیاسی شخصیت کے نکاح کی ایک ویڈیو دیکھی۔ نکاح ایک معروف عالمِ دین پڑھا رہے تھے۔ نکاح کے دوران حق مہر کی رقم کا اعلان ہوا جو غالباً 25 لاکھ روپے بتائی گئی۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اگر کسی شخص کی مالی حیثیت ایسی ہو کہ وہ اپنی اہلیہ کو اتنا حق مہر دے سکتا ہو، اور یہ باہمی رضامندی سے طے ہوا ہو، تو محض رقم زیادہ ہونے کی بنیاد پر اسے ناجائز قرار دینا درست نہیں۔ قرآنِ کریم نے عورت کے مہر کو اس کا حق قرار دیا ہے اور اسے خوش دلی سے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اصل سوال رقم کے جائز یا ناجائز ہونے کا نہیں، بلکہ اس کے سماجی اثرات کا ہے۔
کیا ہر جائز چیز کو معاشرے کے سامنے اس انداز میں پیش کرنا بھی ضروری ہے کہ وہ ایک معیار بن جائے؟
یہ سوال صرف کسی ایک شادی یا کسی ایک شخصیت کے بارے میں نہیں۔ یہ ہمارے پورے معاشرتی رویے کا سوال ہے۔آج ایک متوسط طبقے کا والد اپنی بیٹی کے نکاح کے لیے سالہا سال بچت کرتا ہے۔ ایک غریب شخص کے لیے بیٹی کا نکاح پہلے ہی ایک بڑا معاشی مرحلہ ہوتا ہے۔ ایسے میں جب معاشرے میں بڑی بڑی شادیوں، مہنگے ملبوسات، بھاری جہیز، پرتعیش دعوتوں اور لاکھوں کے حقِ مہر کو نمایاں انداز میں پیش کیا جاتا ہے تو غیر محسوس طور پر ایک مقابلے کی فضا پیدا ہوتی ہے۔
پھر سوال اٹھتا ہے:
“فلاں نے اتنا مہر دیا، ہم اپنی بیٹی کو اس سے کم کیسے دیں؟
فلاں کی شادی اتنی بڑی ہوئی، ہماری شادی سادہ کیسے ہو؟
یہیں سے نکاح جو آسانی کا ذریعہ ہونا چاہیے تھا، معاشرتی دباؤ کا سبب بننے لگتا ہے۔
اسلام نے عورت کو حقِ مہر کا حق دیا ہے۔ یہ شوہر کی طرف سے بیوی کا شرعی حق ہے، کوئی دکھاوے کی چیز نہیں۔ قرآن مجید میں واضح حکم ہے کہ عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے دیے جائیں۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے واقعات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مہر کو صرف دولت مند لوگوں کے لیے مخصوص نہیں کیا گیا۔ ایک شخص کے پاس مال نہ تھا تو نبی کریم ﷺ نے اس سے مہر کے بارے میں پوچھا اور حتیٰ کہ لوہے کی انگوٹھی تک تلاش کرنے کا فرمایا؛ بالآخر اس کے قرآن کے علم کو بنیاد بنا کر نکاح کرایا گیا۔ یہ واقعہ ہمیں ایک بہت بڑا سبق دیتا ہے کہ نکاح کی بنیاد مالی نمائش نہیں بلکہ حلال رشتہ، رضامندی، ذمہ داری اور دین ہے۔اسی لیے ہمیں حقِ مہر کے معاملے میں دو انتہاؤں سے بچنا چاہیے۔
ایک طرف وہ لوگ ہیں جو عورت کا شرعی حق ادا کرنے میں بخل کرتے ہیں، جو غلط ہے۔دوسری طرف یہ رویہ بھی قابلِ غور ہے کہ مہر کی بڑی بڑی رقوم کو سماجی حیثیت اور شان و شوکت کی علامت بنا دیا جائے۔
یہاں ہمارے علمائے کرام کے لیے بھی ایک اہم سوال ہے۔
عالمِ دین صرف نکاح پڑھانے والا شخص نہیں ہوتا؛ وہ معاشرے کا رہنما بھی ہوتا ہے۔ جب کسی بڑے اجتماع، معروف شخصیت یا عوامی تقریب میں نکاح پڑھایا جا رہا ہو تو وہاں موجود ہر بات لوگوں کے لیے ایک پیغام بن سکتی ہے۔اگر کوئی صاحبِ حیثیت شخص اپنی بیٹی یا بیوی کے لیے زیادہ مہر مقرر کرتا ہے تو یہ اس کا ذاتی معاملہ ہوسکتا ہے، لیکن کیا اسے عوامی نمائش کا حصہ بنانا ضروری ہے؟
کیا نکاح کے موقع پر یہ پیغام زیادہ مؤثر نہیں ہوگا کہ:
“نکاح کو آسان بنائیں، فضول رسومات ختم کریں، جہیز کے مطالبات سے بچیں، اور عورت کے شرعی حقوق پورے کریں؟
ہمارے علماء اگر نکاح کی مجالس میں چند منٹ اس موضوع پر بات کریں کہ معاشرے میں غریب والدین پر شادیوں کا بوجھ کیسے کم کیا جائے تو شاید اس کا اثر کسی بڑی تقریر سے زیادہ ہو۔
سیاسی اور سماجی شخصیات کا معاملہ اس اعتبار سے مزید حساس ہے کہ ان کی نجی تقریبات بھی عوامی توجہ حاصل کرتی ہیں۔اگر ایک عام شخص مہنگی شادی کرتا ہے تو شاید اس کا اثر محدود ہو، لیکن جب کوئی معروف شخصیت ایسا کرتی ہے تو اس کا طرزِ زندگی غیر محسوس طور پر دوسروں کے لیے ایک مثال بن جاتا ہے۔اسی لیے میری رائے میں صاحبِ حیثیت لوگوں کو اپنی خوشیوں میں ضرور شریک ہونا چاہیے، مگر اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ ان کی نجی خوشی معاشرے کے کمزور طبقے کے لیے احساسِ محرومی یا غیر ضروری مقابلے کا سبب نہ بن جائے۔
یہ تنقید کسی فرد کے خلاف نہیں بلکہ ایک معاشرتی رویے پر غور کی دعوت ہے۔
سادگی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی استطاعت کے مطابق خوشی بھی نہ منائے۔ اسلام نے حلال رزق، خوبصورت لباس، خوشی اور نکاح کی اجازت دی ہے۔لیکن سادگی کا مطلب یہ ہے کہ خوشی کو مقابلہ نہ بنایا جائے۔نکاح میں اصل اہمیت دو خاندانوں کے درمیان رشتے، میاں بیوی کی باہمی رضامندی، ذمہ داری، محبت اور مستقبل کی زندگی کی ہے۔ اگر شادی کا مقصد صرف یہ بن جائے کہ کون زیادہ خرچ کرتا ہے، کس کا ہال زیادہ شاندار ہے، کس کا لباس زیادہ مہنگا ہے اور کس کا مہر زیادہ ہے تو پھر ہم نکاح کی روح سے دور ہوتے جائیں گے۔ ہمیں ایک اجتماعی سوچ تبدیل کرنا ہوگی۔ہمیں نکاح کو کون کتنا خرچ کرسکتا ہے کے بجائے “کون اسے کتنا آسان بنا سکتا ہے” کا معاملہ بنانا ہوگا۔
کالم نگار: محمد حفیظ میر
Contact No:7006756956
