ڈاکٹر حفیظ مسعودی اپنی گفتگو مکمل کرکے ایوانِ صدارت سے رخصت ہوئے اور پنڈال کے قریب آکر اپنی انگریزی کتاب ’’Cricket in Conifers‘‘ پروفیسر مجروح رشید کو دیتے ہوئے کہا، ’’پروفیسر صاحب! کتاب ضرور پڑھیے گا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے ڈاکٹر حفیظ مسعودی نے ہاتھ لہراتے ہوئے پنڈال سے باہر کی راہ لی۔ یہ منظر بھی خاصا قابلِ دید تھا۔ادھر اسٹیج پر شاکر شفیع نے جناب منشور بانہالی کو اپنے تاثرات پیش کرنے کی دعوت دی۔
جناب منشور بانہالی نے سب سے پہلے ادبی مرکز کمراز کا شکریہ ادا کیا اور کانفرنس کے موضوع کی طرف آتے ہوئے کہا کہ کشمیری زبان میں عقیدتی ادب کا ایک بڑا اور گراں قدر ذخیرہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں تقریباً چار ہزار مذاہب اور مذہبی روایات پائی جاتی ہیں اور تقریباً ہر مذہبی روایت کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں عقیدتی ادب بھی وابستہ ہے۔
ابھی منشور صاحب اپنی تقریر کی تمہید ہی باندھ رہے تھے کہ میرے پیچھے بیٹھے ایک فاضل دوست نے چہ میگوئیاں شروع کردیں کہ کیا واقعی دنیا میں چار ہزار مذاہب ہیں؟ ان کی یہ بات میرے کانوں میں پڑی تو میرے ذہن میں بھی فوراً ایک سوال پیدا ہوا۔ میں نے سوچا کہ آخر یہ تعداد کہاں تک درست ہے؟ چنانچہ میں نے وہیں بیٹھے بیٹھے فوراً گوگل میں سیرچ کیاکہ کیا منشور صاحب کی یہ بات درست ہے؟ جواب ملا:
’’دنیا میں چار ہزار مذاہب ہیں‘‘ کہنا بالکل بے بنیاد نہیں ہے، لیکن اسے حتمی اور قطعی تعداد کے طور پر بیان کرنا درست نہیں ہوگا۔ مذہبی مطالعات میں چار ہزار سے زیادہ مذاہب، مذہبی گروہوں، فرقوں اور روایات کی ایک مشہور تخمینی تعداد ملتی ہے۔ تاہم یہ تعداد اس بات پر منحصر ہے کہ ’’مذہب‘‘ کی تعریف کس طرح کی جاتی ہے اور مختلف فرقوں، مسالک اور مذہبی روایات کو الگ الگ شمار کیا جاتا ہے یا ایک ہی مذہب کے اندر رکھا جاتا ہے۔
گوگل انکل کا یہ جواب پڑھ کر مجھے قدرے اطمینان ہوا کہ منشور صاحب محض کوئی عدد فضا میں اچھال نہیں رہے تھے، بلکہ ان کی بات کے پیچھے ایک علمی بنیاد موجود تھی۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ یہی تو ایک صاحبِ علم کی خوبی ہوتی ہے کہ وہ بات صرف دعوے کے طور پر نہیں کرتا بلکہ اس کے پیچھے دلیل اور مطالعہ بھی موجود ہوتا ہے۔
لیکن اسی لمحے میرے ذہن میں ایک اور خیال بھی آیا۔ میں سوچنے لگا کہ دنیا واقعی کتنی بدل گئی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب کسی بات کی تصدیق کے لیے کتابیں کھنگالنی پڑتی تھیں، کسی صاحبِ علم سے رابطہ کرنا پڑتا تھا یا کئی دنوں تک جواب کا انتظار کرنا پڑتا تھا، اور آج صورتِ حال یہ ہے کہ ایک سوال ذہن میں آیا اور چند لمحوں میں اس کے ممکنہ جواب ہمارے سامنے موجود ہیں۔ ٹیکنالوجی نے معلومات تک رسائی کو واقعی ہماری انگلیوں کی جنبش تک محدود کردیا ہے۔ البتہ میں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ فوری جواب مل جانا اپنی جگہ، اس جواب کو پرکھنا اور اس کی صحت کا اطمینان کرنا اب بھی ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔
منشہور صاحب کی تقریر جاری تھی وہ ہندوستان کے مذہبی اور تہذیبی تنوع کا ذکر کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ یہاں ہندو مذہب، اسلام، بدھ مت، جین مت، سکھ مت اور عیسائیت سمیت مختلف مذاہب اور مذہبی روایات موجود ہیں، اس لیے ان مذاہب سے وابستہ عقیدتی ادب کا پایا جانا ایک فطری امر ہے۔ ان کے مطابق جہاں عقیدہ انسان کے باطن سے تعلق رکھتا ہے، وہاں اس کے اظہار کے لیے ادب ایک اہم وسیلہ بن جاتا ہے۔ مختلف مذاہب کے پیروکاروں نے اپنے روحانی تجربات، مذہبی جذبات اور عقیدے سے وابستہ کیفیات کو شعر و ادب کے ذریعے محفوظ کیا ہے۔
کشمیری زبان کے حوالے سے انہوں نے خاص طور پر لَل دید اور شیخ العالم کا ذکر کیا اور کہا کہ ان دونوں بزرگ شاعروں کا کلام عقیدتی ادب کے زمرے میں آتا ہے۔ تاہم ان کا یہ کلام محض عقیدتی ادب تک محدود نہیں رہتا بلکہ ادبِ عالیہ کے حصے میں بھی شمار ہوتا ہے۔ لَل دید اور شیخ العالم کی شاعری میں مذہبی عقیدے کے ساتھ ساتھ روحانی تجربہ، انسانی باطن کی جستجو اور زندگی کے بنیادی سوالات بھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہیں۔
منشور بانہالی کی گفتگو سنتے ہوئے مجھے یہ احساس ہوا کہ کشمیری زبان میں عقیدتی ادب کی روایت محض مذہبی جذبات کے اظہار تک محدود نہیں، بلکہ اس نے ہماری زبان کے ادبی اور تہذیبی سرمائے کو بھی وسعت دی ہے۔ صدیوں سے مختلف شعرا نے اپنے اپنے انداز میں عقیدے، روحانیت اور انسانی احساسات کو کشمیری زبان میں بیان کیا اور یوں اس زبان کے دامن میں عقیدتی ادب کا ایک وسیع ذخیرہ جمع ہوتا چلا گیا۔
اپنی گفتگو کے اختتام پر منشور بانہالی نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ کشمیری زبان میں عقیدتی ادب کا ایک بہت بڑا سرمایہ موجود ہے۔ ان کی یہ بات مجھے بھی خاصی اہم محسوس ہوئی کہ کسی زبان کی ادبی عظمت کا اندازہ صرف اس کے شعری اصناف یا ادبی موضوعات کی تعداد سے نہیں ہوتا، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس زبان نے انسانی زندگی کے مختلف روحانی، تہذیبی اور جذباتی تجربات کو کس حد تک اپنے اندر سمیٹا ہے۔ اس اعتبار سے کشمیری زبان کا عقیدتی ادب یقیناً ہماری ادبی روایت کا ایک اہم اور قابلِ فخر حصہ ہے۔ (جاری)

