بھارت کی ڈیجیٹل معیشت تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی سائبر فراڈ بھی بڑے پیمانے اور زیادہ پیچیدہ انداز میں بڑھ رہا ہے۔ جو خطرہ پہلے زیادہ تر اسپیم کالز اور فِشنگ پیغامات تک محدود تھا، اب فراڈ کے ایک وسیع تر نظام میں تبدیل ہو چکا ہے، جس میں جعل سازی، بینکنگ سے متعلق جعلی درخواستیں، بدنیتی پر مبنی لنکس، سرمایہ کاری کے فراڈ اور او ٹی پی سے منسلک مالی دھوکہ دہی شامل ہیں۔
حکومت اور صنعت کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خطرہ اب نہ صرف وسیع پیمانے پر پھیل چکا ہے بلکہ اس میں منظم انداز بھی بڑھ رہا ہے۔ انڈین سائبر کرائم کوآرڈی نیشن سینٹر (آئی فور سی) کے مطابق، گزشتہ چھ برسوں کے دوران بھارتی شہریوں کو سائبر فراڈ کے نتیجے میں 52,976 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ این سی آر بی کے اعداد و شمار بھی سائبر جرائم کے معاملات میں مسلسل اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں، جبکہ ملک بھر میں مجموعی جرائم کی سطح میں کمی آئی ہے۔
جیسے جیسے بینکنگ، ادائیگیوں، صحت، تجارت اور سرکاری خدمات سمیت روزمرہ زندگی میں ڈیجیٹل سہولیات کا استعمال بڑھ رہا ہے، ٹیلی کام نیٹ ورکس سے ڈیجیٹل تحفظ میں بھی بڑا کردار ادا کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ صارفین اب نیٹ ورکس سے صرف رابطے کی سہولت فراہم کرنے کی توقع نہیں رکھتے بلکہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ ڈیجیٹل مواصلات سے وابستہ خطرات کی نشاندہی کرکے انہیں کم کیا جائے۔
دو سال قبل ایئرٹیل نے صارفین کے تحفظ میں اس تبدیلی کا اندازہ لگاتے ہوئے پہل کی۔ 2024 میں ایئرٹیل نے بھارت میں کسی ٹیلی کام فراہم کنندہ کی جانب سے نیٹ ورک پر مبنی پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والا اسپیم شناختی نظام متعارف کرایا، جس میں نیٹ ورک انٹیلی جنس اور مصنوعی ذہانت کو یکجا کرکے صارفین کو اسپیم کالز اور ایس ایم ایس سے تحفظ فراہم کیا گیا۔
اس کے بعد سے ایئرٹیل نے گزشتہ دو برسوں کے دوران اپنے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے سیف نیٹ ورک اقدام کو وسعت دی ہے، جس کا مقصد نیٹ ورک کی سطح پر فراڈ کی روک تھام کے لیے ایک وسیع تر نظام تیار کرنا ہے۔ اس کا مقصد ایسے حفاظتی نظام تشکیل دینا ہے جو پسِ پردہ کام کریں اور صارفین کو اضافی ایپلی کیشنز انسٹال کرنے یا خطرات کی دستی طور پر اطلاع دینے کی ضرورت نہ پڑے۔
ایئرٹیل کا سیف نیٹ ورک اب نیٹ ورک پر مبنی ڈیجیٹل حفاظتی سہولیات کے ایک وسیع تر مجموعے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس کے اہم اجزا میں شامل ہیں:
او ٹی پی سے منسلک فراڈ سے تحفظ:ایئرٹیل نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایسا حفاظتی نظام متعارف کرایا ہے جو مشتبہ روابط کے دوران صارفین کو او ٹی پی یا دیگر حساس معلومات شیئر کرنے پر آمادہ کیے جانے کی صورت میں اس کی نشاندہی اور مداخلت کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
بدنیتی پر مبنی لنکس کی نشاندہی:او ٹی پی فراڈ کی شناخت کے نظام سے قبل ایئرٹیل نے جعلی ویب سائٹس اور مشتبہ لنکس کی حقیقی وقت میں نشاندہی کرنے والا نظام متعارف کرایا تھا۔ اس نظام کے نفاذ کے بعد سے کمپنی کے مطابق ایس ایم ایس، پیغام رسانی کی ایپلی کیشنز، ای میلز اور براؤزر ری ڈائریکٹس کے ذریعے شیئر کیے جانے والے 16.2 لاکھ سے زیادہ بدنیتی پر مبنی لنکس کو روکا جا چکا ہے۔ یہ سہولت تمام موبائل اور وائی فائی براڈ بینڈ صارفین کے لیے دستیاب ہے۔
اسپیم کالز اور پیغامات کی نشاندہی:ستمبر 2024 میں ایئرٹیل نے نیٹ ورک کی سطح پر مصنوعی ذہانت سے چلنے والا اسپیم شناختی نظام متعارف کرایا۔ کمپنی کے مطابق، اس کے بعد سے 98.4 ارب سے زیادہ اسپیم کالز اور 4.4 ارب اسپیم پیغامات کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔
ایئرٹیل نے کاروباری نام ظاہر کرنے کی سہولت بھی متعارف کرائی ہے، جس کے ذریعے صارفین تصدیق شدہ کاروباری اداروں کی کالز اور ممکنہ طور پر جعلی یا دھوکہ دہی پر مبنی نمبروں کے درمیان فرق کر سکتے ہیں۔ اس سے جعلی بینکنگ اور کسٹمر کیئر نمائندوں کے ذریعے ہونے والے جعل سازی کے خطرے کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ایئرٹیل کا سیف نیٹ ورک اقدام ٹیلی کام صنعت میں ہونے والی وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں نیٹ ورکس سے اب صرف رابطے کی سہولت فراہم کرنے کے بجائے بھارت کے تیزی سے پھیلتے ہوئے ڈیجیٹل نظام کو محفوظ بنانے میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی توقع کی جا رہی ہے

