ولانا شوکت حسین کینگ کی تقریر ختم ہوتے ہی میں پانی پینے کی غرض سے پنڈال سے باہر آیا ہی تھا کہ ایک نوجوان نے نہایت ادب و احترام کے ساتھ مجھے سلام کیا۔ نوجوان کے ہاتھوں میں دو موبائل فون تھے اور ان میں سے ایک فون مسلسل بج رہا تھا۔ لیکن میری موجودگی میں وہ بار بار بجنے والے فون کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ شاید میری وجہ سے فون نہیں اٹھا رہاہے ، تو میں نے خود ہی کہا، ’’برخوردار! فون اٹھاؤ، ہوسکتا ہے کسی کی کوئی مجبوری ہو۔‘‘
میری بات کا جواب دیتے ہوئے وہ مسکرایا اور بڑے سادگی سے کہنے لگا، ’’سر! یہ تو بجتا ہی رہتا ہے۔‘‘
اس کے اس بے ساختہ جواب پر مجھے بھی ہنسی آگئی۔ ہم دونوں قریب ہی ایک بینچ پر بیٹھ گئے۔ باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ یہ نوجوان پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ آن لائن میڈیا میں بھی اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور صحافت کے مختلف موضوعات پر گہری نظر رکھتا ہے۔ گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھا تو موجودہ دور کی صحافت، صحافتی اقدار، میڈیا کے بدلتے ہوئے منظرنامے اور اس سے جڑے کئی دیگر موضوعات زیرِ بحث آگئے۔جب میں نے موجودہ دور کی صحافت کے زوال پر اپنے خدشات کا اظہار کیا تو نوجوان نے بڑے اعتماد کے ساتھ جواب دیتے ہوئے کہا:
’’سر….. اس میں کوئی شک نہیں کہ غیر پیشہ ور لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے صحافت کے معیار کو بہت متاثر کیا ہے، لیکن ایک پیشہ ور صحافی ہمیشہ اپنے کام کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔‘‘
نوجوان بڑی سنجیدگی کے ساتھ اپنے مشاہدات بیان کر رہا تھا اور میں بڑے اطمینان سے اس کی باتیں سن رہا تھا۔ اس کی گفتگو میں مجھے محض ایک نوجوان کی بے تکلف باتیں ہی نہیں، بلکہ شعبۂ صحافت کے بارے میں ایک سنجیدہ سوچ اور اپنے پیشے کے مستقبل کے حوالے سے گہری فکرمندی بھی دکھائی دے رہی تھی۔ میں خاموشی سے اسے سنتا رہا اور اندر ہی اندر سوچتا رہا: ’’ہونہار بروا کے چکنے پات۔‘‘
درخت کے ابتدائی پتے ہی اگر اپنی خوب صورتی، شادابی اور تازگی سے اس کے مستقبل کی گواہی دینے لگیں تو اندازہ ہوجاتا ہے کہ آگے چل کر یہ درخت کس قدر تناور ہوگا۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ اگر یہ نوجوان اسی شوق، مطالعے اور سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو ان شاء اللہ بہت جلد صحافت کی دنیا میں اپنا ایک نمایاں مقام بنانے میں کامیاب ہوگا۔
ابھی ہماری گفتگو جاری ہی تھی کہ اچانک کسی نے دور سے اسے آواز دی، ’’فیضان قریشی! جلدی آؤ، جسٹس بشیر احمد کرمانی نے اپنی صدارتی تقریر شروع کردی ہے۔‘‘
یہ آواز سنتے ہی فیضان قریشی اٹھ کھڑا ہوا۔ ہم بینچ سے اٹھ کر پنڈال کی طرف چلنے ہی لگے تھے کہ جاتے جاتے فیضان قریشی نے اچانک میری طرف دیکھا اور کہا:
’’سر …کئی سال پہلے آپ ٹیگور ہال میں تقریر کررہے تھے۔ اس دوران آپ نے ایک شعر پڑھا تھا:
اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دیے میں جان ہوگی، وہ دیا رہ جائے گا۔
سر! آپ کا پڑھا ہوا یہ شعر آج بھی مجھے انسپائر کرتا ہے۔‘‘
فیضان کی یہ بات سن کر میں ایک لمحے کے لیے خاموش ہوگیا۔ مجھے خود بھی یاد نہیں تھا کہ برسوں پہلے ٹیگور ہال میں کہے گئے میرے الفاظ کسی نوجوان کے ذہن میں اس طرح محفوظ ہوں گے۔ مجھے محسوس ہوا کہ تقریر ختم ہوجاتی ہے، محفل ختم ہوجاتی ہے، لوگ اپنی اپنی راہوں پر چلے جاتے ہیں، لیکن بعض جملے اور بعض اشعار جانے انجانے میں کسی کے دل میں اپنا گھر بنا لیتے ہیں۔
جوں ہی ہم دونوں پنڈال میں داخل ہوئے، جسٹس بشیر احمد کرمانی اپنی صدارتی گفتگو شروع کرچکے تھے۔ انہوں نے سب سے پہلے ادبی مرکز کمراز کے زعما اور کارکنان کو مبارکباد پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ آج ادبی مرکز کمراز اپنی 47ویں سالانہ کانفرنس منعقد کررہا ہے، لیکن اس تنظیم کے قیام کو پچپن برس کا طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ ان کے نزدیک کسی ادبی تنظیم کا اتنے طویل عرصے تک قائم رہنا محض اتفاق نہیں بلکہ مشیتِ الٰہی بھی ہوسکتی ہے۔
جسٹس کرمانی نے ان لوگوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے اس تحریک کی بنیاد رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان بزرگوں کے پیشِ نظر کوئی ذاتی مفاد یا مقصد نہیں تھا۔ ان میں پروفیسر محی الدین حاجنی، پروفیسر رشید نازکی، پروفیسر مشعل سلطان پوری اور ان کے دیگر رفقا شامل تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں کشمیر کے گاؤں، دیہات اور شہروں میں لوگ صرف اس لیے بھی اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اپنے اپنے میدان میں ممتاز شخصیات تھے۔
جسٹس کرمانی کے مطابق اس تنظیم کی پائیداری کے پیچھے ان بزرگوں کی نیت کا اخلاص کارفرما تھا۔ انہوں نے اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل کرنے کے بجائے زبان و ادب کی خدمت کو اپنا مقصد بنایا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ادبی مرکز کمراز نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود آج بھی اپنی سرگرمیوں کے ساتھ زندہ ہے۔ انہوں نے نہایت واضح انداز میں کہا کہ جب تک اس تنظیم کے کارکنان اور وابستگان میں یہی خلوص باقی رہے گا، تب تک ادبی مرکز کمراز بھی زندہ اور متحرک رہے گا۔
اس کے بعد جسٹس کرمانی نے سامعین کے سامنے چند بنیادی سوالات رکھے۔ ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا کوئی زبان اس وقت تک زندہ رہ سکتی ہے جب تک اسے تمدنی اور تہذیبی سہارا حاصل نہ ہو؟ ان کا اشارہ کشمیر کی تاریخ اور یہاں کی تہذیبی تشکیل کی طرف تھا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پر مختلف ادوار میں باہر سے آنے والے حکمرانوں نے حکومت کی اور ہر دور نے یہاں اپنی تہذیب اور اپنے اثرات کے کچھ نہ کچھ نقوش چھوڑے۔ مگر آج ہمارے سامنے جو تمدنی اور تہذیبی منظرنامہ موجود ہے، اس میں اسلام اور اس کے ساتھ وابستہ تہذیبی اثرات کی ایک نمایاں حیثیت ہے۔
انہوں نے شاہِ ہمدان حضرت میر سید علی ہمدانی کی کشمیر آمد اور ان کے ذریعے اسلام کی فکر و تہذیب کے فروغ کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق شاہِ ہمدان اپنے ساتھ ایک ایسی فکری اور تہذیبی روایت لائے جس کے اثرات کشمیر کی اجتماعی زندگی پر مرتب ہوئے اور وقت کے ساتھ یہ اثرات ہماری تہذیب کا حصہ بنتے چلے گئے۔
جسٹس کرمانی کی گفتگو کا ایک جملہ مجھے خاص طور پر یاد رہ گیا۔ انہوں نے کہا کہ عقیدت کا تعلق ماضی سے ضرور ہے، لیکن اسے پاؤں کی زنجیر نہیں بننا چاہیے بلکہ مستقبل کی مشعل بننا چاہیے۔ مجھے ان کا یہ جملہ خاصا معنی خیز لگا۔ واقعی ماضی سے وابستگی اس وقت خوب صورت اور بامعنی ہوتی ہے جب وہ ہمیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دے۔ اگر ماضی ہماری راہ میں رکاوٹ بن جائے تو پھر وہ روایت نہیں رہتا، بوجھ بن جاتا ہے لیکن اگر یہی ماضی ہمارے لیے روشنی کا ذریعہ بن جائے تو آنے والے سفر کی سمت بھی متعین کرسکتا ہے۔
میں جسٹس کرمانی کی گفتگو سن رہا تھا اور محسوس کررہا تھا کہ وہ دراصل صرف ادبی مرکز کمراز کی تاریخ بیان نہیں کررہے، بلکہ ایک ادبی تنظیم کی بقا کے لیے درکار بنیادی عناصر کی طرف بھی اشارہ کررہے ہیں۔ اخلاص، بے غرضی، اپنی زبان سے محبت اور اپنے تہذیبی ورثے سے زندہ تعلق۔ شاید یہی وہ عناصر ہیں جن کی وجہ سے کوئی ادارہ محض ایک تنظیم نہیں رہتا بلکہ ایک تحریک کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔
اسی اثنا میں مغرب کی اذان کی آواز فضا میں گونج اٹھی۔ کرمانی صاحب نے بھی اپنی صدارتی گفتگو کو سمیٹتے ہوئے اختتامی کلمات ادا کیے۔ اس کے ساتھ ہی شاکر شفیع نے افتتاحی اجلاس کے اختتام کا اعلان کیا اور شرکا کو مطلع کیا کہ نمازِ مغرب کے بعد پینل ڈسکشن کا سلسلہ شروع ہوگا۔ یوں کانفرنس کا افتتاحی اجلاس اپنے اختتام کو پہنچا، مگر دن بھر کی مصروفیات، گفتگوؤں اور فکری تبادلوں کے بعد ابھی اس ادبی سفر کی ایک اور اہم منزل باقی تھی۔ ہم بھی نمازِ مغرب کی تیاری کے لیے پنڈال سے باہر نکل آئے، اس امید کے ساتھ کہ واپسی پر گفتگو کا یہ سلسلہ مزید دلچسپ اور فکرانگیز رخ اختیار کرے گا۔(جاری )

