محمد سلیم سالکؔ
ایک طرف طویل افتتاحی نشست ختم ہوتے ہی لوگ پنڈال سے باہر نکلنے لگے اور دوسری طرف نمازِ مغرب ادا کرنے کے لیے بیشتر لوگ جامع مسجد کی طرف رخ کرنے لگے۔ میں نے بھی مناسب جانا کہ ادبی محفلیں تو سجتی رہیں گی، فی الحال نمازِ مغرب ادا کرلی جائے۔ ویسے بھی میں پہلی مرتبہ جامع مسجد حاجن میں نماز پڑھنے جارہا تھا اور اس مسجد کے بارے میں پہلے ہی بہت کچھ سن رکھا تھا۔ چنانچہ جامع مسجد جانے کی میرے پاس دوہری وجہ تھی۔ ایک تو نمازِ مغرب ادا ہوجاتی اور دوسرے اس موقع پر مسجد کے طرزِ تعمیر اور اس کے فنِ تعمیر کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی مل جاتا۔
سنا ہے کہ جامع مسجد حاجن کی تعمیر میں پروفیسر محی الدین حاجنی نے بھی خاصی تگ و دو کی تھی۔ مسجد کی طرف جاتے ہوئے میرے ذہن میں اچانک یہ خیال آیا کہ پروفیسر حاجنی کی دوراندیشی اور حکمتِ عملی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ ایک طرف انہوں نے ادبی مرکز کمراز جیسی ادبی تنظیم کی بنیاد رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور دوسری طرف جامع مسجد کی تعمیر و ترقی میں بھی پیش پیش رہے۔ ایک طرف زبان و ادب کی خدمت کا سامان اور دوسری طرف آخرت کا زادِ راہ۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ شاید اسی کو کہتے ہیں زندگی کے مختلف پہلوؤں کو ایک ساتھ دیکھنے والی نگاہ۔ اس سے بہتر نبض شناس اور کون ہوسکتا ہے!
بہرحال جامع مسجد پہنچا تو نمازیوں کی خاصی بڑی تعداد دیکھ کر مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ نمازِ مغرب ادا کی اور جب مسجد سے باہر نکلا تو رات کا اندھیرا چاروں طرف پھیل چکا تھا۔ دن بھر کی بارش کے باعث موسم میں خاصی خنکی پیدا ہوگئی تھی۔ اور یہاں ایک اعتراف بھی ضروری ہے کہ دو چیزیں میری کمزوریوں میں شامل ہیں۔ ایک تو مجھے بھوک کچھ جلدی لگتی ہے اور دوسری سردی بھی کچھ جلدی محسوس ہونے لگتی ہے۔
پنڈال کے قریب پہنچتے ہی میں نے شاکر شفیع کو دیکھا اور فوراً اپنی فریاد ان کے سامنے رکھ دی، ’’جناب! کیا مجھ غریب کو پہننے کے لیے ایک عدد بنیان یا جیکٹ مل سکتی ہے؟‘‘
میری بات سنتے ہی شاکر شفیع نے ایک زوردار قہقہہ لگایا اور کہنے لگے، ’’میرے یار! تم حاجن میں ہو اور تمہاری یہ فرمائش پوری نہ ہو؟ ایسا ہو ہی نہیں سکتا!‘‘
یہ کہہ کر شاکر شفیع اندھیرے میں ایسے گم ہوگئے جیسے حاجن کی رات نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا ہو۔ میں وہیں کھڑا سوچتا رہ گیا کہ اب دیکھیں میرے لیے بنیان آتی ہے یا جیکٹ!
ادھر آہستہ آہستہ لوگ دوبارہ پنڈال میں جمع ہونے لگے۔ میں سیدھے آکر پروفیسر ایاز رسول نازکی کے پاس بیٹھ گیا۔ وہ امین بٹ صاحب سے کہہ رہے تھے کہ وہی سیشن منعقد کروایا جائے جس میں انہیں صدارتی منصب سنبھالنا تھا۔ نازکی صاحب کا اندازِ گفتگو، الفاظ کا انتخاب اور بات کہنے کا سلیقہ دیکھ کر اچانک مجھے بڑے نازکی مرحوم کا ایک مصرع یاد آگیا:
’’نازکیؔ اس کے لب کی کیا کہیے…‘‘
اور میں سوچنے لگا کہ نام بھی نازکی، گفتگو بھی نازکی اور لفظوں کا انتخاب بھی ایسا کہ آدمی بے اختیار نازکی صاحب کی طرف کھینچاچلا جائے۔
ویسے خانوادۂ نازکی کے جدِّ امجد، حضرت میر نازک نیازی قادری خود بھی اپنے عہد کے ایک عالمِ بے بدل تھے۔ ان کا آستانۂ عالیہ کادی کدل، سرینگر میں واقع ہے۔ اسی سلسلۂ نسب سے آگے چل کر اس خانوادے سے کئی اہم علمی، ادبی اور روحانی شخصیات وابستہ رہیں۔ جہاں تک کشمیری زبان و ادب کا تعلق ہے، اس خانوادے میں میر غلام رسول نازکی، عبدالرشید نازکی، فاروق نازکی، اقبال نازکی، پروفیسر ایاز رسول نازکی اور ان کے فرزندِ ارجمند منشور خاور نازکی کے نام بالخصوص قابلِ ذکر ہیں۔ مذکورہ شخصیات میں سے چار کو کشمیری زبان و ادب میں ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔ یہ اعزاز محض انفرادی ادبی کامیابی کا اعتراف نہیں بلکہ اس امر کا بھی بین ثبوت ہے کہ خانوادۂ نازکی نے کشمیری زبان و ادب کی ترویج، تحفظ اور فروغ میں کس قدر نمایاں اور دیرپا کردار ادا کیا ہے۔ دراصل اس خانوادے کی ادبی روایت نے کشمیری زبان کو محض اظہار کا وسیلہ نہیں سمجھا بلکہ اسے اپنی تہذیبی شناخت، اجتماعی حافظے اور فکری و جمالیاتی شعور کے اظہار کا ایک مؤثر وسیلہ بنایا۔ کئی نسلوں پر محیط یہ ادبی سلسلہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ اگر کسی خاندان کی علمی و ادبی وابستگی ایک تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتی رہے تو وہ نہ صرف ایک مضبوط ادبی روایت کو جنم دیتی ہے بلکہ زبان کے دامن کو بھی نئے موضوعات، نئے اسالیب اور نئے امکانات سے مالا مال کرتی ہے۔ خانوادۂ نازکی کی یہی خدمات کشمیری زبان و ادب کی تاریخ میں اسے ایک منفرد اور قابلِ احترام مقام عطا کرتی ہیں۔
بات دراصل ایاز صاحب کی چل رہی تھی۔ موصوف انگریزی، اردو اور کشمیری، تینوں زبانوں میں طبع آزمائی کرتے ہیں، لیکن مجھے ان کی شخصیت کا محققانہ پہلو زیادہ پسند ہے۔ ہمارے یہاں صورتِ حال یہ ہے کہ بعض لوگ کسی کتاب پر ایک آدھ تبصرہ لکھنے کے بعد ہی خود کو بزعمِ خود ’’محقق‘‘ گرداننے لگتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ایاز صاحب جیسی شخصیات واقعی غنیمت ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ پائے کا تحقیقی شعور، گہری علمی بصیرت اور موضوع کی تہہ تک پہنچنے کا سلیقہ عطا کیا ہے۔
یہ سب باتیں برسبیلِ تذکرہ آگئیں، ورنہ میں عرض یہ کر رہا تھا کہ محمد امین بٹ صاحب نازکی صاحب کو پوری رات حاجن میں ٹھہرنے پر آمادہ کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے تھے۔ بار بار یقین دہانی کرا رہے تھے کہ مہمانوں کے قیام و طعام کا معقول انتظام موجود ہے، اس لیے آپ کو کسی قسم کی زحمت نہیں ہوگی۔ مگر نازکی صاحب کے اپنے کچھ عذر تھے اور امین صاحب تھے کہ انہیں جانے دینے پر آمادہ ہی نہیں ہو رہے تھے۔ یوں دونوں کے درمیان اصرار اور معذرت کا یہ سلسلہ کچھ دیر تک چلتا رہا۔
لیکن ایاز صاحب بھی اپنی جگہ ڈٹے ہوئے تھے۔ کبھی کمر درد کا دکھڑا سناتے اور کبھی صحت کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے، ’’بھائی! میرا گھر پہنچنا ضروری ہے اور میری صحت بھی مجھے یہاں رات ٹھہرنے کی اجازت نہیں دے رہی۔ اسی لیے میں اپنے ساتھ ڈرائیور بھی لایا ہوں۔‘‘
کافی حجت، بحث اور اصرار کے بعد بالآخر یہ طے پایا کہ جس سیشن کی صدارت ایاز صاحب کو کرنا تھی، اسے رات کے باقی پروگرام پر ترجیح دیتے ہوئے پہلے ہی نمٹا لیا جائے، کیونکہ ایاز صاحب کو واپس سری نگر روانہ ہونا تھا۔ امین صاحب نے فوراً شاکر شفیع کو فون پر صورتِ حال سے آگاہ کیا اور کہا کہ اب پہلے پینل ڈسکشن شروع کی جائے۔
ابھی چند ہی منٹ گزرے تھے کہ اچانک اندھیرے کو چیرتے ہوئے شاکر شفیع نمودار ہوئے۔ ان کے ایک ہاتھ میں جیکٹ تھی اور دوسرے میں بنیان۔ میں نے بھی زیادہ تکلف سے کام نہیں لیا، فوراً جیکٹ پر چپٹ پڑا اور اسے پہن لیا۔ بنیان شبیر بانہالی کے حصے میں آئی۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ حاجن میں آدمی صرف ادبی فیض ہی نہیں حاصل کرتا، کبھی کبھی گرم کپڑے بھی مل جاتے ہیں!
ادھر ابھی میں اپنی جیکٹ درست ہی کررہا تھا کہ مائیک پر اعلان ہوا:
’’اب تمام مہمانانِ گرامی سے گزارش ہے کہ وہ اپنی اپنی نشستوں پر تشریف فرما ہوجائیں۔ اب کانفرنس کا ایک اہم اجلاس شروع ہونے والا ہے، جس کا فارمیٹ پینل ڈسکشن کی شکل میں ترتیب دیا گیا ہے۔‘‘
اعلان کے ساتھ ہی پنڈال میں موجود لوگ اپنی اپنی نشستوں کی طرف متوجہ ہونے لگے۔ سب سے پہلے نوجوان نقاد میر طارق رسول کو بحیثیت ماڈریٹر ڈائس پر بلایا گیا۔ اس کے ساتھ ہی پروفیسر ایاز رسول نازکی کو پینل ڈسکشن کی صدارت کے لیے ایوانِ صدارت میں تشریف رکھنے کی دعوت دی گئی۔
اس کے بعد ایک ایک کرکے پینل کے دیگر شرکا کو بھی دعوت دی گئی، جن میں ڈاکٹر غلام نبی حلیم،جناب عنایت گل، جناب شہباز ہاکباری اور جناب غلام نبی ادفر شامل تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ڈائس پر پینلسٹ اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہوگئے۔
پنڈال میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی تھی۔ سامعین پوری توجہ کے ساتھ اسٹیج کی طرف دیکھ رہے تھے اور پینلسٹ بھی ہمہ تن گوش بیٹھے تھے۔ ابھی کچھ دیر پہلے تک جہاں چہ میگوئیاں، آمد و رفت اور گرم کپڑوں کی تلاش جاری تھی، اب وہی پنڈال ایک سنجیدہ علمی گفتگو کے لیے پوری طرح تیار ہوچکا تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ رات کی خنکی کے باوجود محفل کا درجۂ حرارت اب بڑھنے والا ہے۔(جاری)

