• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Tuesday, September 29, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (17)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
September 29, 2026
in اردو خبریں
A A
ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (17)
FacebookTwitterWhatsapp

گفتگو اب اس مقام پر پہنچ چکی تھی جہاں پینل ڈسکشن کا مرکزی موضوع، ’’لَل دید، شیخ العالمؒ اور کشمیری تشخص‘‘، محض ایک عنوان نہیں رہا تھا بلکہ ایک ایسے وسیع فکری سوال کی صورت اختیار کرچکا تھا جس کے دائرے میں ہماری زبان، تہذیب، صوفیانہ روایت اور اجتماعی حافظہ سب سمٹتے چلے آرہے تھے۔ سوال اب صرف لَل دید یا شیخ العالمؒ کی شاعری کی اہمیت کا نہیں رہا تھا، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ جاننے کی کوشش ہورہی تھی کہ آخر کشمیری تشخص کی وہ بنیادی اینٹیں کون سی ہیں جن سے ہماری تہذیبی عمارت صدیوں میں تعمیر ہوئی؟
پینل کے شرکا اپنی اپنی علمی بصیرت کے مطابق اس موضوع کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے تھے اور میں خاموشی سے ان کی گفتگو سنتے ہوئے کبھی ماضی کی طرف دیکھ رہا تھا اور کبھی حال کے آئینے میں اس کی جھلک تلاش کررہا تھا۔ ایک سوال ختم ہوتا تو محسوس ہوتا کہ شاید اب بات کسی نتیجے تک پہنچے گی، لیکن اگلا سوال پچھلے سوال سے بھی زیادہ پیچیدہ دروازہ کھول دیتا۔ یوں لَل دید، شیخ العالمؒ اور کشمیری تشخص کے گرد گھومتی یہ گفتگو آہستہ آہستہ ایک ایسی فکری بحث میں تبدیل ہورہی تھی جس میں ہر جواب اپنے ساتھ ایک نیا سوال بھی لے کر آرہا تھا۔
اسی دوران اگلا سوال عنایت گل کی طرف گیا کہ کیا لَل دید کے شعری اسلوب کا موجودہ دور کی کشمیری شاعری پر بھی کوئی نمایاں اثر باقی ہے؟
عنایت گل نے کہا کہ لَل دید کے واکھ آج بھی کشمیری شاعری کے لیے ایک اہم حوالۂ فکر ہیں۔ خود شناسی، روحانی جستجو، انسانی آزادی اور زندگی کی حقیقتیں ان کے کلام کے بنیادی موضوعات میں شامل ہیں، جبکہ ان کا سادہ، بے ساختہ اور علامتی اسلوب انہیں ہر دور کے لیے قابلِ مطالعہ بنائے رکھتا ہے۔ موجودہ کشمیری شاعری میں باطنی تجربے، سماجی شعور، عورت کے وجود، فطرت اور انسانی کرب جیسے موضوعات کے حوالے سے لَل دید کی فکری روایت کی جھلک کسی نہ کسی صورت میں دیکھی جاسکتی ہے۔
عنایت گل اپنی بات مکمل کرہی رہے تھے، کہ پروفیسر شاد رمضان , ان کی بات سے پوری طرح مطمئن نہیں لگ تھے۔ وہ سامعین میں بیٹھے خاموشی سے پہلو بدل بدل کرگفتگو سن رہے تھے۔ عنایت گل کی بات ختم ہوئی تو انہوں نے صاحب صدر سے اجازت لے کر اسی نکتے کو آگے بڑھاتے ہوئے لَل دید کے کلام کے ایک ایسے پہلو کی طرف توجہ دلائی جسے وہ ان کے اصل امتیاز کی بنیاد سمجھتے تھے۔ ان کے مطابق لَل دید نے پیچیدہ فلسفیانہ اور روحانی تصورات کو کسی ثقیل علمی زبان میں بیان کرنے کے بجائے عام فہم کشمیری زبان، علامت، استعارے اور اپنے ذاتی تجربے کے وسیلے سے اس انداز میں پیش کیا کہ وہ براہِ راست عوام کے دل و دماغ تک پہنچ گئے۔ ان کے کلام میں باطن کی تلاش، خود شناسی، انسانی وجود کی معنویت، روحانی تطہیر اور حقیقت کی جستجو بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
پروفیسر شاد رمضان کی گفتگو میں لَل دید کے اسی فکری اور روحانی مزاج کی ایک نہایت خوب صورت مثال اس وقت سامنے آئی جب انہوں نے ان کے ایک معروف واکھ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
شیو چھُ تھلہ تھلہ روزان
مو زان ہند تہ مسلمان۔
ترک اے چھُک تہ پان پرزناو
سوئے چھَے صاحبَس زانی زان
یہ چند مصرعے بظاہر مختصر ہیں، مگر اپنے اندر لَل دید کے پورے فکری نظام کی ایک جھلک سمیٹے ہوئے ہیں۔ یہاں وہ ظاہری مذہبی شناختوں اور تقسیموں سے آگے بڑھ کر انسان کو اپنے باطن میں جھانکنے اور اپنی اصل حقیقت کو پہچاننے کی دعوت دیتی ہیں۔ شاید یہی وہ بنیادی وصف ہے جو لَل دید کو محض اپنے عہد کی شاعرہ نہیں رہنے دیتا، بلکہ ہر آنے والے دور کے لیے ایک زندہ اور مسلسل حوالۂ فکر بنا دیتا ہے۔
لیکن گفتگو نے اس وقت ایک نیا رخ اختیار کیا جب عنایت گل نے پروفیسر شاد رمضان کی اس رائے سے اختلاف کرتے ہوئے قدرے پرجوش انداز میں کہا کہ انہوں نے لَل دید کا کلام اول تا آخر پڑھا ہے، مگر انہیں لَل دید کے کسی بھی واکھ میں ہندو یا مسلمان کا لفظ نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی پروفیسر شاد رمضان نے جس واکھ کو لَل دید سے منسوب کرتے ہوئے پیش کیا ہے، وہ لَل دید کا ہو ہی نہیں سکتا۔
عنایت گل کی اس بات پر محفل میں ایک لمحے کے لیے گفتگو کا رخ بدل گیا۔ لَل دید کے کلام کی نسبت کا سوال محض ایک شعری حوالہ نہیں تھا، بلکہ اس کے ساتھ قدیم متون کی روایت، نقل در نقل کے مراحل اور وقت کے ساتھ کلام میں ہونے والی تبدیلیوں کا ایک پورا مسئلہ وابستہ تھا۔ انہوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ لَل دید کے واکھ صدیوں تک زبانی روایت کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتے رہے ہیں، اس لیے ہر وہ شعر جو آج لَل دید کے نام سے مشہور ہے، ضروری نہیں کہ لازماً ان ہی کا کہا ہوا ہو۔ بعض واکھ بعد کے ادوار میں ان کے نام سے منسوب کیے گئے اور بعض میں نقل کے دوران لفظی تبدیلیاں بھی واقع ہوئی ہوں گی۔
اسی دوران میرے ذہن میں ایک خیال آیا کہ کیوں نہ میں اپنی آن لائن لائبریری کا رخ کروں اور لَل دید کا کلام دیکھ لیا جائے۔ اگر یہ واکھ واقعی لَل دید کا ہے تو کہیں نہ کہیں اس کا مستند حوالہ ضرور ملنا چاہیے۔
میں نے فوراً اپنا فون نکالا اور کشمیر ٹریجر کے آرکائیوز میں لَل دید کے کلام کو تلاش کیا۔ دو ایک لمحے ہی گزرے تھے کہ لَل دید کا کلام میرے فون کی اسکرین پر نمودار ہوگیا۔ اب میرے سامنے ایک نیا سوال تھا:
مذکورہ واکھ کو کتاب کے اندر کس طرح تلاش کیا جائے؟
میں نے کتاب کے صفحات ایک ایک کرکے سکرول کرنا شروع کیے۔ انگلی اسکرین پر آگے بڑھتی رہی اور میری نظریں ہر صفحے پر ٹھہرتی رہیں۔ بالآخر صفحہ نمبر 124 پر پہنچ کر اچانک میری نظر اسی واکھ پر پڑی جس پر ابھی محفل میں اختلاف چل رہا تھا۔ میں ایک لمحے کے لیے رک گیا۔ واکھ میرے سامنے موجود تھا۔
میں نے فوراً اس کا حوالہ دیکھا تاکہ محض آنکھوں دیکھی بات پر اکتفا نہ کیا جائے۔ کتاب کا مکمل حوالہ یہ تھا:
لَل دید
مترجم: پروفیسر نند لال کول طالب
مقدمہ و حواشی: پروفیسر جیالال کول
ناشر: کلچرل اکادمی
سنِ اشاعت: 1984ء، چوتھا ایڈیشن
متعلقہ واکھ: صفحہ 124
اب میرے لیے صورتِ حال خاصی دلچسپ ہوچکی تھی۔ چند لمحے پہلے تک میں صرف دو اہلِ علم کے درمیان ایک اختلافِ رائے سن رہا تھا، مگر اب میرے ہاتھ میں ایک باقاعدہ مطبوعہ حوالہ موجود تھا۔ میں نے فون کی اسکرین پر موجود صفحے کو دوبارہ غور سے دیکھا اور پھر ایک بار عنایت گل اور شاد صاحب کی طرف متوجہ ہوا۔ مجھے محسوس ہوا کہ اس چھوٹی سی تلاش نے گفتگو کو محض رائے اور تاثر کے دائرے سے نکال کر متن اور ماخذ کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
اور شاید یہی کسی بھی ادبی بحث کا سب سے دلچسپ مرحلہ ہوتا ہے۔جب اختلافِ رائے کے بیچ اچانک کتاب کھل جائے اور فیصلہ خود متن کے حوالے سے ہونے لگے۔ (جاری)

………….

پس نوشست : خاکسار نے اپنے ذاتی کتب خانے میں موجود کتابوں کو رفتہ رفتہ ڈیجیٹلائز کرکے انٹرنیٹ آرکائیوز پر ’’کشمیر ٹریجر‘‘ کے نام سے ایک آن لائن شلف قائم کیا ہے۔ اس شلف میں اب تک تقریباً 1765 نادر و اہم کتب محفوظ کی جاچکی ہیں، جن میں کشمیر کی تاریخ، تہذیب، آثارِ قدیمہ، زبان و ادب اور مختلف علمی و تحقیقی موضوعات سے متعلق کتابیں شامل ہیں۔ میری کوشش ہے کہ ذاتی کتب خانے تک محدود رہنے والا یہ علمی و ادبی سرمایہ زیادہ سے زیادہ قارئین، طلبہ اور محققین کی دسترس میں آسکے۔

اسی خیال کے تحت ’’کشمیر ٹریجر‘‘ (https://archive.org/details/@kashmirtreasure )

کا یہ ربط یہاں دے رہا ہوں تاکہ قارئین بھی اس آن لائن کتب خانے سے استفادہ کرسکیں اور اپنی ضرورت اور دلچسپی کے مطابق ان کتابوں تک بآسانی رسائی حاصل کرسکیں۔ ممکن ہے ان میں سے کوئی کتاب کسی طالب علم، محقق یا شائقِ مطالعہ کے لیے کسی نئے دروازے کے کھلنے کا سبب بن جائے۔
اگر قارئین میں سے کسی دوست کے پاس کوئی ایسی کتاب موجود ہو جسے وہ ’’کشمیر ٹریجر‘‘ میں محفوظ کروانا چاہتے ہوں تو وہ اس کی PDF فائل خاکسار تک پہنچا سکتے ہیں۔ اگر کتاب کی PDF موجود نہ ہو تو اصل کتاب بھی عاریتاً فراہم کی جاسکتی ہے۔ خاکسار اسے ڈیجیٹلائز کرکے PDF کی شکل میں ’’کشمیر ٹریجر‘‘ پر محفوظ کرے گا اور اصل کتاب بحفاظت واپس کردی جائے گی۔ اس طرح اگر کسی کے ذاتی کتب خانے میں کوئی نایاب یا اہم کتاب موجود ہے تو اسے صرف ایک شخص کے مطالعے تک محدود رکھنے کے بجائے اسے آنے والی نسلوں اور دنیا بھر کے قارئین و محققین کے لیے بھی محفوظ کیا جاسکتا ہے۔

Previous Post

National Deaf Men’s T20 Cricket Championship Highlights Inclusive Sports Culture in Srinagar

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.