• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Wednesday, September 30, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (18)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
September 30, 2026
in اردو خبریں
A A
ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (18)
FacebookTwitterWhatsapp

پروفیسر شاد رمضان اور عنایت گل کی گفتگو سے پینل ڈسکشن میں جان آگئی تھی۔ سامعین ہمہ تن گوش تھے اور گفتگو کے اس دلچسپ سلسلے میں پوری دل چسپی لے رہے تھے۔ ایک نکتے سے دوسرے نکتے کی طرف بڑھتی ہوئی بحث اب خاصی سنجیدہ اور فکرانگیز صورت اختیار کرچکی تھی۔ اسی دوران طارق رسول نے بحث کا رخ شیخ العالم کی طرف موڈدیا۔ انہوں نے جناب غلام نبی ادفر سے شیخ العالم اور کشمیری تشخص کے حوالے سے سوال کیا ۔
ادفرصاحب نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ شیخ العالم کا کلام پڑھتے ہوئے پہلا تاثر یہی ابھرتا ہے کہ وہ محض ایک صوفی شاعر یا مذہبی مبلغ نہیں تھے بلکہ اپنے عہد کے گہرے ثقافت شناس بھی تھے۔ انہوں نے شاعری کو صرف اسلامی فکر اور دینی تعلیمات کی ترسیل کا وسیلہ نہیں بنایا بلکہ اپنے گرد و پیش کے سماجی حالات، لوگوں کے رہن سہن، ان کے مسائل، رویوں اور اجتماعی زندگی کو بھی اپنے کلام کا حصہ بنایا۔
انہوں نے اس نکتے پر بھی زور دیا کہ شیخ العالم نے اسلامی فکر کی ترسیل کے لیے کوئی اجنبی یا مشکل زبان اختیار نہیں کی بلکہ مقامی زبان اور مقامی ثقافتی حوالوں کو وسیلہ بنایا۔ ان کے ہاں مذہبی فکر اور کشمیری تہذیب ایک دوسرے سے الگ دکھائی نہیں دیتیں۔ وہ اپنے پیغام کو اسی معاشرے کی زبان، محاورے، استعارے اور روزمرہ تجربات کے ذریعے لوگوں تک پہنچاتے ہیں جس میں وہ خود سانس لے رہے تھے۔
ادفر صاحب کی بات ابھی جاری تھی اور شوکت شفیع صاحب نے مجھ سے مخاطب ہوکر کہا سالک ۔۔”کشمیر کی فکری تاریخ میں لَل دید اور شیخ العالم جیسے بڑے ناموں کو شاید صرف مذہبی یا ادبی خانوں میں تقسیم کرکے دیکھنا کافی نہیں۔ دونوں نے اپنے اپنے انداز میں کشمیری سماج، اس کی روحانی روایت اور اس کے تہذیبی مزاج سے مکالمہ کیا۔ فرق صرف اظہار اور فکری زاویے کا ہے۔ ایک طرف لَل دید کے واکھ ہیں جو باطن کی تلاش اور انسانی وجود کے بنیادی سوالات سے مکالمہ کرتے ہیں، اور دوسری طرف شیخ العالم کا کلام ہے جو دینی فکر، اخلاقی تربیت اور معاشرتی شعور کو ایک ساتھ لے کر چلتا ہے۔”
پینل ڈسکشن اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی تھی جہاں ہر سوال محض کسی شاعر کے تعارف تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے کشمیر کی پوری تہذیبی اور فکری تاریخ کے کئی دروازے کھلتے محسوس ہو رہے تھے۔
مباحثہ کا اگلا سوال لَل دید اور کشمیری شیو فلسفے کے تعلق سے تھا۔ غلام نبی حلیم سے پوچھا گیا کہ اگر لَل دید کی شعریات پر شیو فلسفے کے اثرات تسلیم کیے جائیں تو یہ اثرات کشمیری تشخص کے تصور سے کس طرح جڑتے ہیں؟
حلیم صاحب نے اس سوال کا جواب خاصی احتیاط سے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لَل دید کی شعریات پر کشمیری شیو فلسفے کے براہِ راست اور مکمل اثر کو قطعی طور پر تسلیم کرنا مناسب نہیں۔ ان کے کلام میں بعض تصورات ایسے ضرور ہیں جو کشمیری شیو ازم سے مماثلت رکھتے ہیں، لیکن محض مماثلت کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں کہ ان کی پوری شعری فکر اسی فلسفے سے ماخوذ ہے۔
حلیم صاحب جواب کے میں طارق رسول نے گفتگو کو ایک اور اہم سمت دی۔ انہوں نے کہا کہ لَل دید کی شاعری میں ابھنو گپت کے فلسفے کے بعض بنیادی تصورات کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ ان کے نزدیک لَل دید کے ہاں باطن کی جستجو، ذات کے عرفان، انسانی شعور اور کائنات کے باہمی رشتے سے متعلق جو اشارات ملتے ہیں، ان کا مطالعہ کشمیری شیو فلسفے کی روشنی میں کیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر مزید سنجیدہ اور باقاعدہ تحقیق کی ضرورت ہے۔ طارق رسول نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شاید فاضل پنیسلٹ کو بھی اس پہلو پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لَل دید کے کلام اور ابھنو گپت کے فلسفیانہ افکار کے درمیان مماثلتوں اور اختلافات کو زیادہ واضح طور پر سامنے لایا جا سکے۔
یہ بات میرے لیے خاصی دلچسپ تھی۔ ابھی کچھ دیر پہلے تک گفتگو لَل دید کے ایک مخصوص واکھ کی نسبت اور اس میں ہندو اور مسلمان کی اصطلاحات کے وجود یا عدمِ وجود کے گرد گھوم رہی تھی، اور اب بحث ایک وسیع تر فکری تناظر میں داخل ہو چکی تھی۔ ایک طرف لَل دید کے کلام کو براہِ راست کشمیری شیو فلسفے کا نتیجہ قرار دینے میں احتیاط برتنے کی بات ہو رہی تھی، تو دوسری طرف ابھنو گپت جیسے عظیم فلسفی کے افکار کے ساتھ لَل دید کی شاعری کے ممکنہ رشتوں کی طرف توجہ دلائی جا رہی تھی۔
پینل ڈسکشن اب محض ایک ادبی شخصیت کے تعارف یا ان کے کلام کے عمومی اثرات تک محدود نہیں رہی تھی۔ سوال در سوال لَل دید کے گرد صدیوں سے قائم مختلف تصورات کی پرتیں کھل رہی تھیں اور ہر جواب کے ساتھ ایک نیا سوال جنم لے رہا تھا۔ میں خاموشی سے گفتگو سن رہا تھا، مگر میرے ذہن میں پھر وہی خیال گردش کرنے لگا کہ اگر لَل دید کے کلام کے مستند قدیم و جدید نسخوں کو سامنے رکھ کر ان واکھوں کا تقابلی مطالعہ کیا جائے، اور ساتھ ہی کشمیری شیو فلسفے کے بنیادی متون کو بھی پیشِ نظر رکھا جائے، تو شاید بہت سی ایسی باتیں سامنے آسکتی ہیں جن پر ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔(جاری)

Previous Post

سیماری حادثے کے بعد کرناہ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.