قارئین ، کسی بھی خطے کے مستقبل کا اندازہ صرف اس کے ماضی سے نہیں لگایا جا سکتا۔ جموں و کشمیر کے بارے میں بھی یہ حقیقت خاص طور پر اہم ہے، جہاں ایک پوری نسل ایسے ماحول میں جوان ہوئی جس میں بے یقینی، کشیدگی اور تشدد کی خبریں روزمرہ گفتگو کا حصہ رہی ہیں۔ لیکن آج یہاں کے نوجوانوں کی گفتگو میں ایک نمایاں تبدیلی محسوس کی جا سکتی ہے۔ ان کے سوالات روزگار، تعلیم، کاروبار، کھیل، ٹیکنالوجی، بہتر سہولیات اور آگے بڑھنے کے مواقع سے متعلق ہیں۔ وہ اپنے مستقبل کو صرف حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا چاہتے بلکہ اپنی صلاحیتوں کے ذریعے نئی راہیں تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ یہی بدلتی سوچ جموں و کشمیر میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں میں سے ایک ہے۔یہ تبدیلی کسی ایک منصوبے، کسی ایک اعلان یا کسی ایک شعبے تک محدود نہیں۔ سڑکیں اور پل تعمیر ہو رہے ہیں، رابطے کے ذرائع بہتر بنائے جا رہے ہیں، صحت اور تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے کی کوششیں جاری ہیں، سیاحت نئے علاقوں تک پہنچ رہی ہے، نوجوان کاروبار اور ہنر کے مختلف میدانوں میں قدم رکھ رہے ہیں اور کھیلوں میں بھی نئی صلاحیتیں سامنے آ رہی ہیں۔ ان تمام سرگرمیوں کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ خطے میں ترقی کے ایک وسیع عمل نے جگہ بنائی ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کئی معاشی، سماجی اور سلامتی سے متعلق مسائل اب بھی موجود ہیں۔ ترقی کی تصویر اسی وقت مکمل ہوگی جب ان مشکلات کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے حل کی مسلسل کوشش بھی کی جائے۔امن اس پورے عمل کی بنیادی ضرورت ہے۔ معمول کی زندگی اسی وقت مضبوط بنیاد حاصل کرتی ہے جب لوگ اپنے کاروبار، تعلیم، سفر اور سرمایہ کاری کے بارے میں اعتماد کے ساتھ فیصلے کر سکیں۔ بہتر سلامتی کا ماحول نہ صرف سیاحت اور تجارت کے لیے سازگار فضا پیدا کرتا ہے بلکہ حکومت، اداروں اور معاشرے کو ان شعبوں پر زیادہ توجہ دینے کا موقع بھی دیتا ہے جو طویل عرصے تک پس منظر میں چلے گئے تھے۔ اسی لیے امن کو صرف تشدد میں کمی کے تناظر میں نہیں بلکہ عام شہری کی زندگی میں پیدا ہونے والے نئے امکانات کے حوالے سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔سیاحت جموں و کشمیر کی معیشت میں پہلے ہی اہم مقام رکھتی ہے، لیکن اس شعبے میں مزید امکانات موجود ہیں۔ قدرتی حسن اس خطے کی بڑی طاقت ضرور ہے، مگر کامیاب سیاحتی معیشت صرف خوبصورت مناظر سے قائم نہیں ہوتی۔ سیاحوں کو محفوظ ماحول، بہتر سڑکیں، مناسب قیام گاہیں، صفائی، مواصلاتی سہولیات، مقامی خدمات اور یادگار تجربہ بھی درکار ہوتا ہے۔ اگر روایتی مقامات کے ساتھ ساتھ کم معروف علاقوں کو بھی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں تو سیاحت کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ روزگار اور آمدنی کے مواقع بڑے سیاحتی مراکز سے نکل کر دیہی اور دور دراز علاقوں تک پہنچیں گے۔قارئین ، سیاحت کے اثرات کسی ایک شعبے تک محدود نہیں رہتے۔ ایک سیاح جب کسی علاقے کا رخ کرتا ہے تو ہوٹل کے علاوہ ٹرانسپورٹ، ریستوران، مقامی دستکاری، رہنمائی، فوٹوگرافی، خریداری، مہم جوئی اور چھوٹے کاروبار بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی لیے چھوٹے سیاحتی مقامات کی ترقی مقامی معیشت کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ البتہ اس کے لیے منصوبہ بندی ایسی ہونی چاہیے جس میں قدرتی ماحول اور مقامی ثقافت کے تحفظ کو بھی برابر اہمیت حاصل ہو۔بنیادی ڈھانچے میں بہتری بھی نئے امکانات کی بنیاد بن رہی ہے۔ کسی پہاڑی علاقے تک پہنچنے میں گھنٹوں کی کمی صرف مسافر کے لیے سہولت نہیں ہوتی بلکہ اس کے معاشی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ کسان اپنی پیداوار جلد منڈی تک پہنچا سکتا ہے، مریض بہتر طبی سہولت تک بروقت رسائی حاصل کر سکتا ہے، طالب علم تعلیمی ادارے تک آسانی سے پہنچ سکتا ہے اور مقامی تاجر اپنی مصنوعات کو بڑے بازاروں سے جوڑ سکتا ہے۔ سڑک، پل، سرنگ اور مواصلاتی رابطہ دراصل مختلف آبادیوں کو مواقع کے ایک بڑے نظام سے جوڑنے کا ذریعہ بنتا ہے۔اسی لیے ترقی کو صرف تعمیراتی اعداد و شمار سے نہیں پرکھا جانا چاہیے۔ کسی سڑک کی کامیابی اس بات سے زیادہ ظاہر ہوتی ہے کہ اس نے لوگوں کی زندگی کتنی آسان بنائی۔ کسی اسپتال کی اہمیت صرف اس کی عمارت سے نہیں بلکہ اس علاج سے ہے جو وہاں عام شہری کو ملتا ہے۔ کسی تعلیمی ادارے کی افادیت اس بات میں ہے کہ وہ نوجوان کو علم، ہنر اور اعتماد فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح سرکاری خدمات کو آن لائن کرنے کا اصل فائدہ تب سامنے آتا ہے جب ایک عام شہری کو معمولی کام کے لیے بار بار دفتر جانے کی ضرورت نہ پڑے۔قارئین ،جموں و کشمیر کی آبادی میں نوجوانوں کا بڑا حصہ ہے اور مستقبل کی سمت طے کرنے میں ان کی خواہشات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ آج کا نوجوان دنیا سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ جڑا ہوا ہے۔ وہ ملک کے دوسرے حصوں میں موجود مواقع سے واقف ہے، نئی ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے اور اپنی صلاحیتوں کو مقامی حدود تک محدود رکھنے کے لیے تیار نہیں۔ سرکاری ملازمت اب بھی بہت سے نوجوانوں کے لیے اہم ہے، لیکن ان کی ترجیحات میں کاروبار، نجی شعبہ، ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ خدمات، کھیل اور تخلیقی صنعتیں بھی شامل ہو رہی ہیں۔یہ تبدیلی معاشی پالیسی کے لیے بھی ایک اہم پیغام رکھتی ہے۔ اگر نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی خواہشات کو مواقع میں تبدیل کرنا ہے تو ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں نئے کاروبار شروع کرنا آسان ہو، سرمایہ کاری کے راستے کھلے ہوں اور ہنر رکھنے والے افراد اپنی صلاحیت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ روزگار پیدا کرنے کی ذمہ داری صرف حکومت پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ نجی شعبے، مقامی کاروباری اداروں، سرمایہ کاروں، تعلیمی اداروں اور نوجوانوں کو بھی اس عمل کا حصہ بنانا ہوگا۔جموں و کشمیر کی روایتی معیشت اس سلسلے میں ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ سیب، زعفران، باغبانی، دستکاری، دست بافی اور دیگر مقامی مصنوعات پہلے ہی اپنی الگ شناخت رکھتی ہیں۔ مسئلہ اکثر پیداوار سے زیادہ اس کی بہتر قدر حاصل کرنے کا ہوتا ہے۔ اگر معیار، پیکنگ، تشہیر، برانڈنگ اور منڈی تک رسائی کے طریقوں کو جدید بنایا جائے تو مقامی پیداوار کی معاشی قدر میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایک کاریگر یا کسان کو صرف مقامی خریدار پر انحصار نہ کرنا پڑے بلکہ وہ ملک کے مختلف حصوں اور بیرونی منڈیوں تک بھی اپنی مصنوعات پہنچا سکے، تو اس سے مقامی معیشت کو نئی قوت مل سکتی ہے۔یہاں ٹیکنالوجی ایک اہم پل کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ آج کسی کاروبار کی کامیابی لازماً اس بات پر منحصر نہیں کہ اس کا گاہک اسی شہر یا ضلع میں موجود ہو۔ سری نگر میں بیٹھا ایک نوجوان اپنی تیار کردہ چیز بنگلورو، ممبئی یا ملک کے کسی دوسرے شہر میں فروخت کر سکتا ہے۔ ایک ماہر پیشہ ور اپنے گھر سے بیٹھ کر کسی دوسرے شہر یا ملک کی کمپنی کے لیے کام کر سکتا ہے۔ اس طرح ڈیجیٹل رابطہ جغرافیائی فاصلے کی اہمیت کم کر رہا ہے۔ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے لیے یہ ایک ایسا موقع ہے جسے تعلیم، ہنر اور بہتر ڈیجیٹل سہولیات کے ذریعے مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔لیکن ٹیکنالوجی کے ان امکانات سے فائدہ اٹھانے کے لیے تعلیم کے نظام کو بھی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ صرف امتحانات میں اچھے نمبر حاصل کرنا کسی نوجوان کو بدلتی ہوئی دنیا کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں کرتا۔ ابلاغ کی صلاحیت، کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کا استعمال، مالی معاملات کی بنیادی سمجھ، فنی تربیت اور کاروباری سوچ بھی تعلیم کا حصہ ہونی چاہیے۔ نوجوان اگر تعلیم کے ساتھ ہنر اور عملی تجربہ حاصل کریں تو ان کے لیے روزگار تلاش کرنے کے بجائے روزگار پیدا کرنے کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔کھیلوں کا میدان بھی نوجوانوں کی توانائی کو مثبت سمت دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ جموں و کشمیر میں کئی کھیلوں میں صلاحیت رکھنے والے نوجوان موجود ہیں۔ انہیں بہتر میدان، تربیت، کوچنگ اور مقابلوں کے مواقع فراہم کیے جائیں تو کھیل نہ صرف کامیابی اور روزگار کا ذریعہ بن سکتے ہیں بلکہ نوجوانوں میں نظم و ضبط، خود اعتمادی اور ٹیم کے ساتھ کام کرنے کا جذبہ بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ کسی نوجوان کی قومی سطح پر کامیابی اس کے ذاتی مستقبل کے ساتھ ساتھ پورے خطے کے لیے بھی ایک مثبت مثال بن سکتی ہے۔تاہم ترقی کے عمل میں ایک بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ اس کے فوائد ہر علاقے تک پہنچیں۔ جموں و کشمیر صرف بڑے شہروں کا نام نہیں۔ یہاں دور افتادہ پہاڑی بستیاں، سرحدی علاقے، دیہی آبادی اور ایسے علاقے بھی ہیں جہاں بنیادی سہولیات تک رسائی اب بھی مشکل ہے۔ سری نگر یا جموں میں موجود سہولت کو پورے خطے کی ترقی کا پیمانہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دور دراز علاقوں کے لیے اچھی سڑک، صحت کی سہولت، بجلی، مواصلاتی رابطہ اور معیاری تعلیم بھی اتنی ہی ضروری ہیں جتنی شہری مراکز کے لیے۔اسی لیے بہتر حکمرانی اس پورے عمل کی بنیاد بنتی ہے۔ شہری چاہتے ہیں کہ سرکاری ادارے ان کی بات سنیں، درخواستوں اور شکایات پر بروقت کارروائی ہو اور انہیں معمولی کاموں کے لیے غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ شفافیت، جواب دہی اور کارکردگی صرف انتظامی اصطلاحات نہیں بلکہ عوام کے اعتماد سے براہ راست جڑی ہوئی چیزیں ہیں۔ جب ایک شہری یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی بات سنی جا رہی ہے اور نظام اس کے لیے قابل رسائی ہے تو ترقی کے عمل پر اس کا اعتماد بھی مضبوط ہوتا ہے۔نئے کشمیر کی تعمیر میں اس خطے کی ثقافتی شناخت کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ کشمیر کی زبانیں، ادب، روایات، دستکاری، کھانے، فنون اور مذہبی و ثقافتی ورثہ اس کی منفرد پہچان ہیں۔ جدیدیت کا مطلب یہ نہیں کہ ماضی کی ہر نشانی کو پیچھے چھوڑ دیا جائے۔ دراصل ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے نئے معاشی اور سیاحتی مواقع سے جوڑنا ایک اضافی طاقت ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک ایسا خطہ جو جدید سہولیات کے ساتھ اپنی تہذیبی شناخت بھی محفوظ رکھتا ہے، اپنی الگ کشش برقرار رکھ سکتا ہے۔اس سفر میں حکومت کے ساتھ معاشرے کے دوسرے حصوں کی ذمہ داری بھی اہم ہے۔ ذرائع ابلاغ کو عوامی مسائل کو ذمہ داری کے ساتھ اجاگر کرنا ہوگا، سیاسی نمائندوں کو تعمیری بحث کو ترجیح دینی ہوگی، سول سوسائٹی کو اجتماعی شرکت کو فروغ دینا ہوگا اور شہریوں کو بھی اپنے معاشرے کی بہتری میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ پائیدار امن اور خوشحالی صرف سرکاری منصوبوں سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے اجتماعی رویوں میں بھی تبدیلی ضروری ہوتی ہے۔اس تمام منظرنامے کے باوجود یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ جموں و کشمیر کے تمام مسائل ختم ہو گئے ہیں۔ روزگار اب بھی ایک بڑا سوال ہے، بہت سے کاروبار مشکلات سے دوچار ہیں، کئی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے اور نوجوان بہتر مواقع کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان مسائل کی موجودگی کو تسلیم کرنا ترقی کی نفی نہیں بلکہ حقیقت پسندی کی علامت ہے۔ کسی بھی معاشرے کی حقیقی پیش رفت اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب کامیابیوں کے ساتھ باقی رہ جانے والی خامیوں کو بھی کھلے دل سے تسلیم کیا جائے۔البتہ ایک اہم تبدیلی ضرور دکھائی دے رہی ہے اور وہ ہے گفتگو کا رخ۔ آج زیادہ سے زیادہ لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ روزگار کے نئے مواقع کہاں پیدا ہوں گے، تعلیم کو کس طرح بہتر بنایا جائے گا، سرمایہ کاری کیسے بڑھے
گی، سیاحت کو مزید علاقوں تک کیسے پہنچایا جائے گا، صحت کی سہولیات کس طرح مضبوط ہوں گی اور نوجوان اپنی صلاحیتوں کو کس طرح استعمال کر سکیں گے۔ یہ سوالات اس بات کی علامت ہیں کہ عوام اپنے مستقبل کو عملی مسائل اور ترقی کے امکانات کے تناظر میں دیکھنا چاہتے ہیں۔جموں و کشمیر کی تاریخ کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ایسا کرنا ضروری ہے۔ لیکن کسی خطے کی شناخت ہمیشہ اس کے ماضی کی مشکلات تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ نئی نسل اپنے لیے ایک ایسی شناخت چاہتی ہے جس میں تعلیم، کاروبار، کھیل، ہنر، اختراع اور کامیابی شامل ہوں۔ وہ چاہتی ہے کہ جموں و کشمیر کا ذکر صرف مشکلات کے حوالے سے نہ ہو بلکہ اس کے نوجوانوں، کسانوں، کاریگروں، طلبہ، کھلاڑیوں اور کاروباری افراد کی کامیابیوں کے حوالے سے بھی کیا جائے۔یہی دراصل نئے کشمیر کی کہانی کا سب سے اہم پہلو ہے۔ امن نے امکانات کے لیے جگہ پیدا کی ہے، ترقی ان امکانات کو عملی مواقع میں تبدیل کر سکتی ہے اور نوجوان نسل کی توانائی اس سفر کو نئی رفتار دے سکتی ہے۔ اس پورے عمل کی کامیابی کا فیصلہ صرف بڑے منصوبوں، بلند عمارتوں یا ترقی کے اعداد و شمار سے نہیں ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ جموں و کشمیر کا ایک عام نوجوان اپنے آنے والے کل کے بارے میں کیا محسوس کرتا ہے۔ اگر اسے یہ یقین مضبوط ہوتا جائے کہ اس کے سامنے آگے بڑھنے کے راستے موجود ہیں، اس کی محنت کی قدر ہو سکتی ہے اور اس کے خواب اپنے ہی خطے میں حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں، تو یہی اعتماد نئے کشمیر کی سب سے بڑی کامیابی شمار ہوگا۔