• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Thursday, October 1, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home Article

جموں کشمیر کے نوجوان کے نئے حوصلے ، مقامی سطح سے قومی کھیل کے میدانوں تک نمایاں 

از قلم :ایڈووکیٹ صفا by از قلم :ایڈووکیٹ صفا
October 1, 2026
in Article
A A
FacebookTwitterWhatsapp

قارئین ، کسی نوجوان کے ہاتھ میں گیند، پاؤں میں اسکی یا باکسنگ کے دستانے ہوں تو یہ صرف ایک کھیل کی تیاری نہیں ہوتی، بلکہ اس کے اندر موجود صلاحیت کو ایک سمت دینے کا عمل بھی ہوتا ہے۔ جموں و کشمیر میں کھیلوں کے میدان اسی نئی سوچ کے عکاس بن رہے ہیں۔ وہ علاقے جہاں کبھی کھیلوں کی سرگرمیاں چند اسکولی مقابلوں یا مقامی سطح کے محدود ٹورنامنٹس تک سمٹی رہتی تھیں، وہاں اب منظم تربیت، بہتر سہولیات اور بڑے مقابلوں تک رسائی کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ نوجوان کھلاڑی نہ صرف اپنے ضلع یا علاقے کی نمائندگی کر رہے ہیں بلکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی صلاحیتیں آزمانے کے مواقع حاصل کر رہے ہیں۔کھیلوں سے متعلق اس بدلتے ماحول کے پیچھے بنیادی ڈھانچے میں ہونے والی توسیع کا اہم کردار ہے۔ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں کھیل کے میدان، اندرونی کھیل ہال، تربیتی مراکز اور مخصوص کھیلوں کے لیے سہولیات قائم کی گئی ہیں۔ کھیلوں کی سرگرمیوں کو نچلی سطح تک لے جانے میں ’کھیلو انڈیا‘ پروگرام نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس وقت خطے کے 20 اضلاع میں تقریباً 100 کھیلو انڈیا مراکز قائم کیے جا چکے ہیں، جہاں نوجوان اپنے گھروں کے قریب رہتے ہوئے تربیت حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر میں 29 اندرونی کھیل ہال موجود ہیں، جبکہ گلمرگ نے موسم سرما کے کھیلوں کے ایک اہم مرکز کے طور پر اپنی شناخت مضبوط کی ہے اور یہاں کھیلو انڈیا سرمائی کھیلوں کے پانچ ایڈیشن منعقد ہو چکے ہیں۔قارئین ، یہ سہولیات اسی وقت بامعنی بنتی ہیں جب ان میں نوجوانوں کی شرکت بھی بڑھے، اور یہی رجحان اب نمایاں طور پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایتھلیٹکس، باکسنگ، فٹ بال، کرکٹ، والی بال، باسکٹ بال، مارشل آرٹس، اسکیئنگ اور موسم سرما کے دیگر کھیلوں میں بڑی تعداد میں نوجوان حصہ لے رہے ہیں۔ ضلعی سطح کے مقابلے اور مقامی ٹورنامنٹ ان کھلاڑیوں کے لیے ابتدائی آزمائش کا میدان بن رہے ہیں۔ ایسے مقابلے نوجوانوں کو مسابقتی ماحول سے آشنا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی صلاحیتوں کو سامنے لانے کا بھی ذریعہ بنتے ہیں۔ خاص طور پر دور دراز علاقوں میں موجود کئی باصلاحیت نوجوانوں کو اگر مناسب تربیت اور مقابلے کا موقع نہ ملے تو ان کی صلاحیتیں مقامی سطح سے آگے نہیں بڑھ پاتیں۔جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے کئی کھلاڑیوں کی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ مواقع ملنے پر چھوٹے شہروں اور دور افتادہ اضلاع سے بھی قومی سطح کے کھلاڑی سامنے آ سکتے ہیں۔ راجوری کے محمد یاسر کی مثال اس سلسلے میں قابل ذکر ہے، جنہوں نے بڑے باکسنگ مقابلوں میں ہندوستان کی نمائندگی کی ہے۔ ایسی کامیابیاں صرف ایک کھلاڑی کی ذاتی محنت کی کہانی نہیں ہوتیں بلکہ ان نوجوانوں کے لیے حوصلے کا ذریعہ بھی بنتی ہیں جو اپنے محدود وسائل کے باوجود بڑے خواب دیکھتے ہیں۔ جب تربیت، رہنمائی، سہولت اور مسلسل مقابلوں کے مواقع ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو مقامی سطح کا ٹیلنٹ بڑے پلیٹ فارم تک پہنچنے کے قابل ہو جاتا ہے۔قارئین کو بتادیں کہ کشمیر میں فٹ بال بھی نوجوانوں کے درمیان خاصی مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔ اسکول کے میدانوں اور مقامی ٹورنامنٹس سے شروع ہونے والا یہ سفر اب بڑے مقابلوں تک پہنچ رہا ہے۔ جموں و کشمیر سے وابستہ کلبوں کی قومی سطح کے اہم مقابلوں میں شرکت نے مقامی کھلاڑیوں کے لیے ایسے مواقع پیدا کیے ہیں جہاں انہیں ملک کے مختلف حصوں سے آنے والی تجربہ کار ٹیموں کے خلاف کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ اس طرح کے مقابلے نوجوان فٹ بالروں کو صرف کھیل کا تجربہ ہی نہیں دیتے بلکہ انہیں بہتر حکمت عملی، پیشہ ورانہ معیار اور زیادہ سخت مسابقتی ماحول سے بھی روشناس کراتے ہیں۔ یہی تجربہ مستقبل میں ان کے کھیل کو مزید نکھارنے میں مدد دے سکتا ہے۔موسم سرما کے کھیل جموں و کشمیر کے لیے ایک قدرتی امتیاز رکھتے ہیں۔ گلمرگ کی برف پوش ڈھلوانیں پہلے ہی ملک بھر کے سیاحوں اور کھلاڑیوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ اسکیئنگ، سنو بورڈنگ اور دیگر برفانی کھیلوں کے لیے یہاں قدرتی ماحول موجود ہے۔ کھیلو انڈیا سرمائی کھیلوں جیسے مقابلوں نے اس صلاحیت کو مزید نمایاں کیا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں سے کھلاڑی جب گلمرگ آتے ہیں تو مقامی نوجوانوں کو بھی قومی سطح کے مقابلے میں اپنی صلاحیت آزمانے کا موقع ملتا ہے۔ اپنے ہی خطے کے پہاڑوں اور موسمی حالات سے واقف کھلاڑیوں کے لیے یہ ایک اہم تجربہ ہوتا ہے۔ اگر موسم سرما کے کھیلوں کی سہولیات اور تربیتی نظام کو مزید بہتر بنایا جائے تو جموں و کشمیر ہندوستان کے کھیلوں کے نقشے پر اپنی جگہ مزید مستحکم کر سکتا ہے۔کھیلوں کا فائدہ صرف میدان تک محدود نہیں رہتا۔ ایک نوجوان جب باقاعدگی سے کسی کھیل سے وابستہ ہوتا ہے تو اس میں نظم و ضبط، جسمانی صحت، ٹیم کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت، قیادت، برداشت اور ناکامی کے بعد دوبارہ کوشش کرنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ کھیل نوجوانوں کو اپنی توانائی کے مثبت استعمال کا راستہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ مقابلے کا دباؤ برداشت کرنا، جیت اور ہار کو قبول کرنا اور مسلسل اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کرنا ایسی عادات ہیں جو زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی کام آتی ہیں۔قارئین ، اس پورے عمل میں لڑکیوں اور خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ کھیلوں کے میدان میں خواتین کی موجودگی میں اضافہ ان مواقع کو وسیع کر رہا ہے جو طویل عرصے تک مختلف سماجی اور روایتی رکاوٹوں کی وجہ سے محدود رہے۔ باصلاحیت لڑکیوں کو اگر مناسب میدان، تربیت، کوچنگ اور مقابلوں کے مواقع دستیاب ہوں تو وہ بھی قومی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں ضروری ہے کہ خواتین کھلاڑیوں کو سہولیات اور تربیت کے معاملے میں برابر مواقع فراہم کیے جائیں، تاکہ کسی بھی باصلاحیت نوجوان کو صرف جنس یا سماجی رکاوٹ کی وجہ سے اپنے خواب سے پیچھے نہ ہٹنا پڑے۔کھیلوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا ایک معاشی پہلو بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کھیلوں کا مضبوط نظام صرف کھلاڑی پیدا نہیں کرتا بلکہ کوچز، تربیت کاروں، جسمانی معالجین، کھیلوں کے منتظمین، مقابلوں کا انتظام کرنے والے افراد اور کھیلوں کا سامان فراہم کرنے والوں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے۔ کامیاب کھلاڑی پیشہ ورانہ مقابلوں، سرکاری خدمات اور سرپرستی کے ذریعے اپنے لیے باقاعدہ کیریئر بھی بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کھیلوں سے وابستہ سیاحت بھی ایک اہم معاشی سرگرمی بن سکتی ہے۔ موسم سرما کے کھیل، مہم جوئی سے متعلق سرگرمیاں اور بڑے کھیلوں کے مقابلے ایسے علاقوں میں سیاحتی سرگرمی کو بڑھا سکتے ہیں جہاں روایتی سیاحت کا دائرہ محدود رہا ہے۔تاہم کھیلوں کے اس سفر کو مستقل رفتار دینے کے لیے صرف نئی سہولیات قائم کرنا کافی نہیں ہوگا۔ میدان اور کھیل ہال بن جانے کے بعد ان کی باقاعدہ دیکھ بھال بھی ضروری ہے۔ اسی طرح معیاری کوچنگ، جدید کھیلوں کی سائنس، کھلاڑیوں کی جسمانی اور غذائی ضروریات کے بارے میں رہنمائی، باصلاحیت نوجوانوں کی شفاف شناخت اور مسلسل مقابلوں میں شرکت کے مواقع بھی کھیلوں کے نظام کا لازمی حصہ ہونے چاہئیں۔ کسی نوجوان کو ایک مقابلے میں موقع مل جانا کافی نہیں؛ اس کی ترقی کے لیے مسلسل تربیت اور مسابقتی تجربہ درکار ہوتا ہے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ کھیلوں کی سہولیات صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہیں۔ جموں و کشمیر کے دیہی اور پہاڑی علاقوں میں بھی بڑی تعداد میں نوجوان موجود ہیں جن میں صلاحیت کی کمی نہیں، مسئلہ صرف مواقع تک رسائی کا ہے۔ اگر ضلع اور تحصیل کی سطح پر باقاعدہ مقابلوں، کوچنگ اور تربیتی سہولیات کا سلسلہ مضبوط کیا جائے تو وہ ٹیلنٹ بھی سامنے آ سکتا ہے جو اس وقت بڑے مراکز تک نہیں پہنچ پاتا۔ کھیلوں میں نچلی سطح سے مضبوط بنیاد قائم کیے بغیر اعلیٰ سطح کے مستقل نتائج حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔جموں و کشمیر میں کھیلوں کی موجودہ سرگرمیوں کو اسی وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ سفر اب محض محلے کے میدان یا اسکول کے سالانہ مقابلے تک محدود نہیں رہا۔ گاؤں کے میدان سے ضلع سطح کے مقابلے، وہاں سے قومی چیمپئن شپ اور پھر بین الاقوامی سطح تک پہنچنے کا ایک راستہ اب زیادہ واضح ہوتا جا رہا ہے۔ اس راستے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ادارہ جاتی تعاون، مسلسل سرمایہ کاری اور نوجوانوں کی بھرپور شرکت ضروری ہے۔کھیلوں کی اس نئی لہر کی کامیابی کا اندازہ صرف جیتے گئے تمغوں سے نہیں لگایا جا سکتا۔ ایک نوجوان اگر کھیل کے میدان میں آ کر اپنے اندر اعتماد پیدا کرتا ہے، نظم و ضبط سیکھتا ہے، اپنی صلاحیت کو پہچانتا ہے اور مستقبل کے لیے کوئی مقصد متعین کرتا ہے تو یہ بھی ایک بڑی کامیابی ہے۔ اگر جموں و کشمیر کے دور دراز علاقوں کا ایک عام نوجوان یہ محسوس کرنے لگے کہ اس کے لیے بھی قومی اور بین الاقوامی سطح تک پہنچنے کے دروازے کھلے ہیں، تو کھیلوں کا اصل مقصد پورا ہوگا۔ یہی وہ مرحلہ ہوگا جب مقامی میدان صرف کھیلنے کی جگہ نہیں رہیں گے بلکہ نئی نسل کے خوابوں کو منزل تک پہنچانے کا ذریعہ بن جائیں گے۔

 

Previous Post

کسی بھی ملک،قوم ، سماج یا خطے کی ترقی میں نوجوانوں کا ایک اہم رول ہوتاہے

Next Post

کشمیری دستکاری ، قدیم تہذیب کی مراث

از قلم :ایڈووکیٹ صفا

از قلم :ایڈووکیٹ صفا

Next Post

کشمیری دستکاری ، قدیم تہذیب کی مراث

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.