قارئین ، وادی کشمیر کے بالائی علاقوں ،بلند و بالا پہاڑیوں، دشوار گزار وادیوں اور سرحدی بستیوں میں زندگی ہمیشہ آسان نہیں رہی۔ یہاں فاصلے صرف میلوں میں نہیں ناپے جاتے بلکہ برفانی راستوں، بند دروں اور محدود طبی سہولتوں کی صورت میں بھی محسوس ہوتے ہیں۔ خاص طور پر بزرگ شہریوں کے لیے علاج معالجے تک رسائی ایک مستقل آزمائش بن جاتی ہے۔ ایسی ہی زمینی حقیقتوں کے درمیان جب طبی خدمات خود لوگوں کی دہلیز تک پہنچیں تو وہ محض ایک صحتی منصوبہ نہیں رہتیں بلکہ امید کی نئی کرن بن جاتی ہیں۔ آپریشن درشتی 2026 اسی احساس کی ایک نمایاں مثال ہے، جس کے ذریعے بھارتی فوج کی چنار کور وادی کشمیر کے دور افتادہ علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے بینائی کی بحالی کا ایک منظم طبی مشن لے کر آئی ہے۔جموں و کشمیر کے متعدد پہاڑی اور سرحدی علاقوں میں جدید طبی سہولتوں تک پہنچنا آج بھی ایک مشکل مرحلہ ہے۔ معمولی معائنہ ہو یا خصوصی سرجری، مریضوں کو طویل سفر، خراب مواصلاتی نظام اور موسمی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ مشکلات اس وقت مزید سنگین ہو جاتی ہیں جب مریض عمر رسیدہ ہو اور موتیا بند جیسی بیماری اس کی روزمرہ زندگی کو محدود کر چکی ہو۔ دھندلی بینائی صرف دیکھنے کی صلاحیت کم نہیں کرتی بلکہ نقل و حرکت، خود انحصاری اور خاندانی زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔
اسی پس منظر میں 24 ستمبر سے 30 ستمبر 2026 تک منعقد ہونے والا آپریشن درشٹی ایک ایسے منصوبے کے طور پر سامنے آیا ہے جس کا بنیادی مقصد دور دراز علاقوں کے مریضوں کو جدید آنکھوں کے علاج سے مستفید کرنا ہے۔ اس مہم کے دوران وادی کشمیر میں پہلے سے منعقدہ اسکریننگ کیمپوں میں منتخب کیے گئے 400 مریضوں کے لیے جدید موتیا بند کی سرجری کا انتظام کیا گیا ہے۔ علاج کے لیے دو اہم طبی مراکز مقرر کیے گئے ہیں، جن میں ضلع کپواڑہ کے سرحدی علاقے ٹنگدار اور سرینگر کے 92 بیس ہسپتال، بادامی باغ کنٹونمنٹ شامل ہیں۔
منصوبے کے مطابق ٹنگڈارمیں دو سو مریضوں کا آپریشن کیا جا رہا ہے، جبکہ باقی دو سو افراد کو سرینگر کے 92 بیس ہسپتال میں علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس دوہری انتظامی حکمت عملی کا مقصد یہ ہے کہ سرحدی اور پہاڑی علاقوں کے مریضوں کو غیر ضروری طویل سفر سے بچایا جائے اور انہیں نسبتاً قریب ترین مقام پر خصوصی طبی سہولت دستیاب ہو۔ ایسے خاندانوں کے لیے، جن کے وسائل محدود ہیں یا جن کے بزرگ افراد لمبی مسافت طے کرنے سے قاصر ہیں، یہ انتظام غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔یہ مہم دراصل گزشتہ برس منعقد ہونے والے ایک بڑے طبی اقدام کا تسلسل بھی ہے۔ نومبر 2025 میں شمالی کمان کے کمانڈ ہسپتال ادھم پور میں ایک خصوصی جدید آئی سرجری کیمپ منعقد کیا گیا تھا، جہاں دو ہزار سے زائد افراد کی آنکھوں کا معائنہ کیا گیا جبکہ چار سو سے زیادہ پیچیدہ آپریشن انجام دیے گئے۔ اس مہم میں موتیا بند کے علاوہ گلوکوما اور ریٹینا سے متعلق بیماریوں کا علاج بھی کیا گیا تھا۔ ان خدمات سے حاضر سروس فوجی اہلکار، ان کے اہل خانہ، ویر ناریاں اور جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے شہری مستفید ہوئے، جس سے فوجی طبی نظام کی وسیع رسائی اور مربوط انتظامات کی ایک جھلک سامنے آئی۔چنار کور کی عوامی خدمات صرف طبی میدان تک محدود نہیں رہیں۔ برسوں سے مختلف فلاحی، تعلیمی، کھیلوں اور سماجی پروگراموں کے ذریعے مقامی آبادی کے ساتھ رابطے کو مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ آپریشن سدبھاونا اسی سلسلے کا ایک اہم فریم ورک رہا ہے، جس کے تحت تعلیم، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ہنر مندی کے فروغ اور مختلف عوامی بہبود کے منصوبوں پر کام کیا جاتا رہا ہے۔ آپریشن درشٹی نے اس وسیع تر سماجی وابستگی میں صحت کے شعبے کو ایک نمایاں جہت عطا کی ہے۔
قارئین کو معلوم ہوگا کہ کسی بھی کامیاب آئی کیئر مہم کا انحصار صرف سرجری تک محدود نہیں ہوتا۔ مریضوں کی بروقت شناخت، تفصیلی طبی جانچ، آپریشن کے بعد مناسب نگہداشت اور باقاعدہ فالو اپ علاج کی کامیابی کو دیرپا بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر مریضوں کو بعد از آپریشن ضروری طبی رہنمائی فراہم کی جائے اور آنکھوں کی صحت سے متعلق آگاہی میں اضافہ ہو تو مستقبل میں بینائی سے متعلق دیگر مسائل کی بروقت تشخیص اور علاج بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔آپریشن درشٹی2026 کی اہمیت اس بات میں بھی مضمر ہے کہ اس نے جغرافیائی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے طبی خدمات کی منصوبہ بندی کی ہے۔ کشمیر جیسے علاقے میں، جہاں موسم، فاصلہ اور آمدورفت اکثر علاج میں رکاوٹ بن جاتے ہیں، وہاں خصوصی طبی سہولتوں کو لوگوں کے قریب پہنچانا خود ایک بڑا قدم تصور کیا جاتا ہے۔ ٹنگداراور سرینگر میں علاج کی تقسیم اسی سوچ کی عکاسی کرتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ مریض کم سے کم دشواری کے ساتھ اپنی بینائی واپس حاصل کر سکیں۔بینائی کی بحالی کسی فرد کے لیے محض ایک طبی کامیابی نہیں ہوتی بلکہ اس کی پوری زندگی کا رخ بدل سکتی ہے۔ جب ایک بزرگ شخص دوبارہ اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کے چہرے واضح طور پر دیکھ سکے، اپنے معمولات خود انجام دے سکے اور دوسروں پر انحصار کم ہو جائے تو اس کے اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا خاندان اس خوشی اور سہولت کا حصہ بنتا ہے۔کشمیر کی سخت جغرافیائی حقیقتوں اور دور افتادہ آبادیوں کے تناظر میں آپریشن درشٹی 2026 ایک ایسی طبی اور انسانی خدمت کے طور پر سامنے آتا ہے جو علاج، ہمدردی اور عوامی فلاح کو یکجا کرتی ہے۔ یہ مہم اس تصور کو تقویت دیتی ہے کہ جب جدید طبی سہولتیں ضرورت مند لوگوں تک پہنچتی ہیں تو وہ صرف بینائی ہی بحال نہیں کرتیں بلکہ اعتماد، خودمختاری اور بہتر زندگی کی نئی امید بھی روشن کرتی ہیں۔